میت کے حقوق

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


اللہ تعالیٰ نے اس فانی دنیا کا نظام یہ بنایا ہے کہ اس میں جو بھی آتا ہے اس نے جانا ہے۔ ہم سے پہلے بہت سے لوگ آئے اور اپنی زندگی کے مقررہ دن گزار کر چلے گئے، ہم بھی ایک دن یہ دنیا چھوڑ کر چلے جائیں گے اور ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی بالآخر وفات پا جائیں گے۔

فوت شدگان کے حقوق

اسلام جیسے جینے سے متعلق تعلیمات ذکر کرتا ہے ایسے ہی مرنے کے متعلق بھی احکام ذکر کرتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں ورثاء اور دیگر پسماندگان کو جن شرعی احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ بنیادی طور پر درج ذیل ہیں۔ 

1:۔دعائے مغفرت کی جائے۔

2:۔ ان کے ذمہ جو حقوق اللہ (فرائض/واجبات) ہیں ان کو پورا کیا جائے۔

3:۔ ان کے ذمہ جو حقوق العباد(لین دین) ہیں ان کو ادا کیا جائے۔ 

4:۔ ان کے ترکے کو اسلامی قوانین کے مطابق تقسیم کیا جائے۔

5:۔ تکفین وتدفین کے مراحل کو ادا کیا جائے۔

6:۔ اگر وصیت موجود ہو تو شرعی اصولوں کی روشنی میں پورا کیا جائے۔ 

7:۔ نمازِ جنازہ مسنون طریقے سے ادا کی جائے۔

8:۔ان کے حق میں کلماتِ خیر کہے جائیں۔

9:۔ ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا جائے۔

10:۔ ان کی طرف سے کوئی زیادتی وغیرہ ہو گئی ہو تو اسے معاف کر دیا جائے۔

حدیث مبارک میں اللہ کے رسولﷺ نے زمانہ جاہلیت کی جن چار برائیوں کو ذکر فرمایا ہے، ان میں ایک مرنے والے پر نوحہ (چیخ چیخ کر رونا) کرنا بھی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت کے کچھ لوگ اس برائی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے، جہالت کی وجہ سے اس کو نہیں چھوڑیں گے۔

نوحہ کی شرعی ممانعت

 حضرت اُم عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیںنوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی دائود: 3129)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ایسے شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو مصیبت کے وقت رخساروں کو پیٹے، گریبان چاک کرے اور (میت وغیرہ پر) زمانہ جاہلیت کی طرح زور زور سے آوازیں نکالے(یعنی نوحہ کرے)، (صحیح البخاری: 1297)۔

نوحہ کرنے والوں سے اظہارِ  بیزاری

حضرت عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰؓ  بے ہوش ہو گئے تو آپ کی اہلیہ چلا چلا کر رونے لگیں۔ جب حضرت ابوموسیٰؓ کو ہوش آیا تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں ہر اس شخص سے بیزار (لا تعلق) ہوں جو مصیبت کے وقت سر کے بال منڈائے، چلا چلا کر روئے (نوحہ کرے) اور اپنے کپڑے پھاڑے۔ (صحیح مسلم:150)

نوحہ سننے/ کرنے والوں پر لعنت

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر لعنت فرمائی ہے جو خود نوحہ کرنے والی یا اسے سننے والی (یعنی نوحہ کو پسند کرنے والی) ہو (سنن ابی دائود: 3130)۔

نوحہ کا عذاب

 حضرت ابومالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت کے بعض لوگوں میں جاہلیت کی چار باتیں پائی جائیں گی جن کو وہ نہیں چھوڑیں گے۔ ان میں ایک نوحہ کرنا ہے۔ نوحہ کرنے والی مرنے سے پہلے اس برائی سے توبہ نہ کرے تو قیامت والے دن اس کے جسم پر تارکول اور خارش کا لباس ہو گا (صحیح مسلم:2116)۔

نوحہ کئے بغیر رونا ممنوع نہیں

 حضرت محمد بن عمرو بن عطاء سے مروی ہے کہ سلمہ بن ازرق کہتے ہیں، میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا کہ اللہ کے رسولﷺ کی اولاد میں سے کسی (غالباً حضرت زینبؓ)کا انتقال ہوا تو عورتیں جمع ہوئیں اور رونے لگیں۔ حضرت عمرؓ نے(قریبی رشتہ دار عورتوں کو رونے سے) منع کیا اور (اجنبیوں کو بھگانے کیلئے) سخت طریقے سے ڈانٹنا شروع کیا۔ اس موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: عمرؓ! ان عورتوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو کیونکہ آنکھیں رو رہی ہیں، دل مصیبت زدہ ہیں اور موت ابھی ابھی آئی ہے۔ (سنن النسائی، رقم الحدیث:1836)

اولاد کے انتقال پر صبر کا اجر

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب کسی شخص کی اولاد فوت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ (روح قبض کرنے والے) فرشتوں سے فرماتے ہیں: تم نے میرے (فلاں) بندے کی اولاد کی روح قبض کر لی؟ وہ عرض کرتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تم نے اس کے لختِ جگر کی روح قبض کی تو میرے بندے نے ( میرے بارے میں)کیا کہا؟ وہ عرض کرتے ہیں: اس نے(ناشکری کے کلمات نہیں کہے بلکہ صدمے کے اس موقع پر بھی) آپ کی حمد کی اور (وہ کام کیا جس کا آپ نے اسے حکم دیا یعنی) اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ(میرا بندہ میرے فیصلے پر راضی رہا، صبر کیا اور وہی کیا جس کا میں نے اسے حکم دیا تھا اس لیے) تم اس کیلئے جنت میں ایک (عظیم الشان) محل تعمیر کرو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ (جامع الترمذی:1021)

جنت کی چڑیاں

حضرت ابو حسان رحمہ اللہ کے دو بیٹے فوت ہوگئے تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓسے درخواست کی کہ آپؓ نے(اس طرح کے صدمے کے وقت تسلی کیلئے )اللہ کے رسول ﷺ کا کوئی فرمان مبارک سنا ہو تو ہمیں بھی سنا دیں تاکہ ہمیں تسلی مل جائے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ جی ہاں میں نے اس بارے اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے کہ اہل ایمان کے وہ بچے جو کم عمری میں فوت ہوجائیں وہ جنت کی چڑیاں ہیں،(قیامت کے دن)ان بچوں میں سے  جو اپنے باپ/ والدین سے ملے گا تو اس کے دامن/ ہاتھ کو پکڑ لے گا۔ وہ بچہ اس وقت تک اپنے والد سے جدا نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل نہ فرما دیں۔ (مسند احمد، رقم الحدیث: 10331)

جس کی تین نابالغ اولاد فوت ہو جائے

 حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضل سے رحمت فرماتے ہوئے ان کے والدین کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1248)

تسلی دینے والے کا اجر

 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص مصیبت زدہ شخص کو تسلی دیتا ہے تو اس کیلئے بھی اتنا اجر ہوتا ہے جتنا مصیبت پر صبر کرنے والے کو ملتا ہے (سنن ابن ماجہ:1602)۔

اللہ تعالیٰ ہمیں احکام شریعت پر عمل کرنے اور جہالت سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حفیظ تائب وفورِ شوق و عقیدت کی آ واز

ان کی نعت عشق و وارفتگی کے ساتھ تمام ممکنہ فنی محاسن سے آراستہ ہے :حفیظ تائب نے عام روایت سے ہٹ کر رسول مقبول سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے‘رسول اکرمﷺ کی ذات پاک سے محبت کیساتھ اسوۂ حسنہ کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں‘دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ جو کچھ کہا ہے اسے تخلیقی سطح پر محسوس کیا ہے:پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کو در پیش مسائل کا اظہار جس شائستگی سے حفیظ تائب کی نعتوں میں ملتا ہے دوسروں کے ہاں نظر نہیں آتا‘ بقول احمد ندیم قاسمی ،حفیظ تائب کی نعتیں پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے توسط سے وہ کائناتِ انسانی کے مثبت مطالعے میں مصروف ہیں

مجید امجد، فطرت سے ہم کلام

مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے،ہرے بھرے میدان، ابلتے قرینے، باسمتی کی باس،سانسیں، عمریں، قدریں سب کچھ سکے، پیسے، چربی، ماس

کینگروز کا سپن کے جال سے شکار

گرین شرٹس کی ہوم گرائونڈ پر تاریخی فتح:گرین شرٹس نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی

پاکستان کا ایٹمی سفر!

گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

توبہ

عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

آم — پھلوں کا بادشاہ

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں خوشبودار آم نظر آنے لگتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔