عراق اور یو اے ای کے قریب آئل ٹینکرز پر حملے، حزب اللہ نے اسرائیلی اڈوں پر ڈرون، میزائل اور راکٹ داغ دیئے
بغداد، تہران، ابوظہبی: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تیرہویں روز عراق کی سمندری حدود میں دو آئل ٹینکرز پر حملہ ہو گیا، متحدہ عرب امارات کے قریب بھی کنٹینر جہاز نشانہ بنا، عمان میں سلالہ پورٹ پر تیل کے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی، کویت میں ڈرون حملے سے دو افراد زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں شہری ہلاکتوں میں خوفناک اضافہ ہو گیا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں، اب تک 634 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، ہزاروں افراد زخمی ہیں اور 8 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکی و اسرائیلی حملوں سے ایران میں شہری شہادتوں کی تعداد 1300 سے بڑھ چکی ہے، 12 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 10 ہزار سے زیادہ شہری عمارات تباہ ہو چکی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوران اسرائیل میں 13 افراد ہلاک اور 2000 زخمی، عراق میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی، اردن میں 14 افراد زخمی، کویت میں 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی، بحرین میں 2 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی، قطر میں 16 افراد زخمی، متحدہ عرب امارات میں 6 افراد ہلاک اور 122 زخمی، سعودی عرب میں 2 افراد ہلاک اور 12 زخمی، عمان میں ایک شخص ہلاک اور 6 زخمی جبکہ امریکا کی طرف سے 8 فوجیوں کی ہلاکت اور 150 زخمی ہونے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیلی اڈوں پر ڈرون، میزائل اور راکٹ داغ دیئے
لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی شہروں اور فوجی اڈوں پر متعدد حملے کیے، یہ حملے ڈرون، میزائل اور راکٹوں کے ذریعے کیے گئے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں یاعرا بیرکس پر ڈرون حملہ کیا، اس کے علاوہ تنظیم نے بیت لِد فوجی اڈے، تل ابیب کے قریب گلیلوٹ بیس اور حیفا کے نزدیک اٹلیٹ بیس پر بھی میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تنظیم کے بیان کے مطابق اس نے جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی دستوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا، اس کے ساتھ ہی اسرائیلی شہر نہاریہ کی جانب ڈرون اور راکٹ بھی داغے گئے۔
سعودی وزارت دفاع کا 18 ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ
سعودی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں ملک کے مشرقی علاقے میں 18 ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں ان میں سے متعدد ڈرونز کو تباہ کیا گیا تاہم اس بیان میں یہ واضح نہیں کہ ڈرونز کس کی جانب سے داغے گئے۔
سعودی وزارت دفاع نے اپنے علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ شیبہ آئل فیلڈ کی طرف جانے والے ایک ڈرون کا راستہ بھی روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایران کی مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی تردید
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے یوسف پزشکیان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مکمل محفوظ اور خیریت سے ہیں، یہ بات انہیں رابطے میں رہنے والے چند دوستوں نے بتائی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر حملے کے پہلے روز ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے اور ان کے پیروں پر زخم آئے تھے۔
خلیجی ممالک میں حملے
کویت کے جنوبی علاقے میں رہائشی عمارت پر ڈرون حملہ ہو گیا، فجر کے وقت عمارت کو نشانہ بنایا گیا، حملے میں کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے۔
متحدہ عرب امارات کے قریب کنٹینر جہاز پر حملہ ہوا، جبلِ علی سے 35 ناٹیکل میل شمال میں جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا گیا، حملے کے بعد جہاز پر معمولی آگ لگ گئی، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق تمام عملہ محفوظ ہے۔
عراق کے پانیوں میں دو غیر ملکی ٹینکرز جو عراقی فیول آئل لے جا رہے تھے، نامعلوم حملوں کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی، حکام نے دونوں جہازوں سے کامیابی کے ساتھ 25 عملے کے ارکان کو محفوظ نکال لیا ہے۔
ریسکیو کی کوششوں کے باوجود دونوں جہازوں میں آگ بھڑکی ہوئی ہے اور ابھی آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا، ایک شخص ہلاک ہو چکا ہے۔
عمان کی سلالہ پورٹ پر مبینہ ایرانی حملے سے بڑے پیمانے پر تیل کے ذخیرے میں آگ لگ گئی۔
ایران نے عمان کی تیل تنصیبات پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمان میں تیل کی تنصیب پر حملہ علاقائی تناؤ بڑھانے کی سازش ہے، بعض اوقات امریکا اور اسرائیل اشتعال انگیز اقدام کرتے ہیں۔
جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ حقوق تسلیم کرنا ہے: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ ختم کرنی ہے تو ایران کے جائز حقوق تسلیم کرو اور نقصانات کا معاوضہ ادا کرو۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے خطے میں امن کے لئے ایران کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ اس جنگ جسے صیہونی حکومت اور امریکا نے بھڑکایا ہے اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، اسے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں۔
ایران سے جنگ جیت چکے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینٹکی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 دنوں میں ہماری فوج نے ایران کو تقریباً تباہ کر دیا، ایرانی بحریہ کو سمندر میں ڈبو دیا، فضائیہ کو بھی مکمل ختم کردیا، ایران کے 58 بحری جہاز تباہ اور 31 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ جیت چکے لیکن جلد نکلنا نہیں چاہتے، جب تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہوجاتا ایران سے نہیں جائیں گے۔
تیل بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ آئی ای اے نے پٹرولیم ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا، اس سے قیمتوں میں کمی آئے گی۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات بڑے نقصان سے دوچار
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں 11 امریکی فوجی اڈے یا فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں، سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس، قطر کے العدید ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کویت کے علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بوہرنگ بھی حملوں سے متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور جبل علی پورٹ بھی ایرانی حملوں میں متاثر ہوئے۔
سلامتی کونسل میں روس اور امریکا آمنے سامنے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پیش کی گئی روس کی جنگ بندی قرارداد امریکا کے ویٹو کے باعث منظور نہ ہو سکی۔
قرارداد کے حق میں چار ارکان نے ووٹ دیا جبکہ دو نے مخالفت کی اور نو ارکان ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہے۔
روس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں خطے میں فوری جنگ بندی اور ایران پر ہونے والے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم امریکا کے ویٹو کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
ادھر سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے خلاف ایک الگ قرارداد منظور کر لی۔
خلیجی ریاستوں کی طرف سے تیار کیے گئے مسودے کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران شریک نہیں ہوئے اور اسے جانبدارانہ قرار دیا کیونکہ اس قرارداد میں یہ ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے بعد کیے۔