غلط مالی فائدہ وقت گزرنے سے قانونی حق نہیں بن جاتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملازم کو متعلقہ سروس پالیسی کے خلاف دیا گیا مالی فائدہ محض طویل عرصے تک جاری رہنے کی بنیاد پر مستقل قانونی حق نہیں بن جاتا۔

عدالت نے ایل ایل بی کی ڈگری کی بنیاد پر پہلے ہی ایم اے/ایم ایس سی کے عوض حاصل کردہ دو ایڈوانس انکریمنٹس کے علاوہ مزید دو انکریمنٹس لینے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے محکمہ کی جانب سے رقم کی ریکوری اور پنشن سے کٹوتی کے اقدام کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے محمد یاسین کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور دیگر حکام کے 2 جنوری، 26 جنوری اور 22 فروری 2023 کے احکامات کو چیلنج کیا تھا، جن کے ذریعے ایل ایل بی کی بنیاد پر دی گئی ایڈوانس انکریمنٹس کی رقم واپس لینے اور پنشن سے کٹوتی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے مطابق وہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں ملازمت کے دوران ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر چکا تھا، جس پر 6 اکتوبر 2000 کے آفس آرڈر کے ذریعے 26 جولائی 2000 سے دو ایڈوانس انکریمنٹس دی گئیں، درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ فائدہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہا اور اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 31 جنوری 2023 تک ملتا رہا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انکریمنٹس کا حصول کسی فراڈ، غلط بیانی یا حقائق چھپانے کا نتیجہ نہیں تھا۔

دوسری جانب وفاق کے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو ایم اے/ایم ایس سی کی قابلیت پر پہلے ہی دو ایڈوانس انکریمنٹس دی جا چکی تھیں، اس لیے ایل ایل بی کی بنیاد پر مزید دو انکریمنٹس دینا متعلقہ پالیسی کے مطابق قابلِ قبول نہیں تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے فیصلے میں عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ پالیسی میں ایل ایل بی کی ڈگری پر دو ایڈوانس انکریمنٹس کی سہولت ہر ملازم کیلئے بلاشرط دستیاب نہیں تھی، یہ سہولت ان اہلکاروں کیلئے تھی جو ایسے اداروں میں کام کرتے ہوں جو انصاف کی فراہمی کا کام انجام دیتے ہیں یا براہِ راست اس کام سے منسلک ہوں۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار پہلے ہی ایم اے/ایم ایس سی کی بنیاد پر دو ایڈوانس انکریمنٹس حاصل کر چکا تھا، جبکہ اس بات کا کوئی مواد سامنے نہیں لایا گیا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں اس کی ملازمت یا ذمہ داریاں متعلقہ پالیسی میں بیان کردہ انصاف کی فراہمی یا اس سے براہِ راست منسلک کام کے زمرے میں آتی تھیں، چنانچہ ایل ایل بی کی بنیاد پر مزید دو انکریمنٹس کا قانونی جواز موجود نہیں تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی غیر مستحق مالی فائدے کا طویل عرصے تک جاری رہنا اسے قانونی حق میں تبدیل نہیں کرتا، عدالت کے مطابق اگر کسی مالی فائدے کی بنیاد ہی متعلقہ قانون یا پالیسی میں موجود نہ ہو تو وقت گزرنے سے اس ابتدائی قانونی خامی کا ازالہ نہیں ہو جاتا، اسی اصول کی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ محض دو دہائیوں تک انکریمنٹس وصول کرنے کی وجہ سے درخواست گزار انہیں مستقل طور پر حاصل کرنے کا حق دار نہیں بن جاتا۔

جسٹس شیریں عمران نے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار کی جانب سے فراڈ یا غلط بیانی نہ کرنے کا مؤقف اپنی جگہ، لیکن یہ امر ایسا مالی فائدہ برقرار رکھنے کیلئے کافی نہیں جو بنیادی طور پر متعلقہ قانون یا پالیسی کے تحت قابلِ ادائیگی ہی نہ ہو۔
عدالت نے قانونی طور پر درست طور پر دیئے گئے فائدے اور قانونی بنیاد کے بغیر دیئے گئے فائدے کے درمیان فرق واضح کیا، متعلقہ پالیسی میں ایسی کوئی غیر قانونی، امتیازی یا من مانی شرط ثابت نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر آئینی دائرہ اختیار میں مداخلت کی ضرورت ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار ایل ایل بی کی بنیاد پر اضافی دو ایڈوانس انکریمنٹس کا قانونی حقدار ثابت نہیں ہوسکا، جس پر عدالت نے درخواست خارج کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...