پشاور میں زیرِحراست ملزم قتل کرنے والے کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم
پشاور:(دنیا نیوز) انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پولیس سروسز ہسپتال میں زیرِحراست ملزم اسفندیار کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔
اے ٹی سی کے جج ولی محمد خان نے جرم ثابت ہونے پر ملزم ندیم کو سزائے موت کی سزا سنا دی،عدالت نے مقتول کے ورثا کو بطور دیت 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ ملزم کو اقدامِ قتل کے جرم میں 10 سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے جبکہ اسلحہ ایکٹ کے تحت ایک سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
اِسی طرح پراسیکیوشن کے مطابق ملزم ندیم نے پولیس سروسز ہسپتال میں زیرِحراست ملزم اسفندیار کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا، پولیس زیرِحراست ملزم کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے کر گئی تھی جہاں ندیم نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ کی۔
فائرنگ کے نتیجے میں زیرِحراست ملزم اسفندیار جاں بحق ہوگیا جبکہ پولیس اہلکار فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئے،واقعہ 28 مارچ 2024 کو پیش آیا تھا۔
واقعے کے بعد ملزم کے خلاف تھانہ شرقی میں دہشت گردی، قتل اور اقدامِ قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد مجرم ندیم کو سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments