حقوق العباد اور بزرگان دین صالحین بندوں کے حقوق کے حوالے سے ہروقت فکر مند رہتے

تحریر : مفتی محمد قمر الزمان


دنیا سے کئی قومیں کثرت حسنات کے ساتھ غنی نکلیں گی اور قیامت میں مفلس ہوں گی کہ حقوق العباد میں سب حسنات کھو بیٹھیں گی

جن کبیرہ گناہوں کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، مثلاً نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی میں کوتاہی، سچی توبہ کرنے پراللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔اگر ان گناہوں کا تعلق‘ حقوق العباد سے ہے مثلاً کسی شخص کا سامان چرایا، یا کسی شخص کو تکلیف دی یا کسی شخص کا حق مارا، تو قرآن وحدیث کی روشنی میں تمام علماء و فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی معافی کیلئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جس بندے کا ہمارے او پر حق ہے، اس کا حق ادا کریں یا اس سے حق معاف کروائیں، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ واستغفار کیلئے رجوع کریں۔

بزرگان دین اس حوالے سے ہمیشہ ہی فکر مند رہتے تھے،سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے یہ بھی تھا کہ وہ حقوق العباد سے بہت ڈرتے تھے خواہ معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو۔ خصوصاً جب اپنے اعمال کو نہایت کم سمجھتے توخوف و کرب سے کانپنے لگتے کہ ہمارے پاس تو کوئی ایسی نیکی نہیں جسے بروز قیامت اس کے حق کے بدلے دیا جاسکے۔ رسول خدا ﷺنے صحابہ کرام کو پوچھا ’’کیا تم جانتے ہو کہ میری امّت میں سے قیامت کے دن مفلس کون ہوگا؟ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! جس کے پاس درہم ودینار نہ ہو وہ مفلس ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا: مفلس وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج لے کر آئے اور اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون کیا ہو، کسی کو مارا ہو (تو مدعی آجائیں اور عرض کریں کہ پروردگار اس نے مجھے گالی دی، اس نے مجھے مارا، اس نے میرامال کھایا، اس نے میرا خون کیا۔ تو حق سبحانہ وتعالیٰ اس کی نیکیاں ان مدعیوں کو دید ے تو اگر نیکیاں ختم ہو جائیں کوئی نیکی باقی نہ رہے اور مدعی اگر باقی ہوں تو ان کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے۔ پھر اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ یعنی حقیقت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے روز باوجود نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ہونے کے پھر بھی خالی رہ جائے۔ (صحیح مسلم :5281) ، حضرت عبداللہ بن انیس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا کہ کوئی دوزخی دوزخ میں اور کوئی جنتی جنت میں داخل نہ ہو جب تک وہ حقوق العباد کا بدلہ نہ ادا کرے۔ (تنبیہ المغترین،ص58)

حضرت وہب بن منبہؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان نے ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کی پھر ستر سال عبادتِ الٰہی میں شب و روز لگاتا رہا، دن کو روزہ رکھتا ،رات کو جاگتا کسی سایہ کے نیچے آرام نہ کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا۔ جب وہ مرگیا،اس کے بعض بھائیوں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خدا نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟اس نے کہا کہ خدا نے میرا حساب لیا پھر سب گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیردانتوں میں خلال کیا تھا، اس کے سبب میں آج تک جنت سے محبوس ہوں۔ (تنبیہ المغترین،ص58) یعنی روکا گیا ہوں۔ 

ہر اطاعت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہیے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہو جائے اور ہر بدی سے بچنا چاہیے کیونکہ معلوم نہیں کہ وہ کس بدی پر ناراض ہو جائے۔ خواہ وہ بدی کیسی ہی صغیر ہو مثلاً کسی کی لکڑی کا خلال کرنا ایک معمولی سی بات ہے یا کسی ہمسایہ کی مٹی سے اس کی اجازت کے بغیرہاتھ دھونا گویا ایک چھوٹی سی بات ہے مگر چونکہ ہمیں معلوم نہیں اس لئے ممکن ہے کہ اس برائی میں حق تعالیٰ کی ناراضگی مخفی ہو تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہیے۔

حضرت حارث محاسبی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو غلہ جات کا ماپنے والا تھا ،اس نے اس کام سے توبہ کی اور عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوگیا، جب وہ مرگیا تواس کے بعض احباب نے اس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ اس نے کہا کہ میرے ماپ میں (یعنی اس ٹوپا میں جس سے غلہ ماپتا تھا) کچھ مٹی سی بیٹھ گئی تھی۔ جس کا میں نے کچھ نہ کیا تو ہر ٹوپا ماپنے کے وقت بقدر اس مٹی کے کم ہوجاتا تھا تو میں اس قصور کے سبب عتاب میں ہوں۔ (تنبیہ المغترین،ص58)،اسی طرح ایک شخص اپنی ترازو کو مٹی وغیرہ سے صاف نہیں کرتا تھا ،اسی طرح چیز تول دیتا تھا، جب وہ مرگیا تو اس کو قبر میں عذاب شروع ہوگیا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اس کی قبر میں سے چیخنے چلانے کی آواز سنی تو بعض صالحین نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی۔تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کو دفع کیا۔(تنبیہ المغترین،ص58)

    حضرت ابو میسرہؒفرماتے ہیں کہ ایک میت کو قبر میں عذاب ہورہا تھا اور اس سے آگ کے شعلے ظاہر ہوئے تو مردہ نے پوچھا: مجھے کیوں مارتے ہو؟ فرشتوں نے کہا کہ تو ایک مظلوم پر گزرا، اس نے تجھ سے استغاثہ کیا مگر تونے اس کی فریاد رسی نہ کی(تنبیہ المغترین، ص59)۔

شریح قاضیؒ فرمایا کرتے تھے کہ تم رشوت سے بچا کرو کہ رشوت  آنکھ کو اندھا کردیتی ہے۔ حضرت امام حسن بصریؒجب کسی حاکم کو دیکھتے کہ وہ مساکین پر کچھ تصدق کرتا ہے تو آپ فرماتے’’ اے صدقہ دینے والے تونے جس پر ظلم کیا ہو اس پر رحم کراور اس کی داد رسی کر کہ یہ کام صدقات سے بہت بہتر ہے‘‘ (تنبیہ المغترین، ص59)۔ 

حضرت میمون بن مہرانؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی پر ظلم کرے پھر اس گناہ سے نجات حاصل کرنا چاہے تو چاہیے کہ ہر نماز کے بعد اس شخص کے حق میں دعائے مغفرت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔ (تنبیہ المغترین،ص59)،یہ اس صورت میں ہے کہ وہ مظلوم فوت ہوجائے اوراگر زندہ ہو تو اس سے معاف کرائے۔ حضرت میمون بن مہران ؒ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات نمازی نماز میں اپنے آپ پر لعنت کہتا ہے اور وہ جانتا نہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ وہ پڑھتا ہے: ’’ظالموں پر اللہ کی لعنت‘‘ (پ12 ،سورۃ ہود:18) اور وہ خود ظالم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے نفس پر گناہوں کے ذریعے ظلم کیا ہوتا ہے اور لوگوں کے اموال ظلماً اس نے لیے ہوتے ہیں۔ (تنبیہ المغترین،ص59)

حضرت کعب احبار ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن لوگوں پر ظلم کرتاہے آپ نے فرمایا کہ تو ڈرتا نہیں؟ایسے دن میں ظلم کرتا ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اور جس دن تیرا باپ آدم علیہ السلام پیدا ہوا ۔ (تنبیہ المغتر ین، ص60)، حضرت احمد بن حرب ؒ فرماتے ہیں کہ دنیا سے کئی قومیں کثرت حسنات کے ساتھ غنی نکلیں گی اور قیامت میں مفلس ہوں گی کہ حقوق العباد میں سب حسنات کھو بیٹھیں گی۔(تنبیہ المغترین ، ص 60 )،

حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں: ’’اگر تو ستر گناہ اپنے خالق کے ہوئے خالق کے دربار میں پیش ہو تویہ اس سے بہتر ہے کہ تو مخلوق کا ایک گناہ لے کر جائے۔ (تنبیہ المغترین، ص 60)، یعنی حقوق العباد میں ایک گناہ خدا تعالیٰ کے ستر گناہ سے زیادہ ہے۔ 

قارئین غورفرمائیں کہ بزرگانِ دین کو حقوق العباد کا کس قدر خوف تھا تو ہمیں بھی چاہیے کہ ان بزرگوں کے اتباع میں حقوق العباد سے بچتے رہیں اور حتی الوسع اپنی حیاتی میں حقوق العباد کی نسبت اپنا معاملہ صاف کرلینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوبؐ کے صدقے ہمیں قرآن وحدیث پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔