بنگلہ دیش جمہوریت کی ٹرین پر سوار، جلد منزل پر پہنچے گا: چیف الیکشن کمشنر
ڈھاکہ: (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا ہے کہ آج کی ووٹنگ ماضی کے منظم اور سٹیجڈ انتخابات اور بیلٹ باکس چھیننے کی روایت سے واضح انحراف ہے، ملک بھر میں ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ڈھاکہ میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر الدین نے کہا کہ پولنگ عملے کو سختی سے غیر جانبدار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس ملک میں اب کوئی اسٹیجڈ الیکشن نہیں ہوگا۔ ہمیں پولنگ سٹیشنوں پر قبضے اور بیلٹ باکس چھیننے کی تاریخ کو بھلا دینا ہوگا۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ووٹنگ میں خاص طور پر خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، جو الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے، اگر لوگوں کو اعتماد نہ ہوتا تو وہ ووٹ ڈالنے نہ آتے۔
ناصر الدین نے بتایا کہ شدید دھند کے باوجود دیہی علاقوں میں صبح سویرے ہی پولنگ سٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، غلط معلومات اور پروپیگنڈا خاص طور پر سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، 50 فیصد سے زائد گمراہ کن معلومات ملک سے باہر سے پھیلائی جا رہی ہیں، جہاں ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حکمت عملی جھوٹی خبروں کا مقابلہ مصدقہ معلومات سے کرنا ہے، اور مرکزی دھارے کے میڈیا سے اپیل ہے کہ وہ ووٹنگ کے عمل کے دوران درست معلومات کی فراہمی میں تعاون کرے۔
ناصر الدین نے ووٹنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن قوم کو جشن کے ماحول میں انتخابات کا تحفہ دینا چاہتا تھا، ملک بھر سے لوگ اپنے آبائی علاقوں کی طرف اسی طرح جا رہے ہیں جیسے عید منانے گھر جاتے ہیں تاکہ ووٹ ڈال سکیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش جمہوریت کی ٹرین پر سوار ہو چکا ہے اور جلد اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔
ناصر الدین کے مطابق حالیہ دنوں میں انہوں نے درجنوں بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور واچ ڈاگ تنظیموں سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے انتخابی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، مبصرین الیکشن کمیشن کے اقدامات سے بہت مطمئن ہیں۔