آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی سے منفی پیغام گیا، حکومت چلنے والی نہیں: چودھری یاسین
اسلام آباد:(دنیا نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چودھری یاسین نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی سے منفی پیغام گیا، یہ حکومت چلنے والی نہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے پریس کلب میں پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چودھری یاسین کا دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے حالیہ انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر میں دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلا کیا گیا اور انتخابات کو متنازع بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے انتخابات سے قبل ہی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، اگر آزادکشمیر میں شفاف انتخابات کرائے جاتے تو دنیا اور کشمیری عوام کو اچھا پیغام جاتا، تاہم انتخابی عمل کے دوران ایسے اقدامات کیے گئے جن سے کشمیر سے انتہائی منفی پیغام گیا۔
صدر پیپلر پارٹی آزاد کشمیر نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس کو آزادکشمیر کے انتخابات میں بھیجا گیا اور اس نے جانبداری کا مظاہرہ کیا، ان کے مطابق ایل اے 5، ایل اے 9، ایل اے 11 اور ایل اے 12 سمیت مختلف حلقوں میں دھاندلی کے شواہد دیکھنے میں آئے۔
چودھری یاسین نے کہا کہ ایک ایسے امیدوار کو بھی کامیاب کرایا گیا جو، ان کے بقول، برطانیہ میں ریپ کیس کا ملزم تھا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے اور پوری پوری رات ٹھپے لگائے گئے۔
اُن کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وفاقی وزیر رانا ثنااللہ ایک سال قبل ہی کہہ چکے تھے کہ آزادکشمیر میں ن لیگ کی حکومت بنے گی، ان کے مطابق جب پوچھا گیا کہ یہ کیسے ہوگا تو رانا ثنااللہ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ پنجاب کی مہاجرین کی 10 نشستیں ن لیگ کی جیب میں ہیں اور وہ 11ویں نشست سے آغاز کریں گے۔
صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے کہا کہ انتخابات سے متعلق ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی جس میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما شریک تھے، ن لیگ نے بعض امور پر اصولی اتفاق کیا، تاہم بعد میں وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی۔
چودھری یاسین کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے اور یہاں ہونے والے انتخابات پوری دنیا کے لیے اہم پیغام رکھتے ہیں، انتخابات کے ذریعے کشمیر سے جو پیغام جانا چاہیے تھا، اس کے بجائے انتہائی منفی تاثر پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت زیادہ دیر چلنے والی نہیں، کشمیر کے حالات پہلے ہی خراب ہیں جبکہ حکومتی وزراء کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔
جاوید بڈھانوی
اس موقع پر پیپلزپارٹی کے امیدوار نکیال جاوید بڈھانوی نے بھی اپنے حلقے میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حلقے کے تحصیلدار نے پری پولنگ دھاندلی کی اور مخالف جماعت سے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے لیے۔
جاوید بڈھانوی کا کہنا تھا ان کے حلقے میں ایک قتل کے واقعے کی ایف آئی آر بھی ان کے خلاف درج کی گئی، جبکہ ان کی جماعت نے سوگ منایا لیکن مقتول سے وابستہ جماعت کے کارکنوں نے مبینہ طور پر ڈھول بجائے۔
.jpg)
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں انتخابات تین مراحل میں کرانے کی ضرورت نہیں تھی، اگر دو مراحل میں بھی انتخابات کرا دیے جاتے تو بہتر ہوتا، میرپور ڈویژن میں پنجاب پولیس کے ذریعے ن لیگ نے نو نشستیں حاصل کیں۔
رہنما پیپلزپارٹی نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے حلقے کے اسسٹنٹ کمشنر کو انتخابات سے چند روز قبل تبدیل کرایا گیا، جبکہ پولنگ کے دن انہیں علم نہیں تھا کہ پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا ہے، ان کے مطابق اس اضافی ایک گھنٹے کے دوران ن لیگ نے دھاندلی کی۔
آخر میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر کے انتخابات سے متعلق تمام تحفظات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments