فوجی حکمت عملی تبدیل، امریکی جارحیت کا جواب زیادہ وسیع ہوگا: ایرانی فوج
تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ملک کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل ہو گئی ہے اور حالیہ جنگ کے دوران اس تبدیلی کا اظہار تیز اور وسیع ردِعمل اور پیشگی کارروائیوں کی صورت میں ہوا۔
محمد اکرمینیا نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس جنگ کے دوران اردن میں امریکی اڈے پر حملے کے ایک موقع پر ہم نے دراصل پیشگی کارروائی کی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، دشمن کے جنگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہم نے اردن میں اس کے اڈے کو نشانہ بنایا۔
رواں سال جولائی میں 17 جولائی کو اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ جارحانہ فوجی نظریے کا ایک پہلو ہے، تاہم اس کے دیگر پہلو بھی ہیں، ان میں یہ شامل ہے کہ جارحیت کی کسی بھی کارروائی کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا اور یہ جواب یقینی طور پر جارحیت سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے اُس وقت کے کمانڈر علی عبداللہی نے بھی کہا تھا کہ مسلح افواج کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ ہو گئی ہے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں دفاعی ہتھیاروں اور سازوسامان کی پیداوار دگنی ہوگئی ہے، 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی دفاعی صنعت کے بعض حصوں کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود مقامی سطح پر ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور فوری فراہمی جاری رہی، جس نے ایران کی جنگی صلاحیت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے سنہ 1979 کے انقلاب سے قبل صرف 31 بنیادی دفاعی مصنوعات تیار کی تھیں، جبکہ اب ملک میں ایک ہزار سے زائد جدید دفاعی نظام، ہتھیار اور گولہ بارود تیار کیے جا رہے ہیں، بعض اہم دفاعی مصنوعات کی پیداوار میں جنگ کے دوران تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments