لاہور ہائیکورٹ: چارج دیر سے فریم ہونے پر دوبارہ ٹرائل کی درخواست مسترد
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمے میں چارج دیر سے فریم ہونا قانونی بے قاعدگی ہے، تاہم محض اس بنیاد پر ٹرائل کالعدم یا ازسرنو شروع نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اس بے قاعدگی سے کسی فریق کو حقیقی نقصان پہنچا یا انصاف کی ناکامی ہوئی۔
عدالت نے ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل خارج کردی۔ جسٹس محمد جواد ظفر نے فہد انور کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا، جس میں مجسٹریٹ سیکشن 30 ماڈل ٹاؤن کورٹس لاہور کی جانب سے دو ملزمان کی بریت کو چیلنج کیا گیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ چارج فریم کیے بغیر استغاثہ کی شہادت ریکارڈ کرنا مقررہ قانونی طریقہ کار کے خلاف ہے، تاہم موجودہ مقدمے میں ملزمان پورے ٹرائل کے دوران عدالت میں موجود رہے اور ان کے وکلا نے گواہوں پر جرح بھی کی۔
عدالت کے مطابق یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ چارج دیر سے فریم ہونے کے باعث ملزمان کو کوئی حقیقی نقصان پہنچا، اسی طرح استغاثہ بھی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس بے قاعدگی کے نتیجے میں کوئی اہم شہادت ریکارڈ نہ ہوسکی یا کسی گواہ کو دوبارہ طلب کرنا ضروری تھا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ صرف اس بے قاعدگی کی بنیاد پر ڈی نوو ٹرائل کا حکم دینا استغاثہ کو اپنی خامیاں دور کرنے کا دوسرا موقع دینے کے مترادف ہوگا۔
جسٹس محمد جواد ظفر نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار عینی شاہد نہیں تھا جبکہ دیگر شواہد میں بھی تضادات موجود تھے، مبینہ آلۂ جرم بھی برآمد نہیں ہوا، آزاد گواہوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506 کے تحت مجرمانہ دھمکی کے الزامات بھی مطلوبہ معیار کے مطابق ثابت نہیں ہوسکے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کا جرم شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ٹرائل کورٹ کا بریت کا فیصلہ دستیاب شواہد کی مناسب جانچ پر مبنی تھا۔
عدالت نے چارج دیر سے فریم ہونے کے باوجود ڈی نوو ٹرائل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فہد انور کی جانب سے دائر بریت کے خلاف اپیل خارج کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments