سلطان رشک:غزل سے نیرنگ خیال تک

تحریر : صابر علی


کہ آ پ اپنا تعارف… سلطان رشک 10 اپریل1943ء کو دہلی میں پیدا ہوئے،قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پہلے گوجر خان اور پھرراولپنڈی منتقل ہوئے،گورڈن کالج راولپنڈی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔دسمبر1963ء میں حکیم یوسف حسن کے انتقال پر کلاسیکی ادبی رسالے ’’نیرنگِ خیال‘‘ کے مدیر بنے جس کی ادارت تادم مرگ نبھاتے رہے۔’’نیرنگِ خیال‘‘ میں برصغیر پاک و ہند کے نامور شعرا اور ادیبوں کی نگارشات تسلسل سے شائع ہوتی رہیں۔سلطان رشک کا اوّلین شعری مجموعہ ’’دریا کی دہلیز ‘‘تھا بعد ازاں ’’کاغذ کا گھر‘‘کے نام سے دوسرا شعری مجموعہ شائع ہوا۔طنز ومزاح پر مبنی رسالے ’’اردو پنچ ‘‘کے بھی مدیر رہے ۔کئی سال قبل فالج کے مرض میں مبتلا ہوئے اور5دسمبر 2023 میں راولپنڈی میں انتقال ہوا۔

سلطان رشک نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں اس میں دور دور بھی شعر گوئی اور شعر فہمی کا کوئی تصور نہ تھا۔ اس کے باوجود وہ بہترین لب و لہجے کے شاعر قرار پائے۔ سلطان رشک کو سکول کے زمانے سے ہی اساتذہ کے بے شمار شعر یاد تھے اور وہ وزن میں پڑھا کرتے تھے، اگر کوئی دوسرا خارج ازبحر شعر پڑھتا تو وہ چونک جاتے تھے اور خود مصرعہ درست کر دیا کرتے تھے۔ کالج میں داخلے کے ساتھ ہی باقاعدہ ان کی شعر گوئی کی ابتدا ہوئی۔ اگرچہ اس دور کا بیشتر کلام زینت طاق نسیاں ہو گیا مگر ان کاشعری سفرآہستہ خرامی سے جاری رہا۔

گارڈن کالج راولپنڈی کی ادبی فضا نے ان کے شوق کو مہمیزدی۔ یوں ان کی تخلیق کاری میں قدرے باقاعدگی آئی اور ادبی رسائل میں بھی گاہے بگاہے کلام چھپنے لگا۔ اسی دوران حکیم محمد یوسف مرحوم نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کی ادارت ان کے سپرد کر دی اور یوں وہ مکمل طور پر ادب کے حوالے ہو گئے اور یہ سلسلہ گزشتہ سال ان کی وفات تک جاری رہا۔

شاعری میں غزل ان کی محبوب صنف تھی۔ ان کے مطابق جدید غزل اپنے اندر وسعت اور گہرائی رکھتی ہے کہ عصر رواں کے علاوہ آنے والے عہد کی تصاویر بھی اس کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ انہوںنے اپنے عہد کی کرچی کرچی اقدار کو اپنے شعروں میں سمونے کی کوشش کی ، غزل کے پردے میں درونِ دل اور باطن کی جمالی کیفیتوں کو بآسانی منکشف کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح ظاہر اور خارج کے مسائل کو بھی بڑی خوبصورتی سے منقش کیا جا سکتا ہے مگر اس میں سرتاسر شعریت کا ہونا ضروری ہے لہٰذا شاعری دونوں کیفیات کے خوبصورت امتزاج کا نام ہے۔ ادب کو زندگی کے کام آنا چاہئے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی بدصورتیوں اور کجروی کو کم کرنا چاہئے۔ پڑھنے والے کو بشاشت، بصیرت اور لطف عطا کرنا چاہئے، یہی سلطان رشک کانظریۂ فن تھا۔ 

2002ء میں شائع ہونے والے ان کے شعری مجموعے ’’ دریا کی دہلیز‘‘ میںکرنل محمد خان نے لکھا ’’ہر چند کہ سلطان رشک کے خیالات و جذبات میں وہی جدید طرز احساس ہے جو جدید غزل کی شناخت ہے تاہم ان کا اسلوب اظہار تمام تر کلاسیکی ہے۔ جدیدیت اور روایت کے اس اتصال نے سلطان رشک کے کلام کو ایک نادر حسن بخشا ہے جیسے کسی ماڈرن حسرت موہانی کا کلام ہو۔ ایک وسیع المطالعہ اور ’’لکھے پڑھے‘‘ ایم اے (اردو) شاعر سے یہی توقع بھی کی جاتی ہے۔

سلطان رشک کے چند پسندیدہ موضوعات یہ ہیں:

-1ملک و ملت سے خلوص اور وطن کی فکر:

وہ گلوں کو کیسے کھلائیں گے، وہ دلوں کو کیسے ملائیں گے

جو لگے ہوئے ہیں بہت دنوں سے چمن کی قطع و برید میں

-2سلطان ایک واضح انداز اَنا رکھتے ہیں اور اس موضوع پر ان کے ہاں کئی اشعار ہیں:

دستِ ستم کو دست مسیحا نہیں لکھا

میں نے منافقوں کو فرشتہ نہیں لکھا

مسحور کر سکا نہ مجھے قربِ کج کلاہ

میں نے تو حکم پر بھی قصیدہ نہیں لکھا

-3پھرصنفِ لطیف سے باتیں کرنے سے بھی غافل نہیں :

یہ کارِ محبت ہے کہ دیکھے بنا تجھ کو

تصویر تیری دیدۂ حیران میں رکھنا

کب خونِ آرزو میں ڈبوئی نہ انگلیاں

قرطاسِ دل پہ کب ترا چہرہ نہیں لکھا

پھرڈاکٹر سلیم اخترنے ان کے متعلق لکھاکہ وادیٔ شعر میں خاصی طویل مسافت طے کر لینے کے باوجود سلطان رشک نے بعض بے چین شعراء کی طرح چند غزلوں کی صورت میں مجموعۂ کلام کی دکان نہ سجائی۔ حالت سکون میں شعر کہتا رہا اور اپنے ادبی پرچے  ’’نیرنگ خیال‘‘ میں معاصرین کی شاعری طبع کرتا رہا۔ جب کنپٹیوں پر سفید بالوں کی جھالر سجی تو باذوق قارئین کیلئے ’’ دریا کی دہلیز‘‘ کا تحفہ لایا، مگر شاعرانہ انا اور تعلی کے بجائے منکسرانہ لہجہ میں، معذرت خواہانہ اسلوب میں:

سخنوری سے ہے مقصود معرفت فن کی

میں بے ہنر ہوں، تلاشِ ہنر میں رہتا ہوں

اور تلاش ہنر میں سلطان رشک کہاں گیا؟ قریۂ محبوب اور کوچہ رقیب کے برعکس پاکستان کے گلی کوچے دیکھے۔ کھلی دھوپ میں سایہ دیوار اور پرچھائیوں کی بھید بھری دنیا دیکھی۔ یوں باطن پر خارج کو ترجیح دے کر اسی کو مقصود ِفن قرار دیا۔

غزل کو تخلیقی شخصیت کا استعارہ بنا لینے کے باوجود سلطان رشک نے غزل کیلئے مخصوص روایتی شقیہ مضامین تک محدود نہ رہتے ہوئے، عصر اور عصری صورتحال سے فنی رابطہ استوار کرکے اپنی کمٹمنٹ کا تخلیقی سطح پر اظہار کیا۔ مزاحمتی رویوں پر مبنی غزل رشک کے معاشرتی آدرش کی ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ اظہار ذات کا ایک قرینہ بھی رکھتی ہے۔

دھوپ کی شدت میں ننگے پائوں ننگے سر نکل

اے دلِ سادہ سوادِ جبر سے باہر نکل

اظہر جاویدمرحوم(مدیر ماہنامہ تخلیق) کی رائے کے مطابق جن لوگوں نے غزل کو اعتبار اور تغزل کو نکھار بخشا ان میں سے سلطان رشک کا نام بہت نمایاں ہے۔ وہ ڈوب کر شعر کہنے اور سوچ سمجھ کربیان کرنے میں بہت کمال رکھتے ہیں۔ جس عہد میں شاعری عام طور پر لفظوں کی شعبدہ بازی اور ڈکشن کی جادو گری بن کر رہ گئی ہے۔ جذبے سے کوری اور کرب سے عاری سلطان رشک نے اسی عہد میں ایسے ہی لوگوں کو درمیان رہ کر اپنی الگ پہچان بنائی ، اپنی منفرد آواز پیدا کی ۔ وہ کوئی نظریاتی نعرے باز شاعر نہیں، مگر ان کے یہاں وطن کی محبت بہت شدت سے بیحد نمایاں نظر آتی ہے۔ معاشرتی الٹ پلٹ اور اہل اختیار کی بے اصولیاں انہیں چبھتی ہیں تو وہ بے قرار ہو جاتے ہیں۔ پھر اس احساس کو وہ نعرہ نہیں بناتے، تغزل کا روپ دے کر اہل دل کی درد مندی کا اظہار کرتے ۔ یہی جذبہ ان کے فن کا حسن ہے۔ ان کی شاعری کا سنگھار ہے۔ اس سے نظر ہٹے تو محبوبہ کو اپنی ساری دلداریوں سمیت اپنے مصرعوں کی بانہوں میں سمیٹ لیتے ہیں۔سلطان رشک برصغیر کے قدیم ترین اور عظیم ترین رسالے ’’نیرنگ خیال‘‘ کے مدیر رہے مگر انہوں نے اسے ’’تعلقات عامہ‘‘ کا سہارا نہیں بنایا۔چاہتے تو دوسروں کی طرح ناموری بٹورنے کے بیسیوں  گرُ آزما سکتے تھے۔ انہوںنے ایسا بھی نہیں کیا۔ وہ سچے شاعر تھے اور فن کی صداقت پر ان کا ایمان تھا۔ اور جن لوگوں کا ایمان راسخ ہو، وہ زندگی کے کسی بھی مقام پر، کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہوتے۔

غزل

جو نظر آتا نہیں دیوار میں در اور ہے

ان ستم کاروں کے پیچھے اک ستمگر اور ہے

جو نظر آتا نہیں رستے کا پتھر اور ہے

میں نہیں ہوں میرے اندر ایک خود سر اور ہے

اِن فضائوں میں مگر میرا گزر ممکن نہیں!

میری منزل اور ہے میرا مقدر اور ہے

ہم ہیں طوفانِ حوادث میں ہمیں معلوم ہے

تم سمجھ سکتے نہیں ساحل کا منظر اور ہے

بوجھ تیری بے وفائی کا اٹھا لیتا مگر

اک تمنا تجھ سے بڑھ کر دل کے اندر اور ہے

کچھ تعلق ہی نہیں جس کا مرے حالات سے

میرے محسن تیرا اِک احسان مجھ پر اور ہے

آپ سے مل کر مجھے محسوس یہ ہونے لگا

یہ مرا پیکر نہیں ہے میراپیکر اور ہے

میری بربادی کا باعث صرف ناداری نہیں

ایک سامانِ اذیت اس سے بڑھ کر اور ہے

روشنی پہلے بھی ہوتی تھی مگر سلطان رشک

آفتابِ صبحِ آزادی کا منظر اور ہے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ویمنز ایشیا کپ 2024:پاکستان کا مایوس کن آغاز

خواتین ایشیا کپ 2024ء کا میلہ سری لنکا میں سج گیا، 8 ٹیمیں مد مقابل، تمام میچز سری لنکا کے دمبولا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ 19 جولائی سے شروع ہونے والا ایشیا کپ اس بار ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جا رہا ہے۔ ویمن ایشیا کپ 2024ء میں شامل 8 ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ملیکہ نور کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

پاکستان ویمنز فٹبال ٹیم کی سب سے تجربہ کار کھلاڑی ملیکہ نور نے انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ملیکہ نور 2010 میں بننے والی پہلی پاکستان ویمنز فٹبال ٹیم میں شامل تھیں اور اب تک ہونے والے ہر اہم ایونٹ میں انہوں نے بطور ڈیفینڈر پاکستان ویمنز فٹبال ٹیم کی نمائندگی کی۔ملیکہ نور نے مختلف ایونٹس میں پاکستان کی جانب سے 25 میچز کھیلے۔

سب کا خُدا ایک

پرانے وقتوں کی بات ہے کسی گائوں میں ایک سادہ لوح آدمی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔اس کی ماںکی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح مرنے سے پہلے وہ اپنے بیٹے کی شادی کر دے۔بوڑھی عورت نے بیٹے کی محدود کمائی میں سے بچا بچا کر کچھ سامان بھی اکٹھا کر رکھا تھا،تاکہ کوئی اچھا رشتہ ملتے ہی وہ بیٹے کو بیاہنے میں دیر نہ کرے۔بوڑھی عورت اور اس کا بیٹا دونوں ہی کسی کا بُرا نہ چاہنے والے اور نہایت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔

حرف حرف موتی

٭…کتنے عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیتے ہیں۔ ٭…انسان کی قدر و قیمت دو چھوٹی چیزوں میں سے ہے، اس کا دل اور اس کی زبان ۔ ٭…سب سے بدترین شخص وہ ہے جس کے ڈر کی وجہ سے اس کی عزت کی جائے۔

پڑھو اور جانو:گلیشیئر کیسے حرکت کرتے ہیں؟

موسم سرما میں برف باری کے بعد موسم گرما میں برف کا پگھلائو اورعمل تبخیر ساری برف کو ختم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔اس طرح ہر سال برف کی مقدار بڑھتی رہتی ہے۔پگھلنے اور دوبارہ منجمد ہونے کی بناء پر برف سخت ہو جاتی ہے،نیز یہ د انے دار برف بن جاتی ہے۔بالائی برف کے دبائو سے بحتی برف سخت برف کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ برف اس برف سے مختلف ہوتی ہے جو پانی کے منجمد ہونے سے تشکیل پاتی ہے، نیز اس کے ذرات کے درمیان ہوا مقید ہو جاتی ہے۔ اس لیے برف دودھیا رنگت کی ہو جاتی ہے۔

پہیلیاں

1- سبز لباس گلے میں مالا پھلوں پر اکثر ڈاکا ڈالا