شوکت صدیقی:ایک عظیم ناول نگار
اُردو کے عظیم ناول نگاروں میں جن کا نام لیا جاتا ہے ان میں ڈپٹی نذیر احمد، منشی پریم چند، قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، انتظار حسین، بانو قدسیہ اور عصمت چغتائی شامل ہیں۔ ان ناول نگاروں کی تکنیک حقیقت پسندانہ ہے یعنی وہ براہ راست ابلاغ پر یقین رکھتے ہیں۔ انیس ناگی نے جو ناول لکھے ان کی تکنیک بالکل مختلف ہے۔
ان ناولوں میں ایک آدمی گفتگو کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسے انگریزی میں Monologue کہا جاتا ہے۔ نظریاتی حوالے سے ایک نام بہت اہم ہے اور وہ ہے شوکت صدیقی، جو باکمال افسانہ نگار بھی تھے۔ شوکت صدیقی20مارچ 1923ء کو لکھنؤ کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ ہی میں حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے بی اے کیا اور پھر 1944ء میں ایم اے سیاسیات کا امتحان پاس کیا۔1950ء میں پاکستان آ گئے اور لاہور میں قیام کیا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ مستقل طور پر کراچی چلے گئے، ابتدائی دنوں میں وہ معاشی تنگ دستی کا شکار رہے۔ اس کے علاوہ انہیں سیاسی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن جلد ہی انہوں نے ان مشکلات پر قابو پا لیا۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ وہ کئی بار بیرونی دوروں پر گئے۔ شوکت صدیقی پاکستان رائٹرز گلڈ کے ایک سرگرم رکن تھے۔ اس کے علاوہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بھی رکن تھے۔ شوکت صدیقی کراچی کے اخبارات میں بھی کام کرتے رہے، بعد میں وہ کراچی کے کچھ اخبارات کے مدیر کے طور پر بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
1984ء میں انہوں نے صحافت کو خیر آباد کہا۔ شوکت صدیقی کا پہلا افسانہ لاہور کے ہفت روزہ ’’خیام‘‘ میں شائع ہوا۔1952ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’تیسرا آدمی‘‘ منظر عام پر آیا۔ اس مجموعے کو بہت پذیرائی ملی۔1955ء میں ان کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ’’ اندھیرے در اندھیرے‘‘ شائع ہوا۔ ان کے دوسرے افسانوی مجموعوں میں ’’راتوں کا شہر‘‘ اور ’’کیمیا گر‘‘ شامل ہیں۔
ان کا سب سے بڑا کام ان کا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ تھا جو 1957ء میں شائع ہوا۔ اس ناول کے 50ایڈیشنز شائع ہوئے اور اس کا 26زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اسے کئی بار ٹی وی ڈرامے کی شکل دی گئی اور ڈرامائی شکل میں بھی اسے زبردست شہرت ملی۔ اس کا انگریزی ترجمہ لندن یونیورسٹی کے ڈیوڈ میتھیوز نے کیا۔ ان کے دیگر ناولوں میں جانگلوس‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ ناول تین حصوں میں شائع ہوا۔’’خدا کی بستی‘‘ میں شوکت صدیقی نے انسانی نفسیات کو جس طرح پیش کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انسان دولت کی خاطر کیا کچھ نہیں کر سکتا، وہ اس ناول میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس کے پیچھے لالچ، حرص اور طمع ہے جس نے انسان کو بری طرح جکڑ رکھا ہے، لیکن درحقیقت یہ نظام زر ہے جو فرد سے سب کچھ کرواتا ہے۔ شوکت صدیقی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ سب برائیاں انسانی نفسیات کا حصہ اس وقت بنتی ہیں جب وہ ایک ایسے نظام زر کے تسلط میں آ جاتا ہے جو اسے یہ سب کچھ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ خود غرضی، لالچ اور طمع ہر انسان کی جبلت کا حصہ ہوں، لیکن یہ معاشی نظام ہے جو ایک فرد کو مذکورہ خباثتوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ پھر یہ نظام اپنے ساتھ غربت و افلاس کے وہ اندھیرے لاتا ہے جس میں ڈوب کر کوئی بھی انسان زندگی کے مثبت معانی تلاش کرنے سے عاری ہو جاتا ہے۔ ہر وقت یہی سوچ اسے گھیرے رکھتی ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس نے اس کی زندگی کے شجر کو برگ و بار سے محروم کر رکھا ہے۔
اسی طرح ان کا معرکہ آرا ناول ’’جانگلوس‘‘ تین حصوں میں شائع ہوا۔ اس ناول کو انہوں نے کئی برسوں میں لکھا۔ اس ناول کے مجموعی صفحات کی تعداد 18سو ہے اور یہ اردو کے طویل ترین ناولوں میں سے ایک ہے، اس ناول میں دیہی پنجاب کے مسائل اور مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ناول کا بنیادی موضوع طبقاتی جدوجہد ہے، جس کی پرچھائیاں شوکت صدیقی کے تمام ناولوں میں ملتی ہیں۔ اس ناول کو لکھنے سے پہلے شوکت صدیقی نے پنجاب کی ثقافت کا بھرپور مطالعہ کیا، اس مقصد کیلئے انہوں نے پنجابی اور سرائیکی دونوں زبانیں سیکھیں۔ ان کا تیسرا ناول’’ چار دیواری‘‘ دراصل ان کا ناسٹلجیا ہے۔
انہیں لکھنؤ میں گزارا ہوا اپنا بچپن بہت یاد آتا ہے۔ شوکت صدیقی کی صحافت کے میدان میں خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ انتہائی مقبول ادیب تھے۔ اس حقیقت کا اعتراف ان کے ہم عصر ادیب بھی کرتے تھے۔ انتظار حسین کا کہنا تھا کہ ’’شوکت صدیقی نے لوگوں کے لئے لکھا اور لوگوں کے بارے میں لکھا‘‘۔
شوکت صدیقی کا شمار اردو زبان کے ایسے ناول نگاروں میں ہوتا ہے، جن کے ناولوں کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں کئے گئے۔ ان کا سب سے مشہور ناول ’’خدا کی بستی‘‘ دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ دوسرے مقبول ناول’’جانگلوس‘‘ کا بھی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ ان کے لکھے ہوئے دیگر ناول ’’چار دیواری‘‘ اور’’کمین گاہ‘‘بھی اہم نوعیت کے حامل ہیں۔ شوکت صدیقی ان چار ناولوں اور اپنی دیگر تخلیقات کی وجہ سے اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔18دسمبر 2006ء کو اس عظیم ناول نگار اور افسانہ نگار کا 83 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال ہو گیا۔ اُردو ادب کے اس چارلس ڈکنز کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔