رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں 92 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل رہیں: سٹیٹ بینک

کراچی: (دنیا نیوز) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ادائیگیوں سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران بینکاری نظام کے ذریعے 168.8 کھرب روپے مالیت کی 3.7 ارب ریٹیل ادائیگیاں کی گئیں، جن میں سے 92 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل پیمنٹ چینلز کے ذریعے انجام پائیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی شرح میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق موبائل بینکنگ، انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم، پوائنٹ آف سیل اور ای کامرس کے ذریعے ادائیگیوں کی تعداد 3.4 ارب تک پہنچ گئی، جبکہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے 68 کھرب روپے مالیت کی ادائیگیاں کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برانچ لیس بینکنگ، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز اور موبائل ایپس کے ذریعے 2.9 ارب ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ ان ادائیگیوں کی مالیت 19 فیصد اضافے کے ساتھ 42 کھرب روپے تک پہنچ گئی اور تعداد میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق "راست" آن لائن ادائیگی نظام کے ذریعے 742.1 ملین لین دین کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 23.3 کھرب روپے رہی۔

راست کے ذریعے فرد سے فرد (پی ٹو پی) ادائیگیوں کی تعداد 10 فیصد اضافے کے بعد 664 ملین تک پہنچ گئی، جبکہ فرد سے تاجر (پی ٹو مرچنٹ) ادائیگیوں کی تعداد 36.3 ملین سے بڑھ کر 55.9 ملین ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 20 ہزار 232 بینک برانچز اور 81 لاکھ 9 ہزار 397 بینکاری ایجنٹس نے اوور دی کاؤنٹر خدمات فراہم کیں، بینک برانچز کے ذریعے 128 ملین ادائیگیاں ریکارڈ کی گئیں جن کی مالیت 99.5 کھرب روپے رہی، جبکہ بینکاری ایجنٹس کے ذریعے 155 ملین ادائیگیاں کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 1.1 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں