بشریٰ رحمان ،ادب اور سیاست کا ایک دمکتا ستارہ

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


علم دوستی ، ادب پروری ، مشرق پسندی ، مہمان نوازی کی وجہ سے انہیں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ، سیاست میں رواداری ، برداشت ، باہمی قبولیت اور مخالفین کی تنقید کو تحمل سے برداشت کرنے کے کلچر کو فروغ دیا

7 فروری 2020ء کو ملک کی نامور ادیبہ اور سیاستدان بشریٰ رحمان ملک عدم سدھار گئیں۔ جس سے اردو ادب اور پاکستانی سیاست کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ بشریٰ رحمان کو علم و ادب کی دنیا اور سیاست دونوں شعبوں میں ان کی علم دوستی، ادب پروری، مشرق پسندی، مہمان نوازی، روحانیات، عبادت گزاری اور انسان پرستی کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سیاست میں آپادھاپی کے ماحول کے باوجود انہوں نے رواداری، برداشت، باہمی  قبولیت اور مخالفین کی تنقید کو تحمل سے برداشت کرنے کے کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر  تمام مکتبہ ہائے فکر سے وابستہ افراد ان کی عزت کرتے تھے۔

بشریٰ رحمٰن نے 29 اگست 1944ء کو بہاولپور میں جنم لیا۔ جہاں ان کی سب سے پہلی انسپیریشن ان کی والدہ تھیں جنہیں انہوں نے زندگی بھر کاپی کرنے کی کوشش کی۔ بشریٰ رحمان اپنی والدہ کی یاد اور تقلید  میں ہر وقت ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا کر رکھتی تھیں۔ انہیں سے انہوں نے بے شمار خوبصورت اور مزے دار پکوان بنانا سیکھے جن سے وہ زندگی بھر اپنے مہمانوں کی بہت نفیس انداز میں تواضع کرتی رہیں۔ بالخصوص جب بھی  بھارت سے ان کے منہ بولے بھائی ڈاکٹر کیول دھیر پاکستان تشریف لاتے تو وہ ان کے اعزاز میں ایک شاندار ڈنر کا اہتمام کرتیں جس میں زیادہ تر شاندار کھانے وہ خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا کرتی تھیں۔ اسی طرح دیگر مہمانوں کی آمد پر بھی وہ کھانے خود تیار کرتی تھیں۔ 

بشریٰ رحمان ایک دیندار اور تصوف سے لگاؤ رکھنے والی خاتون تھیں جو ہر سال رمضان المبارک میں پورے دس دن کا اعتکاف کیا کرتیں۔ بشریٰ رحمان کو پاکستان اور اسلام سے بے حد لگاؤ تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ سمجھتی تھیں بلکہ خود اسے اپنے ایمان کا ایک حصہ بھی گردانتی تھیں۔ ایک بار انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ بھی اسی وجہ سے کیا تھا کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ محبت کا والہانہ جذبات رکھتی تھی اور وہ پاکستان کے لوگوں کے لئے بالخصوص خواتین کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھیں جو یقیناً صرف ادب کے ذریعے ممکن نہیں تھا۔

 گذشتہ چار پانچ دہائیوں میں لاہور میں اردو ادب کی شاید ہی کوئی ایسی بڑی تقریب ہو گی جس میں بشریٰ رحمان موجود نہ ہوں۔ وہ علم و ادب کا ایک زندہ استعارہ تھیں۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اردو ادب کی پرورش اور پرداخت میں گزرا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ پنجابی ادب کے لیے بھی ہمیشہ کوشاں رہیں اور متعدد پنجابی ادبی تنظیموں میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہیں۔ ان کی تمام عمر ادب تخلیق کرتے ہوئے گزری اور انہوں نے ایک شاعرہ، ادیبہ، افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار کی حیثیت سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اپنی پہچان اور شناخت بنائی۔ ان کی تخلیق کردہ  کتب میں ’’اللہ میاں جی‘‘، ’’بہشت‘‘، ’’براہ راست‘‘، ’’بت شکن‘‘، ’’چاند سے نہ کھیلو‘‘، ’’چارہ گر‘‘، ’’ایک آوارہ کی خاطر‘‘، ’’چپ‘‘، ’’خوبصورت‘‘، ’’کس موڑ پر ملے ہو‘‘، ’’لازوال‘‘، ’’لالہ صحرائی‘‘، ’’لگن‘‘، ’’پیاسی‘‘، ’’شرمیلے‘‘، ’’تیرے سنگ در کی تلاش تھی‘‘ اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے ناولوں پر ڈرامائی تشکیل کے ذریعے ڈرامے بنا کر بھی پیش کئے گئے، جنہوں نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔ ان کا ایک مشہور زمانہ سفرنامہ بھی ہے جس کا نام ہے ’’ٹک ٹک دیدم ٹوکیو‘‘۔ 

بشریٰ رحمان نے اپنے کرداروں کے ذریعے پاکستان کے اصل ماحول اور حقیقی حالات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس میں عام آدمی کے مسائل بالخصوص خواتین سے وابستہ باتوں کو نہایت خوش اسلوبی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ وہ رسم و رواج کے بھی خلاف ہیں بالخصوص ان رسوم کے جن کی وجہ سے خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں کو قربانی کا بکرا بننا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنی فکشن کے ذریعے پاکستانی معاشرے کی وہ جھلک پیش کی ہے اور ان ناسوروں کو بے نقاب کیا ہے جن کی اصلاح کی بے حد ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ڈراموں، ناولوں، افسانوں، ناولٹ سمیت ہر صنف میں ایک اصلاح اور راست گوئی کے سبق کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ ان کی تحریریں ہمیشہ رواں اور ان کے جملے کاٹ دار اور طنز کے نشتر سے بھرپور ہوتے تھے۔ اس کے برعکس ان کی شاعری عنفوان شباب کے جذبات سے لبریز اور بالخصوص ایک الہڑ لڑکی کے جذبات سے عبارت ہے۔ شاعری اور نثر دونوں میں انہوں نے ایک تانیثی زاویہ نظر کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے وہ خواتین کو زیادہ طاقتور اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ معاشرے کا ایک فعال رکن بن کر سامنے آ سکیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کے لیے انہوں نے زندگی بھر کوشش کی اور اپنی زندگی کی کوششوں کو بطور مثال پیش کیا۔ وہ عام پاکستانی لڑکی کو بھی ایسا ہی بااعتماد اور خودمختار دیکھنا چاہتی تھیں جیسی کہ وہ خود تھیں۔

بشری رحمان کے سیاسی کریئر پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ساری زندگی سیاست میں رواداری اور محبت کے فروغ میں گزار دی ہے۔ وہ پہلی بار 1985ء میں عام انتخابات کے ذریعے خواتین کیلئے مخصوص سیٹ پر منتخب ہوئیں اور پنجاب اسمبلی میں پہنچیں۔ اسی طرح 1988ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر وہ خواتین کی مخصوص کردہ سیٹ پر منتخب ہوئیں۔ 2002ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم گروپ کی نمائندہ کی حیثیت سے خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب ہوئیں اور قومی اسمبلی میں پہنچیں۔ اسی طرح 2008ء کے عام انتخابات میں بھی وہ مسلم لیگ ق کی طرف سے الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ سیاست میں ان کی بات کو بے انتہا اہمیت دی جاتی تھی بالخصوص وہ مسلم لیگ ق کی قیادت کے بے انتہا قریب تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح عام طور پر سیاستدان اختلافات کا شکار ہوجاتے ہیں بشریٰ رحمان کے بارے میں کبھی کوئی اختلافی بات سننے کو نہیں ملی۔ انہوں نے باوقار سیاست کے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی اور اس میں وہ بہت اچھی طرح کامیاب بھی رہیں۔ بے شک وہ ایک کامیاب سیاستدان تھیں اور انہوں نے سیاسی کریئر کو نہایت تدبر سے آگے بڑھایا لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اصل میں ان کے سینے میں ایک شاعرہ کا دل دھڑکتا تھا جو کسی کا برا سوچنے کے حق میں کبھی نہیں ہوتا۔

بطور کالم نگار بھی انہوں نے انتہائی شہرت حاصل کی اور اس کے ساتھ ساتھ اے پی این ایس اور سی پی این ای کے بطور بہترین کالم نگار کے ایوارڈز بھی حاصل کیے۔ ان کا کالم ’’چادر چار دیواری اور چاندنی‘‘ صحافت کی دنیا میں ان کی پہچان اور ان کی شہرت کا باعث تھا۔ یہ پاکستانی پڑھی لکھی خواتین میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا کالم تھا جس کو متعدد بار مختلف اداروں کی طرف سے خصوصی انعامات سے بھی نوازا گیا۔اپنے اس کالم میں جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے انہوں نے ہمیشہ مشرقی اقدار کی ترویج کے لیے اپنے قلم کو استعمال کیا۔

ان کو بعض حلقے دائیں بازو کی ادیبا یا کالم نگار سمجھتے تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو ادب کے لیے وقف کئے رکھا اور گروہی تعصبات اور بندشوں سے خود کو ہمیشہ آزاد رکھا۔ ان کے کالموں میں ایک سمجھدار بااثر سلیقہ شعار محنتی شعائر اسلام کی پابند اور پاکستان سے محبت رکھنے والی ایسی خاتون کی شبیہ نظر آتی ہے جس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خوبصورت تحریروں اور ان کی مدبرانہ فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے ’’ستارہ امتیاز‘‘ کا صدارتی تمغہ بھی دیا  گیا تھا۔ وہ پاکستان میں بہت سی خواتین اور لڑکیوں کا آئیڈیل تھیں۔ ان کے چلے جانے سے ادب اور سیاست میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو مستقبل قریب میں تو بھرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے ایک بھرپور دنیاوی زندگی گزاری ہے اللہ تعالیٰ ان کی اخروی منازل کو آسان فرمائے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔