روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے
ماسکو: (شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت پہلی مرتبہ روس میں ڈیجیٹل کرنسیوں (کرپٹو کرنسی) اور ڈیجیٹل مالیاتی حقوق کے استعمال اور کاروبار کے لیے جامع قانونی فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق کرپٹو ایکسچینجز، ڈیجیٹل ڈپازٹریز اور دیگر متعلقہ اداروں کی سرگرمیوں کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لایا جائے گا، جبکہ کرپٹو کرنسی خریدنے والے سرمایہ کاروں کے لیے بھی واضح قواعد و ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔
قانون کے تحت صرف وہی کمپنیاں کرپٹو ایکسچینج کی خدمات فراہم کر سکیں گی جو خصوصی سرکاری رجسٹر میں شامل ہوں گی۔ تاہم موجودہ آپریٹرز کو یکم جولائی 2027 تک رجسٹریشن مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔
قانون میں روس کے اندر کرپٹو کرنسی کو اشیا اور خدمات کی ادائیگی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ اسی طرح کرپٹو کے ذریعے ادائیگی کی تشہیر بھی ممنوع ہوگی۔
البتہ غیر ملکی تجارتی معاہدوں، مائننگ سے حاصل ہونے والی کرپٹو کرنسی اور بعض مخصوص مالیاتی لین دین میں اس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔
نئے قانون کے مطابق اگر کسی بینک کو مشکوک کرپٹو لین دین کا شبہ ہو تو وہ رقم کی منتقلی روک سکے گا، جبکہ عام سرمایہ کار سالانہ تین لاکھ روبل تک کی معروف کرپٹو کرنسیاں خرید سکیں گے۔ اس سے زیادہ سرمایہ کاری صرف کوالیفائیڈ سرمایہ کاروں کے لیے ممکن ہوگی۔
قانون کی بیشتر شقیں یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گی، جبکہ بعض انتظامی اور تکنیکی دفعات مرحلہ وار 2027 میں نافذ کی جائیں گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments