بیوی سے حسن سلوک کا حکم
’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے حق میں بہتر ہو‘ ‘(الترمذی، مشکوٰۃ المصابیح)اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ کا ارشاد ہے ’’تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل و عیال کیلئے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں‘‘ (الترمذی، مشکوٰۃ المصابیح)۔
انسان کیلئے بہت بڑی مونس اس کی بیوی بھی ہے۔انسان کا خمیر انس سے ہے اور انسیت اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اس لیے ہر انسان کو اپنی اجتماعی زندگی کے علاوہ نجی زندگی میں بھی ایک ایسے مونس کی تلاش ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی داستانِ زندگی بیان کر سکے اور کرۂ ارض پر کسی بھی انسان کیلئے نیک بیوی سے بڑھ کر کوئی مونس نہیں۔ اﷲ رب العزت نے مرد کیلئے سب سے بڑا مونس اس کی بیوی کو بنایا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ سے واضح ہوتا ہے : ’’یعنی اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جا کر سکون حاصل کرو‘‘(الروم)۔
علاوہ ازیں ابوالبشرحضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور اس کے بعد جنت میں بی بی حوا علیہا السلام کا وجود، پھر ان کا آپس میں نکاح بھی اس بات کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ غور کیجئے! جنت میں کس لطف و مسرت کی کمی تھی؟ ہر سو نعمتوں کی بارش، ہر طرف انوار کی تابش، لیکن سیدنا آدم علیہ السلام اس پر بھی اپنے دل کا ایک گوشہ خالی پاتے ہیں۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اب بھی کوئی خلا ہے، پھر تمامِ نعمت کیلئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ نہیں ہوتا کہ جنت کی لذتِ مادی اور سرورِ روحانی میں کچھ اضافہ کر دیا جائے بلکہ تخلیق ہوتی ہے آدم علیہ السلام ہی سے ایک اور مخلوق کی اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی۔ سیدنا آدم علیہ السلام کا دل اب جاکر تسکین پاتا ہے۔ نوازشوں اور بخششوں کی تکمیل گویا اب جا کر ہوئی۔ سیدنا آدم علیہ السلام کے حق میں جنت حقیقی معنی میںجنت اب جاکر ثابت ہوئی جب مرد کے لیے عورت اور شوہر کے لیے بیوی وجود میں آئی۔
گھریلو زندگی اگر پرسکون ہے تو اس کا اثر بیرونی زندگی پر لازمی ہو گا اور گھریلو زندگی خوشگوار ہوگی بیوی کے ساتھ حسن سلوک، ادائے حقوق اور خوش اخلاقی کا معاملہ کرنے سے۔ اس لیے قرآن نے حکم دیا: ’’اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو‘‘(النساء)۔ گویا حق تعالیٰ شوہروں سے بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی سفارش فرماتے ہیں، لہٰذا اے نئے پرانے دولہو! حق تعالیٰ کی اس سفارش کو قبول فرماکر اپنی دلہنوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو، چاہے تمہاری بیویاں تم پر غالب آجائیں، یہی ایک کریم اور شریف شوہر کی پہچان ہے۔ حدیث مذکور میں اس حقیقت کو حضورِاکرم ﷺ نے بیان فرما کر اپنا عمل بھی اس سلسلہ میں امت کے سامنے پیش کیا۔ ارشاد فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بھی بہتر ہو‘‘۔
باہر بڑائیاں، گھر میں لڑائیاں، بد اخلاقی ہے:جن کا سلوک باہر تو اچھا ہو مگر اہل خانہ کے ساتھ برا ہو، تو یہ ان کے بد اخلاق ہونے کی دلیل ہے۔ حضور ﷺنے بنیادی بات بیان فرمادی، ارشاد ہے : ’’تم میںبہترین فرد وہ ہے جواپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہو‘‘۔ یہ حدیث بھی بڑی جامع ہے ، اس کامطلب یہ ہے کہ اگر ہم مرد ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ماں باپ کیلئے اچھی اولاد، بہن کیلئے اچھے بھائی، بیوی کیلئے بہتر شوہر اور گھر والوں کیلئے اچھے فرد ثابت ہوں۔ یہی حال عورتوں کا بھی ہوکہ وہ اپنے ماں باپ کیلئے اچھی اولاد، بھائی کیلئے اچھی بہن، شوہر کیلئے اچھی بیوی اور گھروالوں کیلئے نیک عورت ثابت ہوں۔ اگر واقعی معاملہ ایساہے تو یہ ان کے اچھے اور نیک ہونے کی علامت ہے ۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒبیان کرتے ہیںکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے نزدیک سب سے بہتر شوہر وہ ہے جو بیوی کی نظر میں بہتر ہو، اور سب سے بہتر بیوی وہ ہے جو شوہر کی نظر میں بہتر ہو۔لقمانِ حکیمؒ نے بیان کیا ’’میں طویل تجربے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سب سے بہتر دوا محبت و عزت ہے ‘‘ کسی نے کہا: اگر یہ بھی اثر نہ کرے تو؟فرمایا’’ دوا کی مقدار بڑھا دیں، اس کا فائدہ دونوں کو ہوگا‘‘۔
حضور ﷺ کااپنے اہل خانہ سے سلوک : حضور ﷺ نے فرمایا: ’’میں تم میں اپنے اہل کیلئے سب سے بہتر ہوں‘‘۔ آپ ﷺ اپنے اہل بیت اور اپنی تمام ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ حسن سلوک فرماتے ، کبھی کسی کو ناراضی یا شکایت کا موقع نہ دیتے بلکہ ہمیشہ ان کی دلجوئی کا خیال رکھتے تھے۔
آپﷺنے11شادیاں کیں، جب مدینہ طیبہ میں ہوتے تو روزانہ عصرکے بعد تمام ازواجِ مطہرات ؓکے پاس تشریف لے جاتے ۔ہر ایک کی ضرورت معلوم کر کے اس کی تکمیل فرماتے ۔ جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے ، جس کا نام نکل آتا اسے ساتھ لے جاتے ، یہ بھی ازواج کی تالیف قلب کے لیے تھا۔
محبت کا جواب محبت سے ملتا ہے : اگر خاوند اپنی بیوی کو اس طرح پیار دے ، اس کے ساتھ اس قسم کا حسن سلوک اور دلجوئی کا معاملہ کرے تو کیا بیوی کا دماغ خراب ہو گیا ہے کہ وہ محبت کا جواب محبت سے نہ دے ؟ ضرور وہ بھی محبت کا جواب محبت ہی سے دے گی۔ عورت کی فطرت میںیہ بات ہے کہ اس کے ساتھ محبت اور نرمی کامعاملہ کیاجائے تو وہ جان تک قربان کرسکتی ہے ، لیکن اگر حقارت اور سختی کامعاملہ کیاجائے تووہ اپنی جان تک گنوا دیتی ہے۔
اہل خانہ سے حسن سلوک پر مغفرت : حضور اکرم ﷺ کی پوری زندگی ساری امت اور اس کے ہر فرد کیلئے نمونہ ہے ۔ آپﷺ امت کو بتلانا چاہتے تھے کہ اہل خانہ کے ساتھ اس طرح حسن سلوک کرنا چاہیے، آپﷺنے خود بھی ایسا کیا اور امت کو بھی اس طرف متوجہ فرمایا: ’’اہل خانہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا حقیقت میں اچھا ہے‘‘ ہماری کوئی تعریف کردے، اچھا کہہ دے ، خصوصاً کہنے والا کوئی بڑا ہو تو پھولے نہیں سماتے، پھر کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جسے حضورِاکرم ﷺ بہتر قرار دیں۔ اس سے زیادہ اچھا کون ہو سکتا ہے ؟
اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کے فضائل اس کے علاوہ اور بھی ہیں۔ایک حدیث میں ہے ، حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کی روایت ہے ، حضورِاکرم ﷺ فرماتے ہیں: قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو لایا جائے گا،جس کے پاس بظاہر ایسی کوئی نیکی نہ ہوگی جس سے وہ جنت کی امید کر سکے، مگر حق تعالیٰ فرمائیںگے کہ فرشتو! اس بندے کو جنت میں داخل کر دو، اس لیے کہ یہ اپنے اہل و عیال پر بڑا مہربان تھا ،ان کے ساتھ اس کا سلوک بڑا اچھا تھا۔ (کتاب البر/ از: شمائل کبریٰ)۔
اس سے ثابت ہوا کہ جوشخص اہل خانہ کیلئے بہتر ہوگا وہ اوروں کیلئے بھی بہتر ہوگا اور اس کے نتیجہ میںاس کی دنیا وعقبیٰ دونوں بہتر ہوگی۔اﷲ پاک ہمیںان صفات سے آراستہ ہونے کے ساتھ معاشرہ اور گھرکا اچھا فرد بننے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔