قربانی کا حاصل!

تحریر : مولانا محمد اکرم اعوان


دنیا کے تمام مذاہب میں قربانی اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ایک بڑا ذریعہ رہی ہے۔ اِس کی حقیقت وہی ہے جو زکوٰۃ کی ہے، لیکن یہ اصلاً مال کی نہیں، بلکہ جان کی نذر ہے جو اُس جانور کے بدلے میں چھڑا لی جاتی ہے جسے ہم اِس کا قائم مقام بنا کر قربان کرتے ہیں۔

ہم قربانی کیوں کرتے ہیں ؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہم قربانی اس لیے کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور قربانی کرنے کا حکم دیا۔آپ ﷺ نے حج کے موقع پر بھی قربانی کی اور حج کے علاوہ ہر عید قربان پر بھی قربانی کی۔ قربانی ایک عمل ہے جس سے قربانی کے جانور کو معین دنوں میں اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے وہ کیفیت نصیب ہو تی ہے جو حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنی شان کے مطابق نصیب ہوئی اور ہر مسلمان کو اپنی حیثیت ،اپنی استعداد، اپنے خلوص کے مطابق نصیب ہو تی ہے۔

قربانی کی حقیقت 

قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز ،دنیا کا کوئی کام، کوئی محبت ،کوئی پیار ،کوئی عزیز ترین رشتہ ،کوئی محبوب ترین شے اللہ کی اطاعت کے مقابلے میں رکاوٹ نہ بنے۔ظاہر ہے کہ ہر عبادت کے اپنے انوارات اور اپنے ثمرات ہوتے ہیںاور ہر بندے کے الگ ہوتے ہیں کیونکہ ہر بندے کا اللہ سے رشتہ الگ ہو تا ہے۔ ایک ہی جگہ دس بندے نمازپڑھتے ہیں لیکن ہر ایک کی کیفیت الگ ہو تی ہے ۔اس کے ایما ن، اس کے خلوص اور اس کے دل کی گہرائی کے اعتبارمختلف ہو تی ہے ۔اسی طرح ہر اطاعت پر بندے کی حیثیت کے مطابق انوارات و برکات نازل ہو تی ہے۔اسی واقعہ میں دیکھیے ایک ابراھیم خلیل اللہ ایک اسماعیل ذبیح اللہ۔  دونوں اللہ کے اولوالعزم رسول ہیں۔ایک ذبح کرنے والا ،ایک ذبح ہونے والا اور یہ سب محض اللہ کے نام پر، اللہ کے حکم پر ساری محبتیں ،سارے تعلقات ،سارے رشتے ،اپنا اور اولاد کا سارا مستقبل چھری کی ایک جنبش کے نیچے ہے۔اس پر کس قسم کی رحمتیں نازل ہو ں گی۔کس طرح کی تجلیات برسی ہوں گی۔کون سی کیفیات عطا ہو ئی ہوں گی۔اب یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے امت محمدیہ علیٰ صاحب الصلوٰۃ والسلام کو قربانی کرنے کا حکم دے دیا۔آج ہمیں بطفیلِ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ نے یہ سعادت بخشی ہے کہ ہم بھی اللہ کی راہ میں جانور ذبح کریں اور ان رحمتوں کا،ان عنایات کا اور اللہ کی اس بخشش کا مزا لیںاور وہ کیفیات ہم پر بھی وارد ہوں۔اس بخشش سے ہم بھی حصہ لیں تو یہ قربانی کی حقیقت ہے۔ عوام الناس کیلئے روئے زمین پر اللہ نے یہ رحمت کا دروازہ کھول دیا کہ جو مسلمان جہاں ہے وہ اس دن قربانی کرے تو اللہ کریم اسے وہی برکات عطا فرما دیتا ہے اور اسے سمجھ آجاتی ہے کہ دین کا مقصد کیا ہے؟دین مکمل اطاعت کانام ہے۔

قربانی کی تاریخ

اِس کی تاریخ آدم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے۔ قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اُن کے دو بیٹوں،(ہابیل اور قابیل) نے اپنی اپنی نذر اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کی تو ایک کی نذر قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔بائیبل میں صراحت ہے کہ ہابیل نے اِس موقع پر اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلونٹے بچوں کی قربانی پیش کی تھی۔ یہ طریقہ بعد میں بھی، ظاہر ہے کہ قائم رہا ہو گا ۔ چنانچہ اِس کے آثار ہم کو تمام مذاہب میں ملتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے بعد، البتہ جو اہمیت و عظمت اور وسعت و ہمہ گیری اِس عبادت کو حاصل ہوئی ہے، وہ اِس سے پہلے، یقیناًحاصل نہیں تھی۔ اُنھیں جب یہ ہدایت کی گئی کہ وہ بیٹے کی جگہ جانور کی قربانی دیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ ہم نے اسمٰعیل کو ایک ذبح عظیم کے عوض چھڑا لیا ہے۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ ابراہیم کی یہ نذر قبول کر لی گئی ہے اور اب پشت بہ پشت لوگ اپنی قربانیوں کے ذریعے سے اِس واقعے کی یاد قائم رکھیں گے۔ حج و عمرہ کے موقع پر اور عیدالاضحی کے دن یہی قربانی ہے جو ہم ایک نفل عبادت کے طور پر پورے اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں۔

قربانی کا مقصد

اِس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔ ہم اپنی جان کا نذرانہ قربانی کے جانوروں کو اُس کی علامت بنا کر بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہیں تو گویا اسلام کی اُس ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا اظہار سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی سے کیا تھا۔ اِس موقع پر تکبیر وتہلیل کے الفاظ اِسی مقصد سے ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ، اگر غور کیجیے تو پرستش کا منتہاے کمال ہے۔ اپنا اور اپنے جانور کا منہ قبلہ کی طرف کر کے اور ’بِسْمِ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہہ کر ہم اپنے جانوروں کوقیام یا سجدے کی حالت میں اِس احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کی نذر کر دیتے ہیں کہ یہ درحقیقت ہم اپنے آپ کو اُس کی نذر کر رہے ہیں۔

قربانی کا قانون

اِس کا قانون یہ ہے: قربانی انعام کی قسم کے تمام چوپایوں کی ہو سکتی ہے۔ اِس کا جانور بے عیب اور اچھی عمر کا ہونا چاہیے۔ قربانی کا وقت یوم النحر10ذو الحجہ کو عید الاضحی کی نماز سے فراغت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اِس کے ایام وہی ہیں جو مزدلفہ سے واپسی کے بعد منیٰ میں قیام کیلئے مقرر کیے گئے ہیں۔ اصطلاح میں اِنھیں ایام تشریق کہا جاتا ہے۔ قربانی کے علاوہ اِن ایام میں یہ سنت بھی قائم کی گئی ہے کہ ہر نماز کی جماعت کے بعد تکبیریں کہی جائیں۔ نمازوں کے بعد تکبیر کا یہ حکم مطلق ہے۔ اِس کے کوئی خاص الفاظ شریعت میں مقرر نہیں کیے گئے۔ قربانی کا گوشت لوگ خود بھی بغیر کسی تردد کے کھا سکتے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتے ہیں۔

رب کریم کا احسان

 رب کریم کا یہی وہ احسان ہے کہ اس نے ابراھیمؑ کے اس عمل میں نبی کریم ﷺ کی امت کو شریک فرمایا اور قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔اسی تاریخ پر کرنے کا حکم فرمایا اور اس دن یومِ عید قرار دیا اور پھر اس قربانی پر وہ کیفیت نازل ہوئی۔ اس کیفیت کے اجر کو ہر انسان اپنی عملی زندگی کو پرکھ کر خود جان سکتا ہے۔قربانی کا مقصد اس جذبے کو حاصل کرنا ہے جس سے بندہ اللہ کی خوشنودی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرے اور اس کے حصول کا ذریعہ اللہ نے قربانی رکھا ہے۔حضور ﷺ نے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور سکھایا ہے کہ اللہ کی  خوشنودی کیلئے قربانی کرو۔  یہ یقینی بات ہے کہ اگر ہم نے خلوص کے ساتھ قربانی کو تو صرف بکرا قربان نہیں ہو گا صرف جانور ذبح نہیں ہو گا بلکہ اللہ کی توفیق بھی عطا ہو گی کہ ہم اللہ کیلئے اپنے مفادات کو بھی قربان کر سکیں۔ہم عبادات کے اوقات میں آرام قربان کر سکیں۔ ہم حلال کے مقابلے میں حرام کو چھوڑ سکیں ۔ہم بھوک قبول کر لیں اور حرام نہ کھائیں۔ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں خواہ ایثار کرناپڑے ۔کہیں نقصان بھی اٹھاناپڑے ۔اگر ہم نے حضور ﷺ کے احکامات کے مطابق قربانی کی،خلوص کے ساتھ کی تو ہماری قربانی قبول ہو گی اور جب کوئی ذرہ ان انوارات کا نصیب ہوا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم میں عاداتِ ابراھیمی آنا شروع ہوجائیں گی ہم بھی اپنے مفادات اللہ کے احکام پر قربان کرنے کا حوصلہ پالیں گے ۔

 قربانی کے اس ایک نتیجے سے ہی ہم پرکھ سکتے ہیں کہ ہماری قربانی رسمی رواجی تھی یا خلوص کے ساتھ تھی ۔کیا میرے دل میں وہ جزبہ آیا ہے یا نہیں ۔ہر ایک کے دل کا حال یا اللہ جانتا ہے یا کسی حد تک بندہ خود اندازہ کر سکتا ہے۔حقیقی قربانی تو ان لوگوں کی ہے جو سب کچھ اللہ کیلئے قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔حقیقی قربانی تو ان خوش نصیبوں کی ہے جو راہ حق میں کام آئے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اتحاد بین المسلمین،ضرورت و اہمیت

اسلام ایک ایسا خوبصورت مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جن میں عبادات کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام امور و معاملات شامل ہیں۔ دین اسلام کی ہمہ گیری کا تقاضا یہی ہے کہ اُمت مسلمہ ایک وحدت کی حیثیت سے آپس میں مل کر اتفاق و اتحاد سے رہے۔ اس ضمن میں تمام اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکیوں کی تلقین کریں اور برائیوں سے بچیں ایک دوسرے کو بھی برائی سے روکیں۔۔۔

عاشوراکی فضیلت

محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو عاشورا کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں دسواں دن۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اور برکت کا حامل ہے۔یوم عاشورا زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ کے نزدیک بڑا محترم دن تھا۔ اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کچھ روایات اس کے بارے میں ان تک پہنچی ہوں گی۔

اہل بیت سے محبت ایمان کی معراج

حضورِ اقدس ﷺنے اپنے ’’ اہل بیت اطہارؓ ‘‘ کے ساتھ نیک اور عمدہ سلوک کرنے والے کو پسند فرمایا ہے اور ان کے ساتھ برا اور غلط سلوک کرنے والے کو ناپسند فرمایا ہے۔ حضرت جُمیع بن عمیر ؒ کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں اپنی پھوپھی کے ساتھ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟،

مسائل اور ان کا حل

نام رکھنے کا شرعی اصول وطریقہ سوال:ایک قومی اخبار میں ایک مفتی صاحب کے مؤقرکالم میں پڑھاکہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام رکھاجائے تو اس کے ساتھ عبدکی اضافت لازم ہے، نیز چند سال قبل ایک ہفت روزہ اخبار نے بھی ایساہی جواب شائع کیا تھا۔ بندہ ناچیز 12 سال تک مسلسل مختلف خلیجی ریاستوں میں بسلسلۂ روزگارمقیم رہاہے وہاں اسمائے حسنیٰ کا بے دریغ استعمال غیراللہ یامخلوق کیلئے عام ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں

بجلی کی سیاست

بجلی کے بل پاکستان کی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگے ہیں ۔ لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن بجلی کے بلوں کی بنیاد پر ہی لڑا جائے گا۔2013ء کے انتخابات پر بھی بجلی بحران کے اچھے خاصے اثرات تھے۔

بجلی بلوں کا بحران حکومت کا امتحان دو سو یونٹ والوں کیلئے ریلیف کتنا کارگر ہو گا؟

سیاسی حکومت کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دبائو کو محسوس کرتی ہے اور جہاں ضروری ہوتا ہے فیصلے بھی کر لیتی ہیں، خصوصاً جب حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں عوام کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہو اور اس کے نتیجہ میں ردعمل نظر آئے۔