اشیا کو پھپھوندی لگنے سے بچائیں

تحریر : ڈاکٹر بلقیس


پھپھوندی وہ سفید بالیدگی ہے جو کپڑوں اور دیگر اشیاء پر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب درجہ حرارت بلند اور فضا میں نمی زیادہ ہو۔ پھپھوندی سے کیڑوں اور دیگر اشیاء کا رنگ اُڑجاتا ہے۔ ان میں سے عجیب ناگوار سی بو آنے لگتی ہے اور اس بات کا امکان بھی رہتا ہے کہ کپڑا گل جائے گا۔ نمی کے باعث کپڑوں،گھر کے فرنیچر اور دیگر چیزوں پر پھپھوندی لگنے کا احتمال رہتا ہے۔ اس کے علاوہ لوہے کی چیزوں کو زنگ بھی سب سے زیادہ اسی موسم میں لگتا ہے۔ فضا میں نمی تمام چیزوں پر اپنا اثر چھوڑتی ہے۔

پھپھوندی بہت سی سطحوں پر پائی جا سکتی ہے۔ یہ موٹی،سیاہ اور سفید بھی ہو سکتی ہے ۔انہیں صرف مرطوب ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اور اگرایسے گھر جو بہت کشادہ نہ ہوں،دھوپ وہاں با آسانی نہ پہنچتی ہو ان میں اشیاء کو پھپھوندی جلدی لگ جاتی ہے۔ اس سے بچائو کیلئے آپ کو کچھ احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔

مون سون میں کوشش کریں کہ اپنے گھر کے اندر فضا سے نمی کا خاتمہ کر دیں۔ کمرے،باورچی خانے،غسل خانے وغیرہ کو جس حد تک ممکن ہو خشک رکھیں۔انہیں استعمال کے بعد پوچا وغیرہ لگا کر اچھی طرح خشک کر دیں۔معمولی سی گرد بھی پھپھوندی کا باعث بنتی ہے۔اپنی الماریاں، درازیں، دیواریں اور کپڑے صاف رکھیں ،ان پر گرد نہ پڑنے دیں جو نمی سے مرطوب ہو کر اثر انداز ہوں۔

کپڑوں پر نشان دیکھنے کے بعد انہیں نظر انداز نہ کریں۔انہیں اچھے صابن اور ڈٹرجنٹ سے دھوئیں۔ کھلی جگہ پر خشک کر نے کیلئے پھیلا دیں۔ بلیچ کرتے ہوئے لیموں یا نمک کا استعمال ضرور کریں اور پکے رنگوں والے کپڑے استعمال کریں۔

نمک،لیموں کے علاوہ رن یا کلورین بھی کپڑوں کو اُجلا پن بخشتا ہے، لیکن ریشمی یا اونی کپڑوں پر کلورین اور بلیچ استعمال نہ کریں۔

کھڑکیوں کے پردوں یا میٹرس وغیرہ پر گرد کو صاف کرتی رہیں۔ان پر ہوا یا دھوپ پڑنے کو یقینی بنائیں۔کپڑوں پر پڑنے والے نشانات کو فوراً دھو ڈالیں۔نشانات ختم نہ ہوں تو ڈرائی کلین کروا لیں۔

موسم اچھا ہو تو کھڑکیاں کھُلی رکھیں تا کہ تازہ ہوا اندر آ سکے۔کبھی کبھی دروازوں کو کھُلا چھوڑ دیں تا کہ ہوا اور دھوپ اندر آ کر تمام اشیاء کو خشک کر دے۔

الماری یا سٹور میں کپڑے رکھنے سے پہلے یقین دہانی کر لیں کہ کپڑے اچھی طرح خشک ہیں۔الماری میں انہیں ڈھیلے انداز میں لٹکائیں اور ہو سکے تو الماری کے اندر حرارت کے لیے ایک بلب روشن رکھنے کا انتظام کر لیں۔

بلور یا ہیٹر سے کمرے کو کچھ دیر کیلئے گرم رکھیں تا کہ نمی ختم ہو جائے۔نمی کو جذب کرنے والے کیمیکل جیسے سلیکا جیل کا استعمال کریں۔

اون سے بنی ہوئی اشیاء مثلاً غالیچے اور قالین پر گاہے بگا ہے برش پھیرتی رہیں۔ ویکیو م کلینر بھی قالین پر روزانہ استعمال کریں۔

چیزوں سے پھپھوندی یا کالا پن ختم کرنے کیلئے صابن یا کوئی ڈٹرجنٹ کپڑے پر لگا کر چیزوں پر رگڑا جا سکتا ہے،لیکن کپڑا اتنا ہی گیلا کریں کہ نمی سطح پر سے اندر نہ جائے۔اسفنج پر بھی صابن اور ڈٹرجنٹ لگا کر چیزوں کو صاف کیا جا سکتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاک بھارت ٹاکراآج

آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء:انگلینڈ میں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی رعنائیاں عروج پر،12ٹیمیں مدمقابل:پاکستان اور بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان اب تک مجموعی طور پر 16 انٹرنیشنل ٹی 20میچ کھیلے جا چکے،بھارت نے 13 پاکستان نے 3 میچ جیتے

ویمنزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی سنسنی خیز داستان

9 ٹورنامنٹس میں سے آسٹریلیا نے 6 مرتبہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ نے ایک ایک مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی

بجٹ 27-2026

بجٹ کا کل حجم 18،771 ارب روپے:بجٹ خسارہ 7،020 ارب روپے

رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘(صحیح بخاری) معاشی مشکلات میں اسلام انسان کو خود غرضی نہیں بلکہ صلہ رحمی کا درس دیتا ہے ’’بخل اور حرص سے بچو، کیونکہ یہی چیزیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر گئیں‘‘ (صحیح مسلم)’’ جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف دور کرے گا‘‘(صحیح مسلم)

پردہ پوشی :اسلامی معاشرت کا حسین اصول

دوسروں کی عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے جو شخص دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم)

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر

’’پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘(زلزال:07) سلام میں پہل کرنا، پیاسے کو پانی پلا نا، بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا، خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں جن کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں