مختار مسعود کی افسانہ نگاری
ایشیائی معاشروں میں یہ بات عام ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور زمین والے صرف آسمانوں کے تیار کردہ منصوبے پر عمل کرتے ہیں۔ چین کے ایک افسانہ نگارلف یوتانگ نے اس بات کو ایک نہایت خوبصورت افسانے میں ڈھالا جس کا ہیرو وائیکو اپنے لئے خوبصورت شریک حیات کی تلاش میں ہے۔
اس کی ملاقات مندر کی سیڑھیوں پر بیٹھے ایک پراسرار بوڑھے سے ہوتی ہے۔ وائیکو جس لڑکی کی تلاش میں ہے بوڑھا اسے بتاتا ہے کہ وہ اسے نہیں مل سکتی۔’’پھر کون ہے جو میری شریک حیات بنے گی‘‘ وائیکو سوال کرتا ہے۔ بوڑھا اسے بتاتا ہے کہ تمہاری شادی جس لڑکی سے ہوگی وہ ابھی تین سال کی ہے۔ وائیکو کی فرمائش پر بوڑھا اسے ایک کھوکھے میں لے جاتا ہے جہاں ایک گندی اور اندھی عورت بیٹھی سبزی بیچ رہی تھی اور اس کی گود میں ایک میلی کچیلی بچی سو رہی تھی۔ وائیکو کا منہ غصے سے سرخ ہو گیا، اس کا جی چاہا کہ وہ بوڑھے کا منہ نوچ لے لیکن جب اس نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔
وائیکو کو اس بچی سے شادی کا خیال اتنا کریہہ اور مہمل لگا کہ اسے گھن آنے لگی۔ وہ کرائے کے ایک قاتل سے بچی پر قاتلانہ حملہ کروا دیتا ہے اور زندگی اپنے ڈھب پر گزرنے لگتی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ وائیکو کیلئے کچھ بہت اچھے رشتے آتے ہیں لیکن ہر بار لڑکی کسی حادثے کا، کسی مہلک بیماری کا شکار ہو جاتی ہے یا پھر خود کشی کر لیتی ہے۔ یہاں تک کہ وائیکو ادھیڑ عمر میں داخل ہو کر اپنی شادی سے مایوس ہو جاتا ہے۔ اب اس کی ساری توجہ اس اعلیٰ سرکاری عہدے پر مرکوز ہو جاتی ہے جو اس نے بڑی محنت سے حاصل کیا ہے۔ وائیکو کے کام سے متاثر ہو کر حاکم اعلیٰ وائیکو کیلئے اپنی بھیتجی کا پیغام بھیجتا ہے اور اس کا اصرار اسے یہ تجویز مان لینے پر مجبور کردیتا ہے۔ دلہن جوان ہے اور سلیقہ شعار ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے بال سنوارتے ہوئے ہمیشہ ایک لٹ دائیں جانب چھوڑ دیتی ہے۔ وائیکو اس سے اس کا سبب پوچھتا ہے تو وہ اپنی زلفوں کی لٹ اٹھا کر پیشانی پر لگا گہرا زخم دکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ جب میں تین سال کی تھی تو مجھ پر ایک بدمعاش نے قاتلانہ حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں میری جان تو بچ گئی لیکن اس کے خنجر کا نشان میری پیشانی پر رہ گیا۔
لف یوتانگ کے اس افسانے کا اردو ترجمہ مختار مسعود نے کیا اور اس کا اردو نام’’سرخ فیتہ‘‘ رکھا ہے۔ ترجمے کی عبارت بہت رواں ہے اور افسانہ پڑھتے ہوئے سوائے ہیرو کے نام اور کچھ پس منظری تفصیلات کے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ قارئین کیلئے یہ بات انکشاف انگیز ہوگی کہ بیورو کریسی کے ایک اہم رکن اور ’’آواز دوست‘‘، ’’سفر نصیب‘‘ اور ’’لوحِ ایام‘‘ جیسی کتب کے خالق مختار مسعود کا افسانے کی دنیا سے بھی کوئی تعلق تھا اور انہوں نے اردو ادب کے قارئین کو ’’سرخ فیتہ‘‘ جیسے چینی ادب کے فن پارے سے آشنا کروایا تھا۔ افسانوی ادب سے مختار مسعود کا تعلق صرف ترجمے تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے خود بھی افسانے لکھے۔ ان کے دو افسانے مطبوعہ صورت میں دستیاب ہیں۔’’قالین‘‘ اور ’’فاصلے‘‘۔
’’قالین‘‘ ایک سیدھی سادی معصوم اور اجنبی جرمن لڑکی کی کہانی ہے جو مصنف کے دفتر میں آکر اس سے قالین کا مطالبہ کرتی ہے۔ مصنف جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہے اس سوال پر حیران ہو جاتا ہے کہ اگر اسے قالین چاہیے تو اسے بازار جانا چاہیے، اس کا خیال کئی منطقوں میں بھٹکتا ہے۔
لڑکی کے ماں باپ، جنگ میں کام آ گئے اور وہ ایک رفیوجی کیمپ، ایک یتیم خانے، ایک چرچ اور ایک خیراتی تربیتی ادارے سے گزرتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی۔ ایک روز سفارت خانے کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ایک باشندہ جیل میں قید ہے،یہاں اس کا کوئی رشتہ دار ہے نہ اسے یہاں کی زبان آتی ہے لہٰذا اسے قید بامشقت کے ساتھ قید تنہائی اور زبان بندی کی سزا بھی کاٹنی پڑ رہی ہے۔ اس کے ہم وطن جو اس شہر میں ہوں ہفتہ وار ملاقات کے دن باری باری جیل ہو آیا کریں تو اس قیدی کا دل بہل جایا کرے گا۔ یہ سادہ، غمگین اور یتیم لڑکی اس انسانی اور قومی ہمدردی کے کام کیلئے تیار ہو کر اس قیدی سے ملنے کیلئے جانے لگتی ہے۔ قیدی کو مشقت میں ایک قالین بننے کا کام ملا ہے۔ لڑکی اس سے ملنے جاتی رہتی ہے اور جیلر سے مل کر اس کیلئے کچھ سہولتوں کا انتظام بھی کرتی ہے۔ جیلر اس کا معاوضہ لڑکی کے استحصال کی صورت میں وصول کرتا ہے۔
قیدی کی رہائی میں چار ہفتے باقی رہ جاتے ہیں اور وہ دونوں رہائی کے بعد فوراً شادی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ لڑکی چاہتی ہے کہ اس سے پہلے یہ قالین اسے مل جائے اور اتوار کی صبح جب چرچ میں شادی کے بعد قیدی، اس کے شوہر کی حیثیت سے فلیٹ میں داخل ہو تو اس کا پہلا قدم اسی قالین پر پڑے۔ جب دونوں فلیٹ میں پہنچتے ہیں تو قیدی کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے ، وہ سوچنے لگتا ہے کہ شاید وہ انہی دو چیزوں کیلئے جیل گیا تھا، اس کی بیوی اور یہ قالین۔
اس افسانے میں مصنف کی زندگی کے انتظامی تجربات اپنی جھلک دکھا رہے ہیں۔ یہی نہیں اس کے کردار کا روشن پہلو بھی ابھار رہے ہیں کہ اس کی خاموش کوشش ہے جس کے نتیجے میں ہیروئن کی شادی سے پہلے پہلے وہ قالین حاصل ہو گیا ہے، جسے پا لینا ہیروئن کی بہت بڑی خواہش تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے مقامیت اور ذاتی حوالے سے بچنے کیلئے ہیروئن کو جرمن بنایا ہے۔افسانے میں کہانی پن بھی ہے اور تجسس بھی، رمزیت جو اچھے ادب کی جان ہے افسانے میں بڑی خوبی سے موجود ہے۔
جس افسانے میں مختار مسعود کے فن کا بہترین اظہار ہوا وہ ’’فاصلے‘‘ ہے۔ یہ افسانہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی، طبقہ اناث کے مطالعے، سراپا نگاری، منظر نگاری کا بہترین نمونہ ہے۔