سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آج ایمان اور ہادی کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت منظور کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس عدالت کے سامنے پیش کیں اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائی کورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
وکیل کے مطابق 12 مئی کے حکم کے باوجود معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس متعدد مرتبہ ملتوی ہوا۔
فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کے لیے دائر درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسترد کردی تھی، فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں سابق جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک سابقہ ریمارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول صرف جج یا وکیل کے انتقال پر ہی کیس ملتوی ہونا چاہئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی بار بار التوا کا ذکر کرتے ہوئے فیصل صدیقی نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ان کے لیے سرپرائز تھا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وکیل ہیں، ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 24 جنوری، 2026 کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے دونوں کو پیکا کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی، ان میں دفعہ 9 کے تحت پانچ سال، دفعہ 10 کے تحت 10 سال اور دفعہ 26-A کے تحت دو سال قید شامل تھی۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے 7 فروری 2026 کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد ازاں ان کی سزا معطلی کی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا، جس کے بعد ان درخواستوں پر باقاعدہ سماعت کا راستہ کھلا، 12 مئی کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی، تاہم 26 مئی کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود معاملہ زیرِ التوا رہا، بعد میں سپریم کورٹ میں دوبارہ جلد سماعت کی درخواستیں دائر کی گئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments