امریکی صدر کے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ دینے پر نیٹو سمیت اتحادیوں سے شکوے
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ دینے پر نیٹو سمیت دیگر اتحادی ممالک سے شکوے کر دیئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے پاس اگر ایٹم بم ہوتا تو وہ ہمارے خلاف استعمال کرتا، ایران کو اگر ایٹم بم ملے تو وہ اگلے گھنٹے میں اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ پر حملہ کر دے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران تباہی کرکے مشرق وسطیٰ کی قیادت کرنا چاہتا ہے، پرتشدد لوگوں کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے چاہئے، اگر کوئی چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیارحاصل نہ کرے وہ میرے اقدام کی حمایت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی فوجی صلاحیتیں ختم کر دیں صرف کاغذوں میں شیر رہ گیا: ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں دنیا میں جنگ نہیں چاہتا، اس جنگ میں اب کچھ باقی نہیں بچا، ایران اپنے پڑوسیوں پر میزائل حملے کر رہا ہے، کچھ ممالک نے بہت مایوس کیا، نیٹو کیلئے ہم موجود رہے لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی وزیراعظم نے جنگ جیتنے کے بعد جنگی طیارے بھیجنے کا اعلا ن کیا، کیئر اسٹارمر کو بتا دیا اب آپ کے جنگی طیاروں کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ کیئر سٹارمر نے مجھے مایوس کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹو کے دفاع کیلئے اربوں ڈالر خرچ کئے مگر وہ ہمارے دفاع کے موقع پر غائب تھے، ایرانی قیادت، نیوی اور ایئر فورس کو مکمل تباہ کر دیا ہے، ایران کی بدمعاشی کے باعث ابراہیمی معاہدہ نہیں ہوسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف امریکا کی مدد نہ کی تو بہت برا مستقبل ہوگا، ٹرمپ کی نیٹو ارکان کو دھمکی
امریکی صدر نے کہا کہ کچھ ملک آبنائے ہرمز میں مدد دینے کیلئے تیار نہیں، ہم نے انہیں بچایا اور یہ ہمارے لئے پر جوش نہیں، انہوں نے چین، جاپان، کوریا اور دیگر ملکوں سے پھر مدد مانگ لی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کردیا، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دیں، ایران کا بحری، فضائی دفاع ختم ہوچکا، میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بھی زندہ نہیں، ایران میں مذاکرات کے قابل کوئی قیادت نہیں، کیا جنگ اسی ہفتے ختم ہو جائے گی؟ امریکی صدر نے سوال کے جواب میں کہا ابھی کچھ نہیں بتا سکتا، جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اینٹی فراڈ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کردیئے۔