ختم نبوت ﷺایمان کی اساس
’’کی محمد ﷺسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ‘‘ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے
اللہ کے محبوب کریم ﷺ مومن کی ایمان کی جان ہیں اور اس وقت تک کوئی کامل مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ حضور پاک ﷺ سے اپنے والدین، جان، اولاد، عزیز و اقارب سے بڑھ کر محبت و مودت نہیں رکھتا۔ عقیدہ ختم نبوت تو مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے اور تمام اہل ایمان کا کامل عقیدہ ہے کہ حضور پاک ﷺ اللہ کے آخری رسول برحق ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی و رسول روز محشر تک نہیں آئے گا۔ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا، کذاب، لعنتی اور واجب القتل ہے۔
مسلمان کی زندگی اور آخرت کا کل سرمایہ محبت رسول کریم ﷺ ہی ہے اور کوئی کلمہ گو کسی بھی صورت اپنے پیارے نبی ﷺکی شان میں گستاخی تو کیا کسی صاحب ایمان کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہود و نصاریٰ جو ازل سے ہی اسلام دشمن ہیں، مسلمانوں کو ہمیشہ یہ تکلیف پہنچاتے رہے ہیں۔
اللہ کریم نے اپنی لاریب کتاب قرآن مجید کی سورہ احزاب کی آیت نمبر 40 میں ارشاد فرمایا ’’ محمدؐ تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘۔ قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہوا کہ رسول کریمﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپﷺ پر نبوت کا سلسلہ بند کر دیا گیا تاقیامت کوئی دوسرا نبی نہیں آے گا۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے اور تمام مفسرین کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی اور نہ کوئی رسول قیامت تک آئے گا اور حضورﷺ خاتم النبیین ہیں۔
عقیدہ ختم نبوت قرآن پاک کی بیشمار آیات مبارکہ سے ثابت ہے اور خود رحمت دو عالم ﷺ کی بے شمار احادیث اس عقیدہ کی وضاحت میں موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی المرتضیؓ سے فرمایا !’’ اے علیؓ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارونؑ کو موسیٰ ؑسے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ حضرت عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ان احادیث سے واضح ہوا کہ آپﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، آپﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ قیامت تک کیلئے بند کر دیا گیاہے۔ منکرین ختم نبوت کا سلسلہ رسول کریم ﷺکے دور سے شروع ہو گیا تھا۔ آپ ﷺکے وصال ظاہری کے بعد صحابہ کرامؓ اور امت کے ہر طبقہ نے، ہر سطح پر منکرین ختم نبوت کا قلع قمع کیا اور اپنی جانیں وار کر اس عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کیا۔
7 ستمبر کا دن پاکستان کا تاریخی دن ہے۔ اس دن قومی اسمبلی میں قادیانی کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیااور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی و قانونی دستوری تحفظ دیا گیا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ عظام نے اس قانون کیلئے بہت محنت کی۔
7ستمبرہماری تاریخ کا وہ روشن اور تاریخ ساز دن ہے جب ہزاروں مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے طویل جدوجہد کے بعد پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قراردلوانے میں کامیابی حاصل کی۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری، اس کے ایمان کا تقاضہ اور آخرت میں شفاعتِ رسول ﷺ کا ذریعہ ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے۔ اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ ہے اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو دین محفوظ نہیں۔ قرآن کریم میں ایک سو سے زائد آیات اور ذخیرہ احادیث میں دوسوسے زائد احادیث نبوی ﷺ اس عقیدہ کا اثبات کر رہی ہیں۔ جن میں پوری تفصیل سے ختم نبوت کے ہر پہلو کو اجاگر کیاگیا ہے۔ قرون اولیٰ سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کا اجماع چلا آرہا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔
انیسویں صدی کے آخر میںکئی دوسرے فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ خود ساختہ نبوت یعنی قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس کی تمام تر وفاداریاں انگریزی طاغوت کیلئے وقف تھیں، انگریز کو بھی ایسے ہی خاردار خود کاشتہ پودے کی ضرورت تھی جس میں الجھ کر مسلمانوں کا دامن اتحاد تار تار ہوجائے، اس لیے غیرملکیوں نے اس خود کاشتہ پودے کی آبیاری کی۔ اس فرقہ کے مفادات بھی انگریزی حکومت سے وابستہ تھے۔ اس نے تاج برطانیہ کی بھر پور انداز میں حمایت کی، ملکہ برطانیہ کو خوشامدی خطوط لکھے، حکومت برطانیہ کیلئے عوام میں راہ ہموار کرنے کیلئے حرمت جہاد کا فتویٰ بھی دیا۔مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد و نظریات اور ملحدانہ خیالات سامنے آئے تو علماء کرام نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے مقابلہ میں میدان عمل میں نکلے۔ مرزا قادیانی کے فتنہ سے نمٹنے کیلئے ہر سطح پر کوششیں کی گئیں ۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اپنے شاگردوں سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ردِ قادیانیت کیلئے کام کرنے کا عہد لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ: ’’جو شخص قیامت کے دن رسول اللہ ﷺکے دامن شفاعت سے وابستہ ہونا چاہتا ہے وہ قادیانیوں سے ناموس رسالت ﷺ کو بچائے‘‘۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس کام کو باقاعدہ منظم کرنے کیلئے تحریک آزادی کے مجاہد سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو امیر شریعت مقرر کیا اور انجمن خدام الدین لاہور کے ایک عظیم الشان جلسہ میں پانچ سو جید اور ممتاز علماء نے حضرت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒنے تحریک آزادی کے بعد عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور قید وبند کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ پورے ملک میں بڑھاپے اور بیماری کے باوجود جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے قادیانیت کے کفر کو بے نقاب کر کے نسل نو کے ایمان کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ستمبر 1951 ء میں کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : ’’تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے، اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قدوقامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کریکٹر کی موت تھی، سچ کبھی نہ بولتا تھا، معاملات کا درست نہ تھا، بات کا پکا نہ تھا، بزدل تھا، تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے‘‘۔مولانا سیّد انور شاہ کشمیری ؒ نے ایک اور بات یہ فرمائی کہ جو کوئی قادیانی فتنہ کی سرکوبی کیلئے کام کرے گا اس کی جنت کا میں ضامن ہوں۔ اللہ ہمیں نبی کریمﷺ کی سچی اتباع سنت نصیب فرما کر ہمارے حال پر اپنا کرم فرماے، آمین۔