یادرفتگاں: حفیظ تائب۔۔۔۔ایک بے مثال نعت گو
تعارف: حفیظ تائب 14فروری 1931ء کو پشاور میں پیدا ہوئے، آبائی وطن احمد نگر ضلع گوجرانوالہ تھا۔ ادبی ذوق اپنے والد گرامی حاجی چراغ دین سے ورثے میں ملا جن کی تین کتابیں ’’تحفتہ الحرمین‘‘، ’’چراغ معرفت‘‘ اور چراغ حیات ‘‘شائع ہو چکی تھیں۔ حفیظ تائب 1949ء میں محکمہ برقیات میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں ایم اے پنجابی کیا اور شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔
شاعری کا آغاز غزل سے کیا، پیر فضل گجراتی ان کے استاد تھے۔ پہلا نعتیہ مجموعہ ’’صلوعلیہ وآلہ‘‘ کے نام سے 1973ء میں شائع ہوا، جس کی اشاعت نے جدید نعت گو شاعر کیلئے فکری اور فنی سمت متعین کر دی۔ ان کے دیگر نثری اور شعری مجموعوں میں ’’وسلموا تسلیما‘‘، ’’وہی یٰسین وہی طٰہٰ‘{‘ {، ’’سک متراں دی‘‘، ’’کوثریہ‘‘، ’’لیکھ‘‘، ’’مناقب‘‘، ’’تعبیر نسب قصیدہ بردہ شریف‘‘، ’’ترجمہ سید وارث شاہ‘‘، ’’بہار نعت‘‘، ’’کتابیات سیرتِ رسولﷺ‘‘، ’’پنجابی نعت اور پُن چھان‘‘ شامل ہیں۔ بعد ازاں وہ نعت کی طرف آ گئے اور باقی زندگی حمد و نعت کی تخلیق میں بسر کر دی۔
پروفیسر حفیظ تائب کو ان کے عقیدت مندوں اور ناقدین فن، قافلہ سالار نعت گویان عصر کہتے تھے۔ وہ ان بابرکت ہستیوں میں تھے جنہوں نے وطن عزیز میں عشق رسولﷺ اور نعت گوئی کو ایک باقاعدہ تحریک بنا دیا اور اپنی زندگی اس مقصد جلیلہ کیلئے وقف کر دی۔ حفیظ تائب کی بہت سی نعتوں نے عوام و خواص میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔ حفیظ تائب اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے عوام میں بہت زیادہ مقبول تھے۔ انہوں نے ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی، نعت گو حضرات کی کتب پر رائے دینے میں کبھی کنجوسی نہ کرتے۔
انہوں نے نعت کی تنقید کے حوالے سے بہت کام کیا، الغرض حفیظ تائب نے اپنے شب و روز حمد و نعت کے فروغ کیلئے وقف رکھے۔ ان کا عجز و انکسار مثالی تھا۔ ان کے آخری نعتیہ مجموعے ’’کوثریہ‘‘ کو وزیر اعظم نے قومی ایوارڈ سے نوازا۔ جدید اُردو نعت اور پنجابی نعت کے عہد ساز شاعر حفیظ تائب 2004ء میں بارہ اور تیرہ جون کی درمیانی شب 73برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
حضرت حفیظ تائب اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں سالہا سال تک پنجابی زبان و ادب کی تدریس میں منہمک رہے۔ اس ادارے سے میری وابستگی قدیم تر تھی۔ وہ شعبہ پنجابی سے باقاعدہ انسلاک سے برسوں پہلے ایک مشہور نعت گو کے طور پر پاکستان اور بیرون پاکستان جانے جاتے تھے اور ان کے مداحین و ممدوحین قابل رشک تعداد میں موجود تھے۔ اس لئے اورینٹل کالج کے شعبۂ پنجابی سے ان کی وابستگی تمام جونیئر اور سینئر اساتذہ کیلئے باعث مسرت و طمانیت تھی۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر وحید قریشی تھے جو حفیظ تائب کے مداح تھے اور شاعری کے علاوہ ان کی تدریسی، علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کے بھی بہت قابل تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ حفیظ تائب پی ایچ ڈی کریں تاکہ ترقی کے دَر اُن پر کشادہ ہوں اور ساتھ ہی پنجابی میں تحقیق کے جو یندگان کو ایک اچھا نگران تحقیق مل جائے لیکن حفیظ تائب مادی مفادات سے بالاتر تھے۔ شعر گوئی اور مطالعہ علم و ادب سے تو انہیں بہت شغف تھا مگر ’مسند‘ کا حصول ان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ ایک دن ڈاکٹر صاحب نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ آپ پی ایچ ڈی نہیںکرنا چاہتے تو ہم اس کے بغیر بھی آپ کو پی ایچ ڈی کے مقالات کا نگران بنا کر خوشی محسوس کریں گے چنانچہ حفیظ تائب ڈگری کے حصول کے بغیر ہی پی ایچ ڈی کے طلبہ کی رہنمائی کرتے رہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان سے بہتر کوئی نگران طلباء تحقیق کو میسر نہیں آ سکتا تھا۔
اورینٹل کالج میں حفیظ تائب کا عرصہ ملازمت اساتذہ اور طلبہ کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھا۔ ان کا علم و فضل، فن شعر پر عبور اور شخصیت کی کشش نے ہر کسی کو ان کا گرویدہ بنا رکھا تھا۔ پوشاک ہو یا رفتار و گفتار، ہر چیز میں ان کی شخصیت توازن و اعتدال کی بہترین مثال تھی۔ صاف ستھرا سادہ لباس پہنتے، نپے تلے قدموں سے چلتے اور گفتگو میں دوسروں کی بات تحمل سے سنتے اور اپنی رائے اس وقت دیتے جب ان سے خاص طور پر پوچھا جاتا۔ مثبت انداز میں بات کرتے۔ کسی کے فن کی خوبیوں کا تذکرہ کرتے اور خامیوں کی طرف ملفوف انداز میں اشارہ کرتے اور وہ بھی اسی صورت میں اگر ایسا ناگزیر ہوتا۔ انتہائی صابر و شاکر انسان تھے۔ میں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی بھی صورتحال میں مایوسی کا شکار دیکھا، معمولی مالی حالات کے باوصف انہیں کبھی ترقی درجات کیلئے کوشاں نہیں دیکھا۔
حفیظ تائب پنجابی، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف تھے اور ان زبانوں کے ادب سے بھی آگاہ تھے۔ خصوصاً پنجابی، اردو اور فارسی ادبیات کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ عربی ادب کے نعتیہ ذخیرے سے آگاہ تھے اور اس سے براہ راست استفادہ کر سکتے تھے۔ ذوق ادب فطری تھا اور کثرت مطالعہ نے اس میں مزید نکھار پیدا کر دیا تھا۔ ادبیات کے بہترین نمونے ان کے حافظے میں محفوظ تھے لیکن اس کا علم انہی لوگوں کو ہوتا تھا جو ان کے قریبی حلقے میںبیٹھنے والے تھے کیونکہ محفل میں وہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
حفیظ تائب نے شعر گوئی کا آغاز کم عمری میں کیا تھا اور جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے، شعرا آغاز غزل گوئی سے کرتے تھے۔ انہوں نے بھی ابتدائے شاعری میں غزل کو منتخب کیا اور کئی سال فن غزل گوئی میں مہارت حاصل کرنے کیلئے صرف کئے۔ وہ بطور غزل گو ادبی حلقوں میں متعارف تھے اور ادب کے عظماء ان کی غزل کو اہمیت دیتے تھے۔ احمد ندیم قاسمی نے 1969ء میں جب فنون کا ایک ضخیم جدید غزل نمبر شائع کیا تو اس میں حفیظ تائب کی چھ غزلیں بھی شامل کیں۔ اسی طرح 2000ء میں ’بیاض‘ (مدیر خالد احمد) کے غزل نمبر میں ان کی پانچ غزلیں منتخب کی گئیں لیکن جب ان کی توجہ صنف نعت کی طرف ہونے لگی تو غزل گوئی ان کی ترجیحات میں شامل نہ رہی۔ اگرچہ وہ اس وقت تک اتنی غزلیں کہہ چکے تھے کہ بعد ازاں ’نسیب‘‘ کے زیر عنوان ان کا مجموعہ غزلیات بھی شائع ہوا جو حالی کی شریفانہ غزل گوئی سے روشنی حاصل کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
غزل کا ذکر آ گیا ہے تو یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ’نعت گوئی‘ کو اپنا سرمایہ دنیا و عقبیٰ بنانے والے اس شاعر نے بعدازاں دیگر اصناف شاعری سے یکسر انحراف نہیں کیا۔ اردو پنجابی نعتوں کی فضا میں عمر بسر کرنے کے ساتھ ساتھ حمد و منقبت کی طرف بھی توجہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ حمد و منقبت کی فضا، نعت کی فضا سے قربت قریبہ رکھتی ہے اس لئے نعت نگار کو اس میں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ بات بجا ہے۔ حفیظ تائب نے اچھی خاصی تعداد میں قومی و ملی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ تحریک پاکستان کے مقاصد کو مدنظر رکھ کر نظمیں اور ملی ترانے لکھے ہیں۔ اسلامی ثقافت کو موضوع بنایا ہے۔ پاکستان اور بیرون پاکستان کی اہم شخصیات کے بارے میں مدحیہ اور رثائی نظمیں قلم بند کی ہیں اور گاہے گاہے متفرق موضوعات کو بھی بڑی مہارت اور تاثیر سے شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے۔
حفیظ تائب نے حمد و منقبت کی طرف بھی توجہ کی ہے۔ منقبت کی مصنف کو بھی ایسے شائستہ اور شستہ انداز میں لکھا ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شایان شان ہے اور کسی تعصب کو قریب بھی نہیں آنے دیا حالانکہ منقبت نگاری میں اس کا خدشہ رہتا ہے۔ ’حمد‘ ایک ایسی صنف ہے جو نعت پر تقدم رکھتی ہے۔ خدا کی ذات ہی ذات قدیم ہے۔ وہ واحد و یکتا ہے، کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ وہ خالق کائنات و حیات ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کوئی نعت گو ایسا نہیں جو حمد سے دامن کشاں رہ سکے۔ چنانچہ حفیظ تائب بھی ظفر علی خاں اور بعض دوسرے اہم نعت نگاروں کی طرح حمدیہ شاعری کو بھی نظرانداز نہیں کر سکے۔
اس ساری تمہید کے باوصف جب حفیظ تائب کا نام لیا جاتا ہے تو فوراً ہی صنف نعت کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔ گویا حفیظ تائب اور نعت لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور نعت سے ان کی نسبت خسرو کے اس شعر کے مطابق ہے:
من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
اردو اور پنجابی میں نعت کی طویل اور شاندار روایت ہے جس کا سلسلہ کئی صدیاں پہلے شروع ہوا اور عصر حاضر میں بھی اس ذوق و شوق سے جاری ہے لیکن شاید محسن کاکوروی واحد شاعر ہیں جنہوں نے خود کو نعتیہ شاعری کیلئے وقف کر دیا۔ اس کے بعد دوسرا نام حفیظ تائب کا ہے جو سراپا نعت بن گئے۔ محسن پر انہیں یہ تفوق حاصل ہے کہ حفیظ تائب کے ہاں نعتوں کی تعداد محسن کاکوروی سے تقریباً دس گناہ زیادہ ہے۔ محسن فن شعر اور اسلوب شعر میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ ویسا نعت گو شاید ہی کوئی اور دکھائی دے مگر اس کے ہاں ذخیرہ الفاظ، ضرب الامثال، محاورات اور تناسبات لفظی کی کثرت ہے جس سے ان کی نعت صرف چند وسیع المطالعہ قارئین تک محدود ہے۔ جبکہ حفیظ تائب کے ہاں کمیت کی افراط کے باوجود کیفیت بھی اعلیٰ درجے کی ہے۔ ان کی نعت میں بھی بہت فنی باریکیاں ہیں لیکن مجموعی تاثر انتہائی متوازن ہے۔ عربی اور فارسی کی مشکل تراکیب کی کثرت بھی جگہ جگہ موجود ہے لیکن کہیں بھی تکلف اور تصنع کا احساس نہیں ہوتا۔
حفیظ تائب کی نعت میں یہ تاثیر خودبخود پیدا نہیں ہو گئی۔ شاعری ایک فن ہے اور شاعر حمد لکھے یا نعت، مرثیہ رقم کرے یا سلام، قومی اور ملی موضوعات پر لکھے یا سماجی، سیاسی، نفسیاتی، رومانی موضوعات پر طبع آزمائے۔ اگر فن شاعری سے آگاہ نہ ہو تو وہ بڑا شاعر نہیں بن سکتا۔
صنف نعت کے تقاضے دیگر اصناف شعر سے مختلف ہیں۔ میری دانست میں کامیاب نعت گو کو سب سے پہلے سچا مسلمان ہونا چاہیے۔ ایمان کے بنیادی عقائد اس کے دل و دماغ میں بسے ہوئے ہوں۔ اس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو، عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات میں کھرا ہو، مزاج میں علم و انکسار ہو، حرص و ہوس، بغض و عناد، کینہ و ریا، کبرو نخوت سے پاک ہو۔ قلندرانہ مزاج رکھتا ہو، ناکامیوں میں خزن و ملال پر قابو پا لے۔ ان ذاتی خوبیوں کے علاوہ اپنی زندگی نعتیہ فضا میں گزارے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کا دورہ، احادیث نبوی اور سیرت کی کتابوں سے گہرا ربط، اسلامی تاریخ کے دور اوّل کا تفصیلی مطالعہ کرتا رہے۔ اس کے بغیر نعت میں تاثیر پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وسعت آتی ہے۔
آرزوئے حاضری
لوگ رخصت ہوئے جو حج کے لئے
جلے میری پلک پلک پہ دیئے
دل میں ہے درد و داغِ مہجوری
وہ حرم سے نگاہ کی دوری
نہ زر وسیم ہے نہ جنس ہنر
صرف شوقِ سفر ہے برگِ سفر
کس طرح آئوں تیرا گھر دیکھوں
کیسے طیبہ کے بام و در دیکھوں
رب کعبہ! کرم کا طالب ہوں
میں تری ذات سے مخاطب ہوں
کون ہے جو مری پکار سنے
قصہ چشم اشکبار سنے
…٭٭٭…
شبِ اسرا
یاد شبِ اسرا سے جو سینہ مرا چمکا
آنکھوں میں پھری شعلہ بجاںمسجدِ اقصیٰ
جس ارض مقدس پہ خداوندِ جہاں نے
سرکارؐ کو نبیوں کی امامت سے نوازا
جس خاک پہ اصحاب کے سجدوں کے نشاں ہیں
جو ہے مرے اسلاف کی تاریخ کا حصہ
جس خاک سے آقاؐ مرے پہنچے سرِ قوسین
طے کرتے ہوئے عرصہ گہِ عرشِ معلی
دل کو مرے تڑپانے لگی پستی اُمت
جوں جوں مجھے یاد آنے لگی رفعت مولیٰ
اُس شاہؐ کی اُمت ہوئی محتاجِ زمانہ
نعت
خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گْلِ چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصافِ حمیدہ
سیرت ہے تیری جوہرِ آئینہ تہذیب
روشن تیرے جلووں سے جہانِ دل و دیدہ
تجھ سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں
دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ
مضمر تیری تقلید میں ہے عالم کی بھلائی
میرا یہی ایماں ہے ، یہی میرا عقیدہ
اے ہادی ِ بر حق تری ہر بات ہے سچی
دیدہ سے بھی بڑھ کر ہے تیرے لب سے شنیدہ
یوں دور ہوں تائب میں حریمِ نبویﷺسے
صحرا میں ہو جس طرح کوئی شاخِ بریدہ
…٭٭٭…
ہر نعمت ِ کونین ہے جس شاہ کا صدقہ
…٭٭٭…
نعت
یوں ذہن میں جمال رسالت سما گیا
میرا جہانِ فکر و نظر جگمگا گیا
خُلقِ عظیم و اسوہ کامل حضورﷺ کا
آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا
اُس کے قدم سے پھوٹ پڑا چشمہ بہار
وہ دشت زندگی کو گلستاں بنا گیا
انوارِ حق سے جس نے بھرا دامنِ حیات
جو نکہت وفا سے زمانے بسا گیا
رہ جائے گا بھرم مرے حرف نیاز کا
اُس بارگاہ ناز میں گر بار پا گیا
کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سا بے ہنر
توصیفِ مصطفی کے لئے چُن لیا گیا
…٭٭٭…