ایفائے عہد
انسانی سیرت کے مختلف پہلو ہیں جن سے کسی بھی انسان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کچھ خوبیاں ایسی ہیں جو شخصیت کو نکھارتی ہیں اورکچھ معاملات شخصیت کو داغدار کردیتے ہیں۔ انسانی فطرت میں یہ شامل ہے کہ وہ اچھے اخلاق کو پسند اور برے اخلاق کو ناپسند کرتی ہے۔ اگر اچھے اخلاق کو مذہبی تائید بھی حاصل ہوجائے تو سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے کہ اس اچھے کردار کی مالک شخصیت کو دنیا بھی پسند کرتی ہے اور ساتھ ہی اس کے اجر میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اچھے اخلاق کیلے تو خود نبی کریم ﷺ نے نماز کے موقع پر دعا مانگی ہے: ’’اے میرے رب ،تو مجھ کو بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی کر،تیرے سوا کوئی بہتر سے بہتر اخلاق کی راہ نہیں دکھا سکتا اور برے اخلاق کو مجھ سے پھیر دے اور ان کو کوئی نہیں پھیر سکتا سوائے تیرے۔‘‘( صحیح مسلم، 201)
اچھے اخلاق میں سے ایک ایفائے عہد بھی ہے۔ انسانی تعلقات بسا اوقات باہمی وعدوں پر منحصر ہوتے ہیں اگر ان وعدوں کی پاسداری کی جائے تو معاملات ٹھیک رہتے ہیں لیکن اگر وعدوں کو وفا نہ کیا جائے اور وعدہ خلافی کسی بھی معاملے میں شامل ہوجائے تو پھر بگاڑ شروع ہوجاتا ہے ، تعلقات میں خرابی در آتی ہے اور ایک دوسرے پر اعتماد برقرار نہیں رہتا۔ کسی بھی وعدہ خلاف انسان کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جاتا ۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا وہ ایفائے عہد ہی ہے۔ حضرت انسؓ ایک حدیث روایت کرتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے تو اس میں ضرور یہ بات کہتے ’’اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔‘‘ (الترغیب والترہیب، 21) یعنی جو امانت میں خیانت کرتا ہے وہ کامل مومن نہیں اور جو وعدہ خلافی کرتا ہے اس کا دین کامل نہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کے دین کے اثرات اس کے لوگوں سے تعلقات پر بھی نظر آنے چاہئیں محض عبادات کو دین کہہ دینا کافی نہیں بلکہ کامل دین تب ہوگا جب عبادات کیساتھ ساتھ معاملات بھی ٹھیک ہوں۔ اسی لیے ایفائے عہدسے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ، ترجمہ : ’’بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘(الاسراء: 34) یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ معاہدات تو ہمارے آپس کے معاملات ہیں، خداکا اس سے کیا تعلق وہ تو صرف عبادات اور اپنے حقوق سے متعلق احکامات کا حساب لے گا، باہمی معاملات میں اونچ نیچ ہو گئی ہے تو اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ تصور غلط فہمی پر مبنی ہے بلکہ عہدو پیمان کے بارے میں جواب دہی کرنی ہو گی کہ جو وعدہ کیا تھا اس کو وفا بھی کیا تھا یا نہیں؟
قرآنِ مجید میں جابجا وعدوں کو پورا کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس حوالے سے اہلِ ایمان اور فاسقین کا طرز عمل بھی بتایا گیا ہے کہ ان دونوں گروہوں کا وعدوں سے متعلق کیا رویہ ہوتا ہے۔ ایک مقام پر کامیابی پانے والے مومنین کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی خاصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کرنیوالے ہوتے ہیں۔ (المومنون:8) اسی طرح ایک مقام پر مومنین اور فاسقین دونوں کا مختلف معاملات میں موازنہ کیا گیا ہے اور اس موازنے میں ایک بات یہ بھی شامل ہے کہ مومن وہ ہوتا ہے جو عہد کو پورا کرتا ہے اور میثاق نہیں توڑتا۔‘‘ (الرعد:20 ) لیکن فاسق اللہ سے کیے گئے عہد کو توڑنے والا ہوتا ہے۔ ( الرعد:25) انسان کا سب سے بڑا عہد ہی اپنے رب سے کیا ہوا ہے کہ وہ اسے اپنا رب مانے گا اور اسی عہد کی یاد دہانی کیلئے انبیائے کرام ؑ تشریف لاتے رہے ہیں۔ (الاعراف : 172) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے باہمی معاہدات پورا کرنے کی بطور خاص ہدایت کی ہے ۔ سید سلیمان ندویؒ بیان کرتے ہیں کہ عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول و قرار کو سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اسکی حقیقت بہت وسیع ہے۔وہ اخلاق ، معاشرت ، مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلاً، شرعاً، قانوناً اور اخلاقاًفرض ہے۔اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی، شرعی، قانونی ، اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے۔( سیرت النبیﷺ،6/ 583)
وعدہ پورا کرنا خدا کی صفت ہے اور خدا یہ صفت اپنے بندوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی کو خدائی رنگ قرار دیا گیا ہے اور اس رنگ سے بھلا رنگ اورکون ہوسکتا ہے۔ (البقرہ: 138) نبی کریم ﷺ کی سیرت میں بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ کے رسول ﷺ نے معاہدے کی پاسداری کی۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کفارِ مکہ نے نہایت سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کیا جس پر مسلمان خوش نہیں تھے ایسے موقع پرزنجیروں میں جکڑے ایک صحابی حضرت ابو جندل ؓ کسی طرح حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ معاہدے کی رو سے آپ ﷺ پر لازم تھا کہ ان صحابی کو مکہ والوں کے حوالے کردیں لیکن ان کو واپس کرنے پر مسلمان خوش نہیں تھے ۔اس موقع پر نبی کریمؐ نے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے حضرت ابو جندلؓ کو مکہ والوں کے حوالے کردیا اور فرمایا ’’ہم نے انکے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور ہم معاہدے کو توڑنے والے نہیں ہیں۔‘‘( مسند احمد، 18910) ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے6 چیزوں کی ضمانت کے بدلے میں جنت کی ضمانت دی اس میں سے ایک وعدے کی پاسداری بھی ہے۔ (صحیح ابن حبان ، 271)
ایفائے عہد کے سلسلے میں ایک پہلو یہ بھی مدِ نظر رہے کہ بچوں کے ساتھ اس معاملے میں بڑوں کا رویہ مثبت ہونا چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچہ کسی معاملے میں ضد کرتا ہے تو اس کے والدین یا بڑے اسے تسلی دینے یا چپ کرانے کی خاطر اس سے کوئی وعدہ کرلیتے ہیں لیکن اسے پورا نہیں کرتے۔اس طرح کا رویہ بچے کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے ،بچہ سمجھتا ہے کہ وعدہ کرکے اسے پورا نہ کرنا یا اس سے مکر جانا کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔ اور پھر یہی بچے بڑے ہوکر اسی طرح کا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں کہ وعدے یا معاہدے کوئی قرآن و حدیث تھوڑی ہیں کہ انہیں پورا کرنا ضروری ہو۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ وعدوں کو پورا کرنے کا حکم قرآن ِ مجید ہی نے دیا ہے۔ اس لیے اگر والدین یا بچے کے بڑے اس سے کوئی وعدہ کریں تو پھر انہیں چاہیے کہ اس وعدے کو پورا کریں یا پھر اس بچے سے وعدہ کرنا ہی نہیں چاہیے تاکہ بعد میں وعدہ پورا نہ کرنے پر مزید کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو اور بچے کی تربیت پر برا اثر نہ پڑے۔