مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، دنیا بھر میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے: روسی وزیراعظم
ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے وزیر اعظم میخائل مشوستن نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی معیشت پر مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس خطے میں کشیدگی کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کریں گے۔
ماسکو میں توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اسٹریٹجک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ گیس کی قیمتیں بھی کئی خطوں میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، ان کے مطابق یہ اضافہ عالمی تجارتی توازن کو بری طرح متاثر کر رہا ہے اور مختلف ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
روسی وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور شپنگ کے کرائے عالمی سطح پر مہنگے ہو رہے ہیں جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک اپنی مقامی منڈیوں اور صارفین کے تحفظ کے لیے برآمدات پر پابندیاں لگانے پر مجبور ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین مزید کمزور ہو رہی ہے، ان کے مطابق یہ صورتحال صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں تک پھیل جائیں گے۔
میخائل مشوسٹن نے خبردار کیا کہ موجودہ رجحانات جاری رہے تو دنیا بھر میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور عالمی معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی معیشت پر مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، روس کے وزیر اعظم میخائل مشوسٹن نے کہا ہے کہ اس خطے میں کشیدگی کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کریں گے۔
ماسکو میں توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اسٹریٹجک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ گیس کی قیمتیں بھی کئی خطوں میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، ان کے مطابق یہ اضافہ عالمی تجارتی توازن کو بری طرح متاثر کر رہا ہے اور مختلف ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
روسی وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور شپنگ کے کرائے عالمی سطح پر مہنگے ہو رہے ہیں جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک اپنی مقامی منڈیوں اور صارفین کے تحفظ کے لیے برآمدات پر پابندیاں لگانے پر مجبور ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین مزید کمزور ہو رہی ہے، ان کے مطابق یہ صورتحال صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں تک پھیل جائیں گے۔
میخائل مشوستن نے خبردار کیا کہ موجودہ رجحانات جاری رہے تو دنیا بھر میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور عالمی معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔