امریکی پابندیاں، بحری ناکہ بندی: ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھ گیا
واشنگٹن: (دنیا نیوز) خلیج میں کشیدگی کے 6 ماہ بعد ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے وہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں جو فوجی طاقت سے حاصل نہیں ہوسکے، رائٹرز کے مطابق امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایران کو اب تاریخ کے سخت ترین معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
امریکی بحری ناکہ بندی اور سخت تر پابندیوں کے باعث ایران کی تیل برآمدات متاثر، غیر ملکی کرنسی تک رسائی محدود اور ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکی اور علاقائی حکام کا اندازہ ہے کہ بڑھتا ہوا معاشی دباؤ تہران کو آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ایرانی تجزیہ کار آرش عزیزی کے مطابق طاقت کا توازن کسی حد تک ایران کے خلاف جھک گیا ہے کیونکہ تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، امریکی بحری ناکہ بندی ایران کی معیشت پر خاصا اثر ڈال رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق توانائی کی عالمی منڈی نے صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے جبکہ متبادل ذرائع سے سپلائی بھی جاری رہی، جس سے ایران کی جانب سے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کی حدود سامنے آگئیں۔
تین اعلیٰ ایرانی ذرائع نے اعتراف کیا کہ امریکی معاشی مہم کا مقابلہ کرنا بتدریج مشکل ہوتا جارہا ہے، خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، تجارت میں کمی اور عوام کی آمدنی پر دباؤ ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دے سکتا ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی اور فوجی دباؤ لازمی طور پر ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments