داڑھی ، پاکستانی اداکاروں کا نیا سٹائل

تحریر : مرزا افتخار بیگ


ترکی ڈراموں کے بعد پاکستانی اداکاروں نے اس انداز کو اپنایا ، ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اداکاروں میں داڑھی کا رجحان عام ہوگیا

 ہیئر اسٹائل کے حوالے سے دنیا بھر میں دلیپ کمار کے بعد وحید مراد نے جو شہرت پائی وہ کسی اور اداکا ر کے حصے میں نہیں آئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ فنکاروں کے انداز بھی بدلتے رہے۔ایک زمانہ تھا جب پاکستانی فلمی دنیا پر کلین شیو ہیروز راج کیا کرتے تھے۔وحید مراد، محمد علی، ندیم، شاہد سمیت متعدد کلین شیو ہیروز کی مقبولیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔آ ج چھوٹی سکرین ہو یا بڑی، داڑھی والے ہیروز کا ظہور ہو چکا ہے۔ داڑھی والے ہیرو جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ سُنا، اس وقت اداکاری کر رہے ہیں۔ 

موجودہ دور میں ہر اداکار داڑھی کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔دراصل ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سبھی ہیروز نے یہ چلن عام کر دیا ہے۔ آج کے کامیاب داڑھی والے اداکاروں نے ہیرو کا تصور ہی تبدیل کر دیا ہے۔کسی بھی ڈرامے میں کردار کی ڈیمانڈ کے مطابق کوئی بھی روپ اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن جب یہی روپ ان کی حقیقی زندگی کا حصہ بن جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ 

گزشتہ چند برسوں میں ریلیز ہونے والی فلموں پر نظر دوڑائیں توہمیں داڑھی والے ہیرو ہی اپنی دلرُبا ہیروئن کے سامنے بغیر داڑھی کے نظر نہیں آتے۔ اداکار شان کی شخصیت کلین شیو میں زیادہ پسند کی جاتی ہے مگر وہ بھی فلم ’’وار‘‘ میں داڑھی کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ فلم ’’نا معلوم افراد‘‘ لالی ووڈ کے نئے دور کی بہترین فلموں میں شمار کی گئی تاہم اس میں اداکار فہد مصطفی بھی ہلکی داڑھی رکھے ہوئے تھے۔ ’’جو انی پھر نہیں آنی‘‘، ’’بن روئے‘‘ میں ہمایوں سعید بھی داڑھی کے ساتھ نظر آئے۔ اداکار، پروڈیوسر یاسر حسین فلم ’’لاہور سے آگے‘‘ کا مرکزی کردار تھے، جو پہلے ہی شائقین کیلئے سوالیہ نشان تھا تاہم وہ بھی فلم میں داڑھی رکھ کر خود کو حسین تصور کرتے رہے۔ ڈرامہ سیریل ’’دل بنجارا‘‘ میں ہیرو کو دیکھ کر گمان نہیں ہوتا کہ یہ صاحب ڈرامے کا مرکزی کردار ہیں، ان کی بے ڈھنگی داڑھی عجیب لگ رہی ہے۔ ’’تم ملے‘‘، ’’سنگ مرمر‘‘، ’’کچھ نہ کہو‘‘، ’’خدامیرا بھی ہے‘‘، ’’مورے سیاں‘‘، ’’بے خودی‘‘، ’’میں مہرو ہوں تیری‘‘، ’’سنگ ماہ‘‘ جیسے ڈراموں میں بھی ہیرو داڑھی رکھے ہوئے ہیں۔ 

بعض اداکاروں اور ماڈلز کو کلین شیو میں شہرت اور پہچان ملی لیکن وہ بھی موجودہ رنگ میں رنگے گئے اور داڑھی کا انتخاب کر لیا۔ اداکار فواد خان کو کون نہیں جانتا؟ گلوکاری سے اداکاری تک کا سفر فواد نے جس کامیابی سے طے کیا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں۔ اپنے کامیاب ڈرامے ’’ہمسفر‘‘ اور ’’زندگی گلزار ہے‘‘ میں فواد کے مداحوں نے انہیں کلین شیو میں دیکھا اور پسند کیا تھا لیکن اداکار نے اب داڑھی رکھ لی ہے۔ وہ بھارتی اداکارہ سونم کپور کے ساتھ فلم ’’خوبصورت‘‘ میں داڑھی کے ساتھ ہی جلوہ گر ہوئے۔ ہمایوں سعید بھی کلین شیو ہی مقبول ہوئے تھے مگر انہوں نے بھی چہرے پر مستقل داڑھی سجا لی ہے۔ فیس بک پر جاری اپنے متنازع بیانات کے باعث حمزہ علی عباسی خبروں میں تو رہتے ہی ہیں،ان کی دلکش شخصیت ان کی فلموں اور ڈراموں میں نظر آتی ہے۔ وہ بھی اب داڑھی کے ساتھ اداکاری کر رہے ہیں۔ ہر طرح کا کردار اداکرنے والے فیصل قریشی نے اپنے مقبول ڈرامے ’’بشر مومن‘‘ میں داڑھی کے ساتھ نیا روپ اپنایا تھا، اس طرح وہ بھی داڑھی والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے حالانکہ پر ستار انہیں کلین شیو میں زیادہ پرکشش مانتے ہیں۔

فیشن انڈسٹری پر نظر ڈالی جائے تو پاکستا نی فیشن انڈسٹری کے بڑے ڈیزائنرز میں سے ایک علی ذیشان ہیں جو کہ اپنے بنائے گئے خوبصورت ملبوسات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، وہ بھی اپنی داڑھی کی وجہ سے مارکیٹ کو لبھانے کی جستجو کرتے رہتے ہیں۔ عباس جعفری اور حسنین لہری، پاکستانی فیشن انڈسٹری کے یہ دونوں کامیاب ماڈلز اپنی شخصیت کی وجہ سے ہی ریمپ پر سب سے نمایاں نظر آتے تھے، اب یہ بھی داڑھی میں دکھائی دیتے ہیں۔ 

کامیاب گلوکار عاطف اسلم نے بھی داڑھی چہرے پر سجا لی ہے۔ نجی ٹی وی سے آن ایئر ڈرامہ ’’سنگ ماہ‘‘ میں وہ داڑھی والے چہرے کے ساتھ جلوہ گر ہوئے ہیں۔ گزرتے برسوں کے ساتھ عاطف نے خود کو کافی تبدیل کیا ہے۔ ڈیزائنر اور میزبان حسن شہریار ہمیشہ سے ہی ایک منفرد سٹائل میں نظر آئے ہیں۔ اگر سر پر بال نہیں ہیں تو کیا ہوا؟ حسن شہریار اس کمی کو اپنی داڑھی سے پورا کر لیتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں پہلے زمانے میں شیو نہ کرنے والے کو سست سمجھا جا تا تھا مگر اب داڑھی فیشن کی علامت بن گئی ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے کہ داڑھی والے اداکاروں کی اس ’’مجبوری‘‘ کی اصل وجہ کیا ہے؟ ایک تحقیق کے مطابق خواتین داڑھی والے مردوں کی جانب زیادہ جھکائو رکھتی ہیں۔ان کے مطابق داڑھی نہ صرف مردوں کی وجاہت اور ہیبت کی علامت ہوتی ہے بلکہ کشش کے اعتبار سے بھی داڑھی اور مردانہ وجاہت میں ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران کمپیوٹر کی اسکرین پرمردوں کے چہروں میں مختلف تبدیلیاں کی گئیں۔ ان میں بغیر داڑھی والے چہرے، ہلکی داڑھی، گھنی خشخشی داڑھی اور پوری داڑھی والے چہرے شامل تھے۔ جب یہ چہرے خواتین کو دکھائے گئے تو ہلکی داڑھی والے چہرے کو سب سے زیادہ ریٹنگ ملی جبکہ مکمل داڑھی والے چہروں کو سب سے زیادہ پر کشش قرار دیا گیا۔ 

ڈرامہ ہدایتکار عبدالرحمن اس حوالے سے کہتے ہیں ’’بعض فنکار ہمیں کہتے ہیں کہ ہم نے فیشن ایڈوائزر کے مشورے پر داڑھی رکھی ہے جبکہ یہ فیشن کا نیا انداز بھی ہے جبکہ بعض کلین شیو اداکار کہتے ہیں کہ اس کو رواج دیا گیا ہے‘‘۔

اسٹائلسٹ فہد کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کے کلین شیو اداکاروں کو پسند کیا جاتا ہے تو ان کے ساتھ آنے والی اداکارائیں بھی بے مثل خوبصورتی کی مالک تھیں، ان کی لمبی گھنی زلفوں کی تعریف میں گانے بھی عکس بند ہوتے تھے مگر اب ہیروئینوں نے بھی بال کٹوالئے ہیں تو تبدیلی کے لئے اداکاروں نے چہرے پر داڑھی سجالی ہے، یعنی تبدیلی ہیرو میں نہیں ہیروئن میں بھی ہوئی ہے‘‘۔

شوبز میں داڑھی نے کیسے راہ پائی؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ سب دیکھا دیکھی ہوا ہے۔ یہ سلسلہ چل نکلا ہے تو اب کیسے تھمے گا؟کوئی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کسی معروف اداکار کو کاسٹ کرنے سے پہلے اس سے ہرگزیہ فرمائش نہیں کر سکتا کہ اپنی داڑھی کو صاف کرائے۔ 

خواتین کی اس ضمن میں متضاد آرا ہیں۔ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ اداکار کی پر فارمنس ہی پیش نظر ہوتی ہے اب وہ داڑھی والاہے یا کلین شیو، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وحید مراد آج بھی آئیڈیل سمجھے جاتے ہیں،اگر وہ داڑھی کے ساتھ کام کرتے تو انہیں ہر گز پسند نہ کیاجاتا۔

 ڈراموں میں اداکاروں کے داڑھی رکھنے  کا فیشن متعارف کروانے کا الزام اداکار عمران عباس، علی عباس اور عماد عرفانی کو دیا جاتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی کے ڈراموں کے بعد یہ رجحان عام ہوا اور اب ہر دوسرے ڈرامہ کا ہیرو داڑھی میں نظر آتا ہے۔فنکاروں کی اس روش کو کہانی کے کرداروں میں ڈھال دیا جائے تو ڈراموں میں جان پڑ جائے۔ اس بارے میں ہمارے ڈراموں کے پروڈیوسرز و ہدایتکاروں کے ساتھ ساتھ کہانی کار وں کو بھی سوچنا ہوگا کہ ایسے اسکرپٹس تحریر کئے جائیں جس میں ان فنکاروں کے کردار حقیقت کا روپ اختیار کرجائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

کام اور رشتوں میں توازن مضبوط تعلقات کیسے قائم رکھیں؟

آج کی خواتین زندگی کے کئی میدانوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ بیک وقت ملازمت، کاروبار، گھر، بچوں کی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔

عید الاضحیٰ کے فیشن ٹرینڈز

گرمیوں میں عید کیلئے ہلکے اور خوبصورت ملبوسات

آج کا پکوان:کلیجی مصالحہ

اجزا: بکرے کی کلیجی: آدھا کلو ، ہری پیاز، ہری مرچ :4،6 عدد، ادرک لہسن پیسٹ :1،1 چمچ، آئل :3،4 چمچ، نمک، گرم مصالحہ، کٹی لال مرچ، کالی مرچ اور لیموں کا رس۔کلیجی کی بُو ختم کرنے کے لیے اسے دھونے کے بعدلیموں کا رس اور تھوڑا سا خشک آٹا چھڑک کر کچھ دیر رکھ دیں پھر دھو کر پکائیں۔

عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا