پیکر خلق عظیم

تحریر : ڈاکٹر عقیل احمد


افکار کے بعد انسان کارویہ ہی اس کی شخصیت کے مقبول اور غیر مقبول ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ رویہ کی تشکیل اخلاق کے بغیر ناممکن ہے اور اخلاق کی تشکیل و تکمیل میں تعلیم، تربیت، طبیعت، مزاج اور رجحان معاون عناصر ہیں۔ ایک انسان کے عقائد او رعبادات کا اثر اس کے اخلاق کی صورت میں سامنے آتا ہے اور اس کا اخلاقی رویہ اس کے سماجی، سیاسی اور عائلی معاملات کی اساس ہوتا ہے۔ حضور اکرمﷺ کی بعثت کے مقاصد میں ایک مقصد حسن اخلاق اور مکارم اخلاق کی تکمیل بھی تھا۔

 اخلاق انسان کے ان اوصاف جمیلہ کا نام ہے جن کا اظہار سہولت کے ساتھ ہو اور اس میں اس کو کسی تردد یا تکلف کی حاجت نہ رہے۔ اخلاق کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اخلاق حسنہ و اخلاق سیئہ (رذیلہ)۔اخلاق حسنہ وہ ہیں جو مقبول وقابل تحسین ہیں اور انسان کی شرافت و نجابت کی دلیل ہیں جبکہ اخلاق سیئہ و رذیلہ وہ ہیں جو مذموم وباعث نفرت ہیں۔ اخلاق حسنہ حسن عمل کی ہی ایک جہت ہے جس سے اس کا دوسرے انسانوں کے مابین اعتبار اور اعتماد قائم ہوتا ہے۔ کوئی بھی انسان اپنی خلوتوں میں کتنا ہی پارسا کیوں نہ ہو، اپنے زہد و تقویٰ میں کتنے ہی بلند مقام پر فائز ہو لیکن معاشرے میں اس کی ساکھ اور وقار کی اساس اس کے اخلاق ہی ہیں۔

اسوہ حسنہ اوراخلاق حسنہ:حضور اکرمﷺ کی ذات اقدس سے اولین ضیاء پاشیاں جو سماج میں ہوئی ہیں ان کا تعلق اخلاقیات ہی سے تھا۔ آپﷺ کی ذات اقدس کی کئی جہات ہیں لیکن آپﷺ نے سب سے پہلے اخلاقی جہت ہی سے لوگوں کو اپنا گرویدہ کیا اور پھر اخلاقیات کے حوالے سے وقتی، عارضی یا جزوی طور پر اقدار کو متعارف نہیں کروایا بلکہ ان اقدار کو دوام، استحکام اور اکمال عطا کیا۔

پہلی وحی کے بعد اُم المؤمنین حضرت خدیجہؓ کے وہ جملے اخلاقیات سیرت کی بنیاد ہیں،فرماتی ہیں: ’’اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو ہر گز غمزدہ نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، مہمان نواز ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھا تے ہیں، محروموں کو عطا کرتے ہیں اور راہ حق میں آنے والی مشکلات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔

آپﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو جامعیت، عظمت اور اکملیت کا شاہکار ہے۔ کردار کو اسوہ حسنہ اور اخلاق کو خلق عظیم کہا گیا ہے۔آپﷺ کی بعثت مبارکہ کے بنیادی وظائف میں تکمیل حسن اخلاق بھی ہے فرمایا: ’’میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں تاکہ اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کردوں‘‘(الموطا کتاب حسن الخلق، ص: 756)

حضور اکرمﷺ کی شریعت زمان،مکان کی حدود سے ماوراء ہے اس لیے حیات انسانی کا جو پہلو بھی اخلاقی معنویت رکھتا تھا۔ آپﷺ نے اس کا مکمل اسوہ پیش فرمایا اور مکمل بھی اس صورت میں جو اپنے ظاہر و باطن اور اثرات کے حوالے سے حسن و خوبصورتی رکھتا ہے۔ اس لیے اللہ کریم نے اس کو حسنہ فرمایا۔ تکمیل ایمان حسن اخلاق کے ساتھ مشروط فرمایا: ’’کامل مومن وہ ہے جس کیلئے اخلاق اچھے ہیں‘‘۔

اللہ کریم کو اپنے بندوں سے حضور اکرمﷺ کی کامل اتباع مطلوب ہے اس لیے روز محشر نبی اکرمﷺ کے قرب میں وہی بندہ ہو گا جو با اخلاق ہو گا ۔آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے سب سے محبوب اور آخرت میں میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جو خوش خلق ہے‘‘ 

عبادات اسلامیہ کو اگر ان کے وسیع اور جامع اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ یہ تشکیل کردار و اخلاق اور مثبت رویوں کی تربیت کا بڑا منظم ومرتب منصوبہ ہے۔تمام عبادات مومن کو بااخلاق بنانے کیلئے مختلف جہات اور متنوع  انداز سے تربیت اخلاق کرتی ہیں۔ بداخلاقی کی کوئی صورت کسی بھی موقع یا کسی بھی انداز سے قابل قبول نہیں اور نہ یہ مومن کو زیب دیتا ہے۔ کسی بھی طرح کا غیر اخلاقی رویہ بندے کے کردار سے تہذیب، شائستگی جیسے اوصاف کو مفقود کرتا ہے بلکہ ایسا رویہ سراسراسلامی تمدن کے خلاف ہے۔

حضور اکرمﷺ نے ریاست مدینہ کی صورت میں جس معتدل،انسان دوست معاشرہ کی بنیاد رکھی اس کی بنیاد ہی میں اخلاقی پہلو نظر آتے ہیں۔ان میں ایک عدل ہے اور دوسرا احسان۔عدل کا اظہار میثاق مدینہ کی صورت میں ہوا جبکہ احسان کا اظہار مواخات مدینہ کی صورت میں ہوا۔عدل کا مقصد نظام حق کا نفاذ ہے ،عدل اپنے اندر توازن رکھتا ہے جبکہ احسان اپنے اندر شفقت اور رکھتا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے احسان کی روش کا اظہار پہلے کیا اور یہ اسوہ دیا کہ احکام کی تنفیذ کے دو طریقے ہیں قانون اور اخلاق۔پہلی کوشش میں نظام خیر کانفاذ اخلاق کے ذریعے ہو جس کے اثرات بہت دوررس ہیں۔ قانون کم ہی حرکت میں آئے ۔گوکہ قانون کا مقصد بھی ایک لحاظ سے آداب معاشرت کا پابند ہی بنانا ہے جس کے لیے قطعی اور سخت رویہ اپنانا ضروری ہے جبکہ اخلاق کے ذریعہ رضا و رغبت اور خوش دلی ہو گی۔ اس لیے حضور اکرمﷺ نے رویوں کی تشکیل، مقاصد کے حصول اور منزل کے تعین کیلئے اخلاق سے ہی آغاز کیا۔

اعلان نبوت کے موقع پر بھی اخلاق پیش کر کے اپنے نظام فکر کی مقصدیت عیاں کی۔آغاز ریاست مدینہ کے تحریری منشور و دستور سے قبل بھی اخلاق ہی کے ذریعے مواخات کا رنگ معاشرے میں بکھیر کر عداوتوں، رنجشوں اور رقابتوں کو اخلاق کے ذریعے ختم کر دیا۔ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان سے تعلق کی بنیاد تو ایمان ہی ہے لیکن ایک مسلمان اپنی زندگی میں صرف مسلمانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ دیگر اقوام و مذاہب سے اس کو معاملات کرنے کی نوبت پیش آتی ہے۔ اخلاق اگر اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہوئے توضرور کامیابی ہو گی ،اعتماد بڑھے گا ،اعتبار کی فضا قائم ہو گی۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نبی کریمﷺ کیلئے یہ فرمانا کہ ’’ آپﷺ کا  اسوہ حسنہ تو قرآن ہی ہے‘‘۔ گو کہ مکمل حیات انسانی کا عملی دستور ہے لیکن اگر اس کو صرف اخلاق حسنہ ہی کے تناظر میں دیکھ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں جو بھی معاملہ اخلاق کے حوالے سے ہے یا اس کا جامع، اکمل اور خوب صورت مظہر ذات رسالت کے علاوہ کہیں اور نظر نہ آئے گا۔آپﷺ کی ذات اقدس کا ظاہری حسن  اگر نظر کو راحت دیتا تھا تو اخلاق و کردار کا جمال فکرو عمل کو کمال عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کے ضمن میں جو اصول بھی دیے ہیں حضور اکرمﷺ نے  اس کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔ 

آپﷺ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپﷺ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت  اعداء کو بھی معاف کر دیتے۔مسلمان کی عیادت کو کارثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔ مساوات کے ثمرات بیان کرتے ہیں تو خودمسجد نبوی کی تعمیر میں بنفس نفیس حصہ لیتے ہیں اور غزوہ خندق میں صحابہ کرام ؓکے ساتھ خندق کھودتے نظر آتے ہیں۔ عمل کی کون سی جہت ہے جو اسوہ حسنہ میں نظر نہیں آتی ؟ خیر کا کونسا پہلو ہے جو آپﷺ کی ذات میں نہیں اور کونسا وہ اخلاقی وصف ہے جو آپﷺ نے نہیں پیش کیا ؟ جو کہا وہ کیا ،قول و فعل میں کامل مطابقت ہے اور مطابقت بھی ایسی کہ جوزندگی کو خوشگوار ، فکر کو رسا ،عمل کو استحکام اور اعضا ء کو توانا رکھتی ہے۔نبی کریمﷺ جس خطے میں مبعوث ہوئے وہ معاشرہ اپنے رذائل کے اعتبار سے جہاں انتہائی پستی کا شکار تھا تو وہاں ان کے چند اخلاقی اوصاف ایسے بھی تھے جس سے اس معاشرے سے عمومی محاسن کا پتہ چلتا ہے جیسے مہمان نوازی، ایفائے عہد،شجاعت ،جرات،حریت وغیرہ۔

حضور اکرمﷺ نے تہذیب اخلاق کے حوالے سے مختلف صورتوں میں رہنمائی فرمائی۔ سب سے پہلے تو آپﷺ نے رذائل سے اجتناب کی سوچ راسخ کی اس کے سماجی و اخروی نقصانات کی نشاندہی فرمائی۔ انسانوں کے مابین رذائل اخلاق کی وجہ سے جو مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور پھر جن کی وجہ سے معاشرہ جس تخریب کا شکار ہوتا ہے اس کا بڑے احسن صورت میں تدارک فرمایا۔ 

اخلاق کی جہات و ثمرات :انسانی حیات کی جتنی جہات ہیں ان سب کے حوالے حضور اکرمﷺ نے اپنا خلق پیش فرمایا۔ نہ صرف اپنے موجودہ عہد اور اپنے خطے کے مطابق بلکہ اس میں ہر عہد اورہر خطے کے ساتھ انسانی فطرت کے مطابق اس کے معاملات، ضروریات اور خواہشات کی تہذیب و تطہیر کے تناظر میں ایک مکمل حسن خلق کا گلدستہ پیش کیا۔ حضور اکرمﷺ نے حسن اخلاق کے اظہار میں کبھی مقابل مخاطب کی خاندانی وسماجی یامعاشی حیثیت کو بنیاد نہ بنایا بلکہ آپﷺ کے پیش نظر کسی کا انسان ہونا ہی کافی تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپﷺ کا مقصد احترام انسانیت کا فروغ اور وقار آدمیت کی پاسبانی تھا۔

یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا ،مسلم و غیر مسلم وفود کی مہمان نوازی کرنا ،دیگر مذاہب کے ساتھ امن کے معاہدے کرنا  یہ سب سماجی  وبین الاقوامی اخلاقیات کے مظاہر تھے۔ اسی طرح عائلی اخلاقیات میں ازواج سے حسن سلوک کرنا، راحت و رنج کا لحاظ کرنا، خوش طبعی فرمانا، ضروریات کا خیال کرنا ، ان کی خاندانی و مذہبی پس منظر پر سکوت فرمانا ، ذہنی و جسمانی تشدد سے مکمل مجتنب رہنا ، ان کی تربیت فرمانا وغیرہ یہ سب عائلی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حفیظ تائب وفورِ شوق و عقیدت کی آ واز

ان کی نعت عشق و وارفتگی کے ساتھ تمام ممکنہ فنی محاسن سے آراستہ ہے :حفیظ تائب نے عام روایت سے ہٹ کر رسول مقبول سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے‘رسول اکرمﷺ کی ذات پاک سے محبت کیساتھ اسوۂ حسنہ کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں‘دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ جو کچھ کہا ہے اسے تخلیقی سطح پر محسوس کیا ہے:پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کو در پیش مسائل کا اظہار جس شائستگی سے حفیظ تائب کی نعتوں میں ملتا ہے دوسروں کے ہاں نظر نہیں آتا‘ بقول احمد ندیم قاسمی ،حفیظ تائب کی نعتیں پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے توسط سے وہ کائناتِ انسانی کے مثبت مطالعے میں مصروف ہیں

مجید امجد، فطرت سے ہم کلام

مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے،ہرے بھرے میدان، ابلتے قرینے، باسمتی کی باس،سانسیں، عمریں، قدریں سب کچھ سکے، پیسے، چربی، ماس

کینگروز کا سپن کے جال سے شکار

گرین شرٹس کی ہوم گرائونڈ پر تاریخی فتح:گرین شرٹس نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی

پاکستان کا ایٹمی سفر!

گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

توبہ

عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

آم — پھلوں کا بادشاہ

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں خوشبودار آم نظر آنے لگتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔