شوگر ملز ری سٹرکچرنگ سکیم کی منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے شوگر ملز ری سٹرکچرنگ سکیم کی منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس حسن نواز مخدوم نے شوگر ملز کی ری سٹرکچرنگ سکیم کی منظوری سے متعلق کمپنیوں کی علیحدگی کی درخواست کو منظور کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم نے 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ عوامی مفاد میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو قانون کے مطابق کمپنیوں کی آزادانہ تفتیش اور نگرانی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عوامی مفاد اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو ہر سطح پر مقدم رکھتے ہوئے ریگولیٹری ادارے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
فیصلے کے مطابق کارپوریٹ سیکٹر میں کمپنیوں کو اپنے ڈھانچے کو مؤثر اور فعال بنانے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے، عدالت نے قرار دیا کہ ری سٹرکچرنگ سکیم پر صرف اسی صورت اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے جب وہ غیر قانونی، فراڈ پر مبنی یا عوامی پالیسی کے خلاف ہو۔
عدالت نے فیصلے میں مزید کہا کہ جب قانونی تقاضے مکمل ہو جائیں تو عدالتیں فریقین کے اجتماعی تجارتی فیصلوں کا احترام کرتی ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت کا بنیادی کردار ایک امپائر کی مانند ہوتا ہے، نہ کہ اپیلٹ فورم کی طرح اور عدالتی منظوری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کمپنیوں کو قانون یا ریگولیٹری گرفت سے کوئی استثنیٰ حاصل ہو گیا ہے۔
درخواست گزار کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ری سٹرکچرنگ کا مقصد کارپوریٹ ڈھانچے کو زیادہ مؤثر اور انتظامی طور پر بہتر بنانا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سکیم کے تحت دونوں شوگر ملز اب ایک دوسرے کی ذیلی کمپنیوں کے بجائے الگ الگ قانونی حیثیت برقرار رکھیں گی، عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ری سٹرکچرنگ سکیم کی منظوری دے دی۔