ٹرمپ کی دھمکیوں پر شدید احتجاج، ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات مکمل ہونے کے بعد واپس روانہ

برگن سٹاک: (دنیا نیوز) سپیکر ایرانی پارلیمان باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد واپس ایران روانہ ہو گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مشترکہ اعلامیہ کچھ دیر بعد جاری کیا جائے گا، امریکی صدر کی دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے امریکی وفد سے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ایران سے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کھلا رکھنے پر اچھی پیشرفت ہوئی، بات چیت مثبت رہی، فریقین نے لبنان میں جنگ بندی مئوثر بنانے پر زور دیا۔

قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تازہ دھمکیاں سامنے آنے پر ایرانی وفد نے سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت سے احتجاجاَ انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکہ اور ایران کی اعلیٰ سطح کمیٹیوں کے درمیان 45 منٹ تک تفصیلی بات چیت ہوئی، پہلے راؤنڈ میں لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری ذخائر اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر پیشرفت کا جائزہ لینا، اعتماد سازی کے اقدامات آگے بڑھانا اور مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل کیلئے فریم ورک کو حتمی شکل دینا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں