نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پی سی بی نےنیوٹرل وینیوپرکھیلنےکی پیشکش مستردکردی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈدوبارہ پاکستان میں کھیلناچاہتاہے، کیوی بورڈ
  • بریکنگ :- ری شیڈول سیریزکیلئےمناسب ونڈوتلاش کررہےہیں،کیوی بورڈ
  • بریکنگ :- کراچی:پی سی بی سےنیوزی لینڈکرکٹ بورڈکارابطہ
Coronavirus Updates

دعوے ، کامیابی اور سیاست کے بدلتے رنگ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : امجد بخاری


آزاد کشمیر کے انتخابات کی گہما گہمی پہلی مرتبہ ملک بھر میں محسوس کی گئی،صر ف جلسے ہی لوگوں کو نہیں گرما رہے تھے بلکہ سیاسی رہنما جہاں جہاں موجود تھے وہ آزادکشمیر کے انتخابات پر بات کررہے تھے ، دعوے کیے جارہے تھے اورایک دوسرے پر تنقید ہو رہی تھی۔مہاجرین کی نشستوں پر انتخابات کے لیے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی پولنگ سٹیشن بنے تھے ان انتخابات میں مقامی سیاستدان متحرک تھے اور اپنی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی متحر ک رکھے ہوئے تھے، سیاسی جماعتوں خصوصاً اپوزیشن جماعتوں نے اتنی بھر پور مہم چلائی کہ لوگوں نے محسوس کیا کہ شاید آزاد کشمیر کے انتخابات میں روایت بدلنے جارہی ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کوئی مخلوط سیٹ اپ لانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ایسا نہ ہو سکا البتہ اب آزادکشمیر کے انتخابی نتائج بھی ملک پر اثر انداز ہو رہے ہیں ۔

جنوبی پنجاب کی صورتحال دیکھ لیتے ہیں، انتخابات سے قبل عید تھی اور جنوبی پنجاب میں روایتی طور پر سیاسی رہنما عید اپنے آبائی علاقے میں مناتے ہیں، وہ سیاسی سرگرمیوں میں کہیں بھی مشغول ہوں عید کے موقع پر اپنے آبائی علاقوں میں ضرورپہنچ جاتے ہیں۔ سیاسی رہنما نمازعید ادا کرتے ہیں،میڈیا سے گفتگو کرتے ہیںاور پھر اپنی رہائش گاہوں پر عوام سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔  وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہوں یا یوسف رضا گیلانی، مخدوم جاوید ہاشمی ہوں یا فخر امام یا پھر دیگر رہنما سب کا یہی اندازِ سیاست ہے اور عید منا نے کا یہی طریقہ  ہے سو اس مرتبہ بھی سیاسی رہنما اپنے علاقوں میں تھے اور ان کی گفتگو میں آزادکشمیر کے انتخابات چھائے ہوئے تھے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سید یوسف رضا گیلانی کا دعویٰ تھاکہ اگر آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی ہی کامیا ب ہوگی، یہی نہیں انہوں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا تھاکہ پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی۔ ادھر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی حسب روایت عید اجتماع سے خطاب کیا ، وہ اپنی انتہائی مصروفیت کے باوجود ملتان پہنچے اور عید منانے کے بعد چین کے دورے پر روانہ ہوگئے، انہوں نے بھی اپنے خطاب اور گفتگومیں آزادکشمیر انتخابات پر بات کی اور بھارتی روئیے کو ہدف تنقید بنا یا۔

مسلم لیگ (ن )کے کارکن اور رہنما بھی آزادکشمیر انتخابات سے بہت پُر امید تھے اور لمبے چوڑے دعوے کیے جارہے تھے ، عہدیدار آزادکشمیر کے جلسوں کو دیکھ کر بہت زیادہ پُر اعتماد تھے اور اس رجحان کو بھی ماننے کیلئے تیار نہیں تھے کہ آزادکشمیر میں وہی جماعت حکومت بناتی ہے جس کی مرکز میں حکومت ہوتی ہے۔

اب انتخابات ہوجانے کے بعد اس کے نتائج بھی ملک بھر کی سیاست پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور یہ سب قومی سیاست میں ہی نہیں بلکہ مقامی سیاست میں بھی منعکس ہو رہا ہے، آزادکشمیر میں11 نشستیں جیتنے کے بعد پیپلز پارٹی پُر اعتماد ہو گئی ہے اور اس کا کارکن یہ محسوس کر رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کا کردار بہت اہم ہوگا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کیوں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں براہ راست شرکت کی تھی اور جلسوں سے خطاب کیا تھا اس لیے وہ بھی اس کامیابی کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پارٹی کی ساکھ بہتر کرنے، ناراض جیالوں کو منانے اور پارٹی کی تنظیم سازی کا ٹاسک ان کے حوالے ہے۔ اس لیے وہ اور ان کے ساتھی بہت پُر امید ہیں کہ وہ نئے قومی انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کی پرانی پوزیشن بحال کر لیں گے اور اب آزادکشمیر میں11 نشستوں کا جیتنا انہیں اس حوالے سے مدد کر رہا ہے اور پیپلز پارٹی کا مایوس کارکن اور عہدیدار بھی ان نتائج سے  پُرامید ہوکر اچھے مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہے ، یوسف رضا گیلانی جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو کتنا متحرک کر پاتے ہیں یہ ابھی سامنے آنا ہے۔ 

حکومت کو ضمنی انتخابات میں جو جھٹکے سہنے پڑے تھے آزادکشمیر کے انتخابات سے ان کا کسی حد تک ازالہ ہوگیا ہے ۔پی ٹی آئی کے کارکنوں میں نئی تحریک پیدا ہوئی ہے اور وہ عہدیدار جو لوگوں کو جواب دیتے دیتے تھک گئے تھے اب کچھ توانا اور خوش دکھائی دیتے ہیں، یہ اثرات مقامی سیاست پر بھی محسوس ہو رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو جس کڑی تنقید کا سامنا تھا اس میں قدرے کمی آئے گی ، لیکن یہ سب عارضی ہوگا اگر گورننس اور مہنگائی جیسے اہم ایشو پر حکومت لوگوں کی تشفی نہیں کرتی۔ دھیرے دھیرے یہ انتخابی مرحلہ بتدریج پیچھے چلا جائے گا اور ایک مرتبہ پھر حکومت کو عوام کی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، حکومت کو اس کا ادراک بھی ہے اور احساس بھی اور وہ اپنے تئیں اقدامات کرتی بھی نظر آتی ہے لیکن ان سے مسائل حل ہونہیں پارہے۔

مسلم لیگ (ن )اس وقت پھر عجیب فیز میں داخل ہوگئی ہے ، گوآزاد کشمیر کے انتخابات میں پارٹی نے 6 نشستیں تو حاصل کی ہیں لیکن یہ توقعات سے کم ہیں ۔مسلم لیگ( ن) نے اپنے کارکنوں کی توقعات میں خود ہی اضافہ کیا تھا اور تاثر دیا جارہا تھا کہ وہ اپ سیٹ کرتے ہوئے آزادکشمیر میں حیران کن نتائج دے گی، اب مختلف نتائج آنے پر مسلم لیگ (ن )کے مقامی سیاسی رہنما اور کارکن کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں وہ دلچسپ ہے۔ کارکن بظاہر لیڈر شپ کی زبان بول رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے ۔مسلم لیگ( ن) کو جان بوجھ کر ہرایا گیا ان کی جماعت کے لوگ توڑ کو پی ٹی آئی کو مضبوط کیا گیا اور وہ ان انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ۔ لیڈر شپ بھی یہی کہہ رہی ہے لیکن مقامی سطح پر اس خیا ل کو بھی تقویت ملی ہے کہ آزادکشمیر کے انتخابی نتائج مسلم لیگ( ن) کے اندر کھینچا تانی اور اندرونی سرد جنگ کا نتیجہ ہیں مسلم لیگ( ن) کے عہدیدار کھل کر اظہار کر رہے ہیں کہ جب تک نواز شریف اور شہباز شریف کی سوچ ایک نہیں ہوتی اور ان کے مابین اختلافات ختم نہیں ہوتے ان کیلئے سیاسی طور پر آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ سیاسی رہنما اب اپنی محفلوں میں اس پر کھل کر اظہار کررہے ہیں اور اپنی ہی قیادت پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ۔انہیں امید بھی ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل انکی پارٹی کے اندر موجود یہ اختلافات ختم ہو جائیں گے اور سیاسی جماعت کو ایک متفقہ سمت میسر ہوگی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لمبی فراکس کا بدلتا فیشن ،ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جائے ہیں

یوں تو لمبی قمیضیں اور فراکس گزشتہ کئی سال سے فیشن میں’’اِن‘‘ ہیں لیکن آج کل خاص طور پرگھیر دار اور فلور لینتھ یعنی پاؤں تک آنے والے ڈریسزبھی فیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ماڈرن ڈریسرز میں بھی ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جا رہے ہیں۔ویسے بھی لمبی فراکس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ جب لڑکیاں بالیاں انہیں زیب تن کرتی ہیں تو ان کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر خواتین موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے پہننے کے انداز کو بھی بدلنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ وہ بھی وقت کے ساتھ الگ نظر آئیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے۔بناؤ سنگھار کرنا، اپنی جلد کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ۔ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں ۔

جلد کو خوبصورت اور چمکدار بنانے والی ہربل وائٹنگ کریم :خود تیار کریں

افرا تفری کے اس دور میں خواتین اپنے چہرے کو نکھارنے کیلئے پوری طاقت صرف کر دیتی ہیں۔ جلد کو خوبصورت،نکھری اور چمکدار بنانے کیلئے نسخے آج بھی اتنے ہی کار آمد ہیں جتنے آج سے صدیوں پہلے تھے۔اگر آپ خود پر تھوڑی توجہ دیں تو آپ کا رنگ بھی دنوں میں نکھر سکتا ہے۔ رنگت نکھارنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ داغ دھبوں اور جھریوں سے بھی پاک رہتی ہے۔

خبردار!میک اپ کے ساتھ ورزش نہیں کریں،کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہوجاتے ہیں

بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے چہرے پر مکمل میک اپ کے ساتھ ورزش کرتی ہیں اور جلد پر اس کے منفی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ۔ طبی ماہرین منع کرتے ہیں کہ ورزش کے دوران چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں ۔

آج کا پکوان سبزیوں کے چپلی کباب

اجزاء: پالک 200گرام، آلو دو عدد درمیانے، گاجر ایک عدد، مٹر ایک پیالی، سیم کی پھلی دس سے بارہ عدد، نمک حسبِ ذائقہ، ادرک لہسن پسا ہوا ایک چائے کا چمچ، پیاز دو عدد درمیانی، ٹماٹر دو عدد درمیانے، کٹی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، بھنا کٹا دھنیا زیرہ ایک چائے کا چمچ، پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ، انار دانہ ایک چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، مکئی کا آٹا دو کھانے کے چمچ، کوکنگ آئل حسبِ ضرورت۔

نیوزی لینڈٹیم کی کھیلے بغیر واپسی، سازش یا کچھ اور؟ سیریز کی اچانک منسوخی کے بعد بھارتی صحافی نندن مشرا کی خبر کو اُ ن کے میڈیا نے خوب نشر کیا

معلوم نہیں نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ بورڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سُنے گا،چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ,کیوی کرکٹرز ، آفیشلز اورسیکیورٹی حکام پاکستان کی جانب سے بہترین انتظامات اور فول پروف سیکیورٹی کی مسلسل تعریف کرتے رہے

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔