ملک میں 78 سال سے بہت واقعات ہوئے، غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا: خواجہ آصف

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نےکہا ہے کہ ملک میں 78 سال سے بہت واقعات ہوئے ، ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ازالہ کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو،تین سال میں دہشت گردی کے واقعات بڑھے ہیں، ہم دہشت گردی کی مذمت کرنے کے لیے بھی متحد نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کیا یہ قرض اُن پرواجب ہے جو اپنی جان وطن کے لیے نچھاور کر رہے ہیں، کیا یہ قرض کسی اور پر واجب نہیں ہے؟ اقتدارکے حصول کے لیے اُن کے جنازوں پر بھی نہیں جاتے، ہم اُن کی قربانیوں کوبھی اون نہیں کرتے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ افسوس ہے کہ دہشت گردی کی مذمت تک نہیں کی جاتی، ملکی دفاع کے لیے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، میں نے جمعہ والے دن واقعہ ہوا تو مسلک بتایا تھا، مجھے اسلام کے کسی بھی فقہ سےکوئی اختلاف نہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے تھریٹ آگئی، میرا فون بھرا ہوا ہے، اِس سے میں کوئی خائف نہیں، اس مٹی کو اپنا وجود مانیں، اگر باہر سے بھی آئے تھے، شناخت اِس کو بنائیں، اِس شناخت کو تلاش کرنے کے لئے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صدیاں گزر گئیں تو اس مٹی سے رشتہ تو جوڑیں، اگر کسی قومیت کو اختلافات ہیں تو وہ بھی سرحد پار نہ دیکھے، ہم اپنے سپانسر باہر جا کر نہ ڈھونڈیں، ہم کفالت کے لئے کبھی واشنگٹن، کبھی ماسکو چلے جاتے ہیں۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ بھارت نے جو جنگ ہم سے ہاری، اب وہ ڈائریکٹ سٹیٹ ٹو سٹیٹ وار کی جرأت نہیں کرے گا، مودی ساری دنیا اور اپنے ملک میں بھی رُل گیا ہے، نہ وہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں پہلی دفعہ افغانستان گیا میرے ساتھ اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی تھے، افغانستان نے کہا ہم اُن کو دور کہیں لے جاتے ہیں، اِس کے لئے ہم سے دس ارب مانگا گیا، وہ گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس کے بعد جتنے بات چیت کے ادوار ہوئے ہیں انہوں نے ہماری باتیں تسلیم کی ہیں لیکن گارنٹی دینےکو تیار نہیں، کیا افغانستان کی حکومت کو نہیں پتہ یا وہ اِس میں ملوث ہیں، بھارت سامنے آکے مقابلہ نہیں کرسکتا، افغانستان کے پلو میں چھپ کے ہم پہ وار کر رہا ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ دونوں جنگیں ہماری نہیں تھیں، ایک نقطے پر ہمار اتحاد ہونا چاہیے کہ ہندوستان ہمارے خلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے، اِس ایوان کو فعال بنائیں، اس ملک میں 78 سال میں بہت سے واقعات ہوئے، ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ بھی کر سکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر صوبوں میں وسائل ہیں تو صوبوں کا پہلا حق ہے، آپ سوچ بھی نہیں سکتے موجودہ حالات میں کتنے اتحاد کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں