نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پنجاب میں 60روزکیلئےرینجرزتعینات کرنےکااعلان
  • بریکنگ :- آرٹیکل 147کےتحت پنجاب رینجرزکو60روزکیلئےطلب کیا گیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب رینجرزکوامن وامان قائم رکھنےکیلئے60روزکااختیاردیاگیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم کےلوگ واپس مسجدرحمت اللعالمین ﷺچلےجائیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت جہاں چاہے رینجرزکواستعمال کرسکتی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- فرانس کاسفارتخانہ بند نہیں کرسکتے،وزیرداخلہ شیخ رشید
  • بریکنگ :- فرانس کاسفیرپاکستان میں نہیں ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم نے راستے کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےسوشل میڈیاپرجھوٹی خبروں کاپھیلاؤروکنےکی ہدایت دی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مولانافضل الرحمان صاحب!حکومت کہیں نہیں جارہی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- خدشہ ہےکالعدم قراردی گئی تنظیم عالمی دہشتگردتنظیموں میں نہ آجائے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ان کےکیسزپھرہمارے بس میں نہیں ہوں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- سادھوکی میں پولیس پرفائرنگ کی گئی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- سادھوکی میں 3اہلکارشہید،70زخمی ہوئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مظاہرین کوروکتےہوئے3جوان شہیدہوئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- 70زخمیوں میں8اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے،شیخ رشید
Coronavirus Updates

میں کس کے ہاتھ اپنا لہو تلاش کروں۔۔۔تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے ،مصطفٰی زیدی منفرد اسلوب کا شاعر

خصوصی ایڈیشن

تحریر : ارشد لئیق


مصطفی زیدی بیسویں صدی کی اردو شاعری کے معروف و مقبول شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔اردو ادب کی تاریخ میں بے شمار شعراء ایسے ملتے ہیں جن کی شاعری کے کئی رنگ ہیں۔ ان میں سے ایک نام مصطفیٰ زیدی کابھی ہے، جنہوں نے اپنی خوبصورت اور مؤثر شاعری سے لاکھوں قارئین کو متاثر کیا۔ مصطفیٰ زیدی کے حوالے سے کچھ لکھنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔ آسانی کی بات کریں تو ان کی جمال پرستی، رومانوی زندگی اور شاعری پر اظہار خیال کرکے کہانی مکمل کی جا سکتی ہے ۔ اگر دشواری کو دیکھیں تو ان کی شخصیت کی جذباتی پیچیدگیوں، نفسیاتی الجھنوں اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کا منظر نامہ سامنے رکھ کر کچھ لکھنا پڑتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔

آج پاکستان کے معروف اردو شاعر مصطفیٰ زیدی کی 51ویں برسی ہے، وہ 16اکتوبر 1930ء کو بھارتی شہر الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کی۔ نو عمری میں ہی اپنی عمدہ شاعری کے ذریعے لوگوں کو حیران کر دیا تھا اور محض انیس سال کی عمر میں ’’موج مری صدف صدف‘‘ کے عنوان سے پہلا شعری مجموعہ شائع کروا دیا۔ 1952ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کیا۔ کچھ عرصہ اسلامیہ کالج پشاور اور اسلامیہ کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرر کے طور پر کام کیا۔ 1954ء میں سول سروس کا امتحان پاس کرکے اس نظام کا حصہ بنے جسے عرف عام میں بیوروکریسی کہتے ہیں۔ 

اس میں شبہ نہیں کہ وہ ایک انتہائی جذباتی اور جمال پرست انسان تھے اور ایسا لگتا ہے کہ عشق و محبت ان کے لئے محض ایک کھیل تھا۔ان کی محبتوں میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بیٹی سروج بالا سرن بھی شامل تھی اور اس سے عشق کی پاداش میں انہیں الہٰ آباد بھی چھوڑنا پڑا۔اسلامیہ کالج پشاور میں ملازمت کے دوران میں بھی وہ ایک امریکن کولیگ کی محبت میں گرفتار ہو گئے اور وہاں سے بھی ان کو نکلنا پڑا۔جرمن خاتون ویرا فان سے ان کی شادی بھی محبت ہی کا نتیجہ تھی۔ ویرا سے ان کی ملاقات انگلستان میں ہوئی اور چند ملاقاتوں کے بعد ہی مصطفیٰ زیدی نے انہیں شادی کی پیشکش کر دی مگر وہ ان کی طرح جذباتی نہیں تھیں۔ انہوں نے اپنی والدہ کی اجازت کے بغیر شادی سے انکار کیا۔ چنانچہ وہ جرمنی واپس گئیں، اپنی والدہ سے اجازت لی اور یوں مصطفیٰ زیدی سے ان کی شادی ہوئی اور وہ ان کے ساتھ پاکستان آگئیں۔ ان کے دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ مصطفیٰ زیدی کی نظم ’’اعتراف‘‘ ان کی اہلیہ کی محبت، وفا، خلوص اور ایثار کا اعتراف ہے۔

مصطفی زیدی کی بنیادی حیثیت شاعر کی ہے اور شاعری میں گو  انہوں نے غزلیں کہی ہیں، مگر اُن کا غالب رجحان نظم کی طرف رہا۔بہت کم عمر پائی مگر بہت سے شعرا سے زیادہ لکھا اور عمدہ لکھا، 40 سال کی زندگی میں ان کے چھ مجموعے شائع ہوئے۔بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’موج مری صدف صدف‘‘ ، ’’روشنی‘‘،’’ شہر آذر‘‘،’’ زنجیریں‘‘،’’ قبائے ساز‘‘،’’ گریبان‘‘ اور ’’کوہ ندا‘‘ (جو ان کی وفات کے بعد چھپا) شامل ہیں۔

مصطفیٰ زیدی کی زندگی اور شخصیت ان کی جذباتی زندگی کے بوجھ تلے اس قدر دبی نظر آتی ہے کہ ان کی شاعری کا ذکر قدرے کم کم ہوتا ہے، جب کہ وہ اپنے عہد کے ایک اہم اور با کمال شاعر تھے۔ بنیادی طور پر انہیں نظم کا شاعر کہا جاتا ہے تاہم ان کی غزلیں بھی کم معیار کی نہیں ہیں ۔

1969ء میں یحییٰ خان کا مارشل لا لگا تو پہلے معطل ہوئے اور پھر ملازمت سے فارغ کر دیے گئے جس کے نتیجے میں وہ بے پناہ ذہنی اور مالی دشواریوں کا شکار ہوئے۔ ’’کوہ ندا‘‘ میں بہت سی نظمیں اس عہد ابتلا کی یاد دلاتی ہیں، اسی زمانے میں وہ پراسرار موت سے دوچار ہوئے۔ جس کے بارے میں آج بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے خود کشی کی یا انہیں قتل کیا گیا۔ عدالتی طور پر ان کی موت کو خود کشی قرار دیا گیا تاہم ان کے کئی جاننے والے اسے تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ اسے قتل قرار دیتے ہیں، عجیب اتفاق ہے کہ ان کا یہ معروف شعر بھی اس اندھی واردات کی طرف اشارہ کرتا ہے:

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

27 اکتوبر : یوم سیاہ

وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔