منشیات ڈیلر انمول پنکی کیخلاف درج مقدمے سے قتل کی دفعات ختم

کراچی: (دنیا نیوز) بغدادی تھانے میں منشیات ڈیلر ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج قتل کے مقدمے کے حتمی چالان میں پولیس نے قتل کی دفعہ ختم کرکے قتل بالسبب کی دفعہ شامل کردی ہے۔

پولیس نے حتمی چالان میں موقف اختیار کیا کہ کیمیکل رپورٹ میں متوفی کی موت کی وجہ نشے کے باعث ظاہر ہوئی ہے جبکہ متوفی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

متوفی کے ڈی این اے کے ذریعے شناخت بھی ممکن نہیں ہوسکی کیونکہ شناخت کے لئے مطلوبہ سیمپل موجود نہیں ہے، پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن کی نشاندہی کے باوجود پولیس نے مقدمے کی تفتیش میں موجود بنیادی نقائص دور نہیں کئے۔

پراسیکیوشن نے عدم شواہد کی بنیاد پر مقدمہ داخل دفتر کرنے کی سفارش کردی ہے، پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق پولیس نے قتل کی دفعہ ختم کرکے قتل بالسبب کی دفعہ تو شامل کردی تاہم حالیہ تفتیش میں بھی قتل بالسبب کے بنیادی عناصر موجود نہیں ہیں۔

پولیس متوفی کی موت اور ملزمہ کی جانب سے تیار کردہ منشیات کے درمیان براہ راست تعلق قائم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے، پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق متوفی کا معدہ منشیات یا زہریلے مواد سے صاف پایا گیا تاہم متوفی کے خون کے نمونے میں آئس کی موجودگی سامنے آئی۔

میڈیکو لیگل افسر نے پوسٹ مارٹم کے بعد اسے نیگیٹیو آٹوپسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی تجزیے اور پوسٹ مارٹم سے موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

واقعاتی یا طبی شواہد کی عدم موجودگی میں پراسیکیوشن قتل بالسبب کے الزام کو آگے نہیں بڑھا سکتی، پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق عبوری چالان کی سکروٹنی کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، متوفی کی شناخت، متوفی کی ملزمہ انمول عرف پنکی کے رائیڈر سے منشیات خریداری کے شواہد سمیت دیگر شواہد کی نشاندہی کی گئی تھی۔

پراسیکویشن نے شواہد کے حصول تک ضابطہ فوجداری کی دفعہ 344 کے تحت التوا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مقدمے کو داخل دفتر رکھنے کی سفارش کی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...