اقوام متحدہ، یورپ کا لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم، اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں

بیروت: (ویب ڈیسک) لبنان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

فوج نے اسرائیل پر کئی جارحانہ اقدامات کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کے مختلف دیہات پر وقفے وقفے سے گولہ باری کی گئی، جس سے وہاں کے حالات متاثر ہوئے۔

لبنانی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنوبی علاقوں کے دیہات اور قصبوں میں واپسی مؤخر کر دیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

 ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں، جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہتے ہیں۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ جنگ بندی طویل المدتی حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جنگ بندی سے خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی، تمام فریقین جنگ بندی کا مکمل احترام کریں۔

دوسری طرف یورپین کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے کہا ہے کہ جنگ بندی فوری طور پر انسانی امداد کی راہ ہموار کرے گی، معاہدے سے متاثرہ شہریوں کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

کایا کالاس نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں شہریوں کو شدید مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جنگ بندی خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں