ذبیح اللہ سید نا اسماعیل علیہ السلام

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمد کریم خان


انسان کاجب عالم ارواح سے عالم فنا میں ورودہواتوعنایت ربانی کاایک خاص کرم یہ ہواکہ جوعہدوپیمان قالوابلی کی صورت میں بارگاہ ایزدی میں کیاتھا،اسی کی یاددہانی کے لیے خلاق عالم عزوجل نے اپنے خاص بندوں کاانتخاب کیاجن کونبوت ورسالت کے منصب سے سرفرازکیا۔

یہ انبیاء ورسل بعض دفعہ یکے بعددیگرے ،بعض دفعہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں اورقوموں تک تعلیم وتربیت کاپیغام ربانی بندوں تک پہنچاتے رہے۔اس پیغام میں ایک قدرمشترک تھی یعنی شرک کی نفی اورتوحیدورسالت کااقرار۔انبیاء کرام علیہم السلام ہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں دوسرے بندوں کی بنسبت قرب خداوندی زیادہ نصیب ہوتاہے۔ان برگزیدہ ہستیوں میں سے حضرت سیدنااسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام ہیں، جوکہ جدالانبیاء حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے اورنبی آخرالزماں کے جداعلیٰ ہیں۔آپ علیہ السلام کاذکرقرآن پاک کی متعددسورتوں میں موجودہے جبکہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 125 تا 127، سورۃ الانعام کی آیت نمبر86، سورۃ مریم کی آیت  نمبر55،54، سورۃ الانبیاء کی آیت 86،85،سورۃ الصافات کی آیت نمبر101تا107 اورسورہ ص کی آیت نمبر48 میں تفصیلاًملتاہے۔

آپ علیہ السلام کی سیرت کے اہم گوشوں کواس مضمون میں اختصار سے بیان کیا جاتا ہے:

ولادت حضرت اسماعیل علیہ السلام

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب عراق سے ہجرت کر کے مصر سے ہوتے ہوئے فلسطین پہنچے اور جس مقام کو آپ نے اپنا مسکن بنایا اسے الخلیل، حبرون، مسجد ابراہیم کہا جاتا ہے، اس وقت آپ کی عمر 86 سال ہو چکی تھی،آپ کے سر میں سفیدی (بڑھاپا)پھیلنے لگی تھی تو اللہ تعالی کے حضور دعا کی:

(پھر اَرضِ مقدّس میں پہنچ کر دعا کی:) اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرما۔ پس ہم نے انہیں بڑے بُرد بار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دی۔(الصافات100:37۔101)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ ہاجرہ سے نکاح کیا جو سلمان بن عنوان بادشاہ کی بیٹی تھی اور اس نے سیدہ سارہ علیہاالسلام کو بطور تحفہ دی تھی تاکہ یہ خدمت کرے، انہی سے اللہ تعالیٰ نیآپ کو اولاد دی، جس میں سب سے پہلا بیٹا جو پیدا ہوا وہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :

جب سیدہ ہاجرہ بچے کی امیدسے ہوئیں تو اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگیں، تو سیدہ سارہ علیہاالسلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شکایت کی کہ اس سے کچھ مناسب سلوک کرو ،جب سیدہ ہاجرہ کو پتہ چلا، تو وہاں سے جانے کے لیے ایک چشمے کے پاس گھبرائے ہوئے بیٹھی تھی، کہ ایک فرشتہ نے آکر کہا:مت ڈرو بے شک اللہ تعالی اس سے لڑکے سے ،جسے تو اپنے پیٹ میں اٹھا رکھا ہے خیر پیدا کرے گا اور اسے واپس جانے کا حکم دیا اور اسے خوشخبری دی عنقریب تیریہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا  اس کا نام اسماعیل رکھنا۔(البدایہ والنہایہ،ج1،ص176)

اسم گرامی ولقب:

علامہ محمودبن عبداللہ آلوسی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر125 کے تحت لکھتے ہیں :

اسماعیل عجمی نام ہے اورکہاگیاہے کہ عربی میں اس کامعنی "اللہ کافرمانبردار"ہے۔اسماعیل کی وجہ تسمیہ کے متعلق لکھتے ہیں:جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اولادکے لیے دعامانگتے تواس کے بعدکہتے"اسمع ایل"یعنی اے اللہ !میری دعا سن لے۔جب اللہ تعالیٰ نے بیٹاعطافرمایاتواس دعا کی یادگارمیں آپ علیہ السلام نے اس کانام اسماعیل رکھا۔ (تفسیر روح المعانی، ج1، ص378)

آپ علیہ السلام کالقب ذبیح اللہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے والدگرامی کوانہیں ذبح کرنے کاحکم دیااورآپ نے فرمان باری تعالیٰ سن کربغیرکسی ترددکے اپنے آپ کوقربان ہونے کے لیے پیش کردیا۔

علامہ ابن کثیرلکھتے ہیں  :حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی اولادہیں اورتمام مسلمانوں اوراہل کتاب کااتفاق ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام سے بڑے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، ج7، ص23)

بعثتِ اسماعیل علیہ السلام:

اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوقبیلہ جرہم اورحجازمیں رہنے والی قوم عمالیق کی طرف مبعوث فرمایا۔جنہیں آپ نے وعظ وتبلیغ فرمائی ،کچھ لوگ ایمان لائے اورکچھ کافرہی رہے۔(الروض الانف،ج1،ص42)

آپ علیہ السلام پرعلیحدہ نہ کوئی کتاب نازل ہوئی اورنہ ہی کوئی صحیفہ، بلکہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام پرنازل ہونیوالے صحیفوں کی اتباع کرتیہوئے احکام الٰہی کی تبلیغ  کرتے  ،ساتھ ساتھ بعض  احکامات اللہ تعالیٰ کی جانب سے بذریعہ وحی آپ علیہ السلام کے نازل ہوئے۔قرآن مجیدمیں ہے:

(اے حبیب!) بیشک ہم نے آپ کی طرف (اْسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف اور ان کے بعد (دوسرے) پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔  ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب اور (ان کی) اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (علیھم السلام) کی طرف (بھی) وحی فرمائی۔ (النساء: 163)

اس وحی پرایمان لانے کے متعلق قرآن مجیدمیں ہمیں حکم ہوا:

(اے مسلمانو!) تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے ، اس (کتاب) پر جو ہماری طرف اتاری گئی ،اس پر (بھی) جو ابراہیم، اسماعیل ، اسحٰق ، یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی۔(البقرہ136:2)

اولادِاسماعیل علیہ السلام :

آپ علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے بارہ بیٹوں سے نوازا، ان کی اولادمیں اللہ تعالیٰ نے اس قدربرکت عطافرمائی کہ وہ بہت جلدپورے عرب میں پھیل گئے، یہاں تک کہ مغرب میں مصر،جنوب کی جانب سے یمن اورشمال کی طرف سے ملک شام تک  ان کی بستیاں اورخیمے  جاپہنچے۔

نبی کریمﷺکاانتخاب:

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں انتخاب نبی آخرالزمان ?کاخصوصی اہتمام کیاگیا۔حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم?نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولادسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوچن لیا،آپ کی اولادسے کنانہ کوچنا،کنانہ سے قریش کومنتخب فرمایا،قریش سے بنی ہاشم کواوربنی ہاشم سے مجھے چن لیا۔(مسنداحمد:16984)

اوصاف حمیدہ:

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کونہایت ہی عمدہ اوراعلیٰ اوصاف کامالک بنایاان میں سے سات کاذکرقرآن مجیدمیں ملتاہے:

1،2:وعدہ کے سچے اورغیب کی خبریں دینے والارسول:

قرآن کریم میں ہے:  آپ (اس) کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کریں، بیشک وہ وعدہ کے سچے اور صاحبِ رسالت نبی تھے۔ (مریم54:19)

3۔بہترین فردِمعاشرہ:

اللہ تعالیٰ کاارشادگرامی ہے:  آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیھم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، وہ سارے کے سارے چنے ہوئے لوگوں میں سے تھے۔(ص48:38)

4۔پسندیدہ بندہ:

آپ علیہ السلام اپنی اطاعت و اعمال، صبرواستقلال اوراپنی عادات وخصائل کی پاکی کی وجہ سے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی پسندیدہ تھے ،ارشادباری تعالیٰ ہے:

وہ اپنے رب کے حضور مقام مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)۔ (مریم 55:19)

5۔صابر:

آپ علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے صابرین کے گروہ میں شامل فرمایا،ارشادباری تعالیٰ ہے:

 اسماعیل ،ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے۔ (الانبیاء  85:21)

6۔نمازوزکوٰۃ کی تلقین کرنے والے اورمقام رضاپرفائز:

آپ علیہ السلام اپنے گھراورقبیلہ والوں کونمازقائم کرنے اورزکوٰۃ ادا کرنے کاحکم دیاکرتے اورمقام رضا پر فائز تھے، ارشادباری تعالیٰ ہے:

 وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے،  اور وہ اپنے رب کے حضور مقام مرضیّہ پر (فائز)  تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)۔ (مریم 55:19)

7۔بیت اللہ کے رکھوالے:

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام کوتاکیداًبیت اللہ کوصاف رکھنے اوراس کی دیکھ بھال کاحکم دیا،قرآن مجیدمیں ہے:

ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ،اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دو۔(البقرہ125:2)

یہ بات واضح ہے کہ آپ علیہ السلام کی حیات مستعار کے واقعات صبر کی اعلیٰ مثالوں میں سے اہم ترین واقعات وادی غیرذرع  میں رہنا اورفرمان خداوندی  پراپنے آپ کوقربان ہونے کے لیے پیش کرناہے۔

انعامات خداوندی:

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زندگی مبارکہ میں بہت سے انعامات فرمائے جن میں صرف تین کاذکرحسب ذیل ہے:

1،2۔رحمت خداوندی کاحقدار اورصالحین میں شمار:

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کواپنی رحمت خاصہ میں شامل کرتیہوئے اپنے مقربین خاص نیک وکاروں  میں شمارکیا۔ارشادباری تعالیٰ ہے: ہم نے انہیں اپنے (دامنِ) رحمت میں داخل فرمایا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھے۔(الانبیاء￿ 86:21)

3۔تمام جہان والوں پرفضیلت:

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوآپ کے زمانہ کے تمام لوگوں پرفضیلت اوربرتری عطافرمائی ،قرآن مجیدمیں ہے:

 اسمٰعیل، الیسع ،یونس اور لوط (علیھم السلام کو بھی ہدایت سے شرف یاب فرمایا)، اور ہم نے ان سب کو (اپنے زمانے کے) تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی۔(الانعام86:6)

سیرتِ سیدنااسماعیل کے  اہم واقعات:

حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں پیش آنے والے واقعات میں سے چندایک حسب ذیل ہیں:

صغرسنی میں ہی آپ علیہ السلام کے والدسیدناابراہیم علیہ السلام  آپ کو سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہاکے ہمراہ وادی حرم میں چھوڑکرگئے۔

 علامہ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

جب حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو بیت المقدس کے شہروں میں رہتے ہوئے بیس سال ہوگئے تو حضرت سارہ نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے کہا : بیشک مجھے میرے رب نے اولاد سے محروم رکھا ہے، آپ میری باندی سے عمل تولید کیجئے ،شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے اولاد عطا فرمائے۔ جب حضرت سارہ نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو حضرت ہاجرہ ہبہ کردی اور حضرت ابراھیم نے ان کے ساتھ شب بسر کی، تو حضرت ہاجرہ ان سے حاملہ ہوگئیں ،جب سے ان کو حمل ہوا تھا وہ حضرت سارہ پر فخر کرنے لگی تھی۔ حضرت سارہ کو ان پر رشک آتا تھا، انھوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے ان کی شکایت کی، حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو حضرت ہاجرہ حضرت سارہ سے ڈر کر وہاں سے چل پڑیں، وہ ایک چشمہ کے پاس پہنچیں، تو ایک فرشتہ نے کہا :تم ڈرومت اللہ تعالیٰ تم سے جو بچہ پیدا کرنے والا ہے اس میں بہت خیر ہے، اور ان کو واپس جانے کا حکم دیا۔ جب حضرت ہاجر ہ واپس گئیں اور حضرت اسماعیل پیدا ہوگئے، اس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر چھیاسی سال تھی اور وہ حضرت اسحاق کی پیدائش سے تیرہ سال پہلے پیدا ہوئے۔ (البدایہ والنہایۃ ،ج1، ص176،177)

علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں:

 مقصود یہ ہے کہ جب حضرت ہاجر ہ علیہاالسلام کے ہاں حضرت اسماعیل پیدا ہوگئے تو حضرت ہاجرہ پر حضرت سارہ کی غیرت بہت زیادہ ہوگئی، انہوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ حضرت ہاجرہ کو ان کی نگاہ سے دور کردیں، پھر حضرت ابراھیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور ان کے بیٹے اسماعیل کو لے کر روانہ ہوئے ،اس وقت اسماعیل دودھ پیتے تھے، حضرت ابراھیم علیہ السلام نے ان کو لے جاکر اس جگہ چھوڑ دیا ،جس کو آج کل مکہ کہا جاتا ہے۔ (البدایہ والنہایہ ،ج 1 ،ص 228، 229)

حدیث مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کاباذن الٰہی اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ بمع بیٹے کوایک بے آب وگیاہ وادی میں ٹھہرانے،بچے کی شدت پیاس اوربھوکا دیکھ کرماں کی بے قراری اوربے چینی کی  وجہ سے دوپہاڑوں کے درمیان دوڑنا،آب زم زم کاچشمہ جاری ہونا،حضرت اسماعیل کانکاح  اوران کی بیویوں کے برتاؤ پرفیصلہ ابراہیمی اورکعب? اللہ کی تعمیرتک کے واقعات کاذکراس اندازسے ملتاہے:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حضرت  ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی ( حضرت سارہ علیہ السلام ) کے درمیان جو کچھ جھگڑا ہونا تھا، وہ ہوا، تو آپ اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ( حضرت ہاجرہ علیہ السلام ) کو لے کر نکلے ، ان کے ساتھ ایک مشکیزہ تھا۔ جس میں پانی تھا ، اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اسی مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اوراپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں۔ جب ابراہیم مکہ پہنچے تو انہیں ایک بڑے درخت کے پاس ٹھہراکر اپنے گھر واپس جانے لگے۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں۔ جب مقام کداء پر پہنچے تو انہوں نے پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیم ! ہمیں کس پر چھوڑ کر جارہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ پر ! ہاجرہ علیہ السلام نے کہا: پھر میں اللہ پر خوش ہوں۔ پھر حضرت ہاجرہ اپنی جگہ پر واپس چلی آئیں اور اسی مشکیزے سے پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں، جب پانی ختم ہوگیا تو انہوں نے سوچا کہ ادھر ادھر دیکھنا چاہئے، ممکن ہے کہ کوئی آدمی نظرآجائے۔ راوی نے بیان کیا کہ یہی سوچ کر وہ صفا ( پہاڑی ) پر چڑھ گئیں اور چاروں طرف دیکھا کہ شاید کوئی نظر آجائے لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ پھر جب وادی میں اتریں تو دوڑ کر مروہ تک آئیں، اسی طرح کئی چکر لگائے ، پھر سوچا کہ چلوں ذرا بچے کو تو دیکھوں کس حالت میں ہے۔ چنانچہ آئیں اور دیکھا تو بچہ اسی حالت میں تھا ( جیسے تکلیف کے مارے ) موت کے لیے تڑپ رہا ہو۔ یہ حال دیکھ کر ان سے صبر نہ ہوسکا ، سوچا چلوں، دوبارہ دیکھوں ممکن ہے کہ کوئی آدمی نظرآجائے ، آئیں اور صفا پہاڑ پر چڑھ گئیں اور چاروں طرف نظر پھیر پھیر کر دیکھتی رہیں لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ اس طرح حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے سات چکر لگائے پھر سوچا ، چلوں دیکھوں بچہ کس حالت میں ہے ؟ اسی وقت انہیں ایک آواز سنائی دی۔ انہوں نے ( آواز سے مخاطب ہوکر ) کہا : اگر تمہارے پاس کوئی بھلائی ہے تو میری مدد کرو۔ وہاں  حضرت جبریل علیہ السلام موجود تھے۔ انہوں نے اپنی ایڑی سے یوں کیا ( اشارہ کرکے بتایا ) اور زمین ایڑی سے کھودی۔ راوی نے بیان کیا: اس عمل کے نتیجے میں وہاں سے پانی پھوٹ پڑا۔ ام اسماعیل ڈریں (کہیں یہ پانی غائب نہ ہوجائے ) ، پھر وہ زمین کھودنے لگیں۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوالقاسم نے فرمایا ، اگر وہ پانی کو یوں ہی رہنے دیتیں تو پانی زمین پر بہتا رہتا۔ غرض ہاجرہ علیہ السلام زمزم کا پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس کے بعد قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وادی کے نشیب سے گزرے۔ انہیں وہاں پرندے نظر آئے۔ انہیں یہ کچھ خلاف عادت معلوم ہوا۔ انہوں نے آپس میں کہا : پرندہ تو صرف پانی ہی پر ( اس طرح ) منڈلاسکتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنا آدمی وہاں بھیجا۔ اس نے جاکر دیکھا تو واقعی وہاں پانی موجود تھا۔ اس نے آکر اپنے قبیلے والوں کو خبردی تو یہ سب لوگ یہاں آگئے اورکہا: اے ام اسماعیل ! کیا ہمیں اپنے ساتھ رہنے کی یا ( یہ کہا کہ ) اپنے ساتھ قیام کرنے کی اجازت دیں گی ؟ پھر ان کے بیٹے ( اسماعیل علیہ السلام ) بالغ ہوئے اور قبیلہ جرہم ہی کی ایک لڑکی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا : پھر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا اور انہوں نے اپنی اہلیہ ( حضرت سارہ علیہ السلام ) سے فرمایا کہ میں جن لوگوں کو ( مکہ میں ) چھوڑ آیا تھا، ان کی خبرلینے جاوں گا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: پھرحضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لائے اور سلام کرکے دریافت فرمایا :کہ اسماعیل کہاں ہیں ؟ ان کی بیوی نے بتایا: کہ شکار کے لیے گئے۔ انہوں نے فرمایا :کہ جب وہ آئیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام آئے تو ان کی بیوی نے واقعہ کی اطلاع دی۔

اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہیں ہو ( جسے بدلنے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کہہ گئے ہیں ) اب تم اپنے گھر جاسکتی ہو۔ بیان کیا کہ پھر ایک مدت کے بعد دوبارہ ابراہیم علیہ السلام کو خیال ہوا اور انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ میں جن لوگوں کو چھوڑ آیا ہوں انہیں دیکھنے جاوں گا۔ راوی نے بیان کیا: کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور دریافت فرمایا: کہ اسماعیل کہاں ہیں ؟ ان کی بیوی نے بتایا :کہ شکار کے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ٹھہرئیے اور کھانا تناول فرمالیجئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا :کہ تم لوگ کھاتے پیتے کیا ہو ؟ انہوں نے بتایا :کہ گوشت کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ آپ نے دعا کی:  اے اللہ ! ان کے کھانے اور ان کے پانی میں برکت نازل فرما۔راوی نے بیان کیا:  ابوالقاسم ? نے فرمایا ، ابراہیم علیہ السلام کی اس دعاء￿ کی برکت اب تک چلی آرہی ہے۔ راوی نے بیان کیاکہ پھر ( تیسری بار ) ابراہیم علیہ السلام کو ایک مدت کے بعد خیال ہوا اور اپنی اہلیہ سے انہوں نے کہا کہ جن کو میں چھوڑآیا ہوں ان کی خبرلینے مکہ جاوں گا۔ چنانچہ آپ تشریف لائے اور اس مرتبہ حضرت  اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، جو زمزم کے پیچھے اپنے تیر ٹھیک کررہے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ، اے اسماعیل ! تمہارے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں اس کا ایک گھر بناوں ، بیٹے نے عرض کیا کہ پھر آپ اپنے رب کا حکم بجا لائیے۔ انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو ،عرض کیا: میں اس کے لیے تیار ہوں۔ یا اسی قسم کے اور الفاظ ادا کئے۔ راوی نے بیان کیا :کہ پھر دونوں باپ بیٹے اٹھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دیواریں اٹھاتے تھے اور اسماعیل علیہ السلام انہیں پتھر لالاکر دیتے تھے اور دونوں یہ دعا کرتے جاتے تھے : اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول کر ، بے شک تو بڑا سننے والا ، بہت جاننے والا ہے۔ راوی نے بیان کیا :کہ آخر جب دیوار بلندہوگئی اور حضرت ( ابراہیم علیہ السلام ) کو پتھر ( دیوار پر ) رکھنے میں دشواری ہوئی تو وہ مقام ( ابراہیم ) کے پتھر پر کھڑے ہوئے اور اسماعیل علیہ السلام ان کو پتھر اٹھااٹھاکر دیتے جاتے اور ان حضرات کی زبان پر یہ دعا جاری تھی۔ ’’ اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے اسے قبول فرما لے۔ بے شک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے ‘‘۔(صحیح بخاری:3365)

قربانی اسماعیل علیہ السلام:

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حیات مبارکہ کا عظیم واقعہ آپ کی قربانی کاہے : ایک دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :کہ اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں، انبیاء￿  علیہم السلام کی خواب حق اور وحی الہی ہوتے ہیں، لہذا اب تو دیکھ لے اس بارے میں تیری کیا رائے ہے؟ والد محترم کی بات سنتے ہی حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کی : اے ابا جان !آپ وہ کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا ہے، اللہ تعالی نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ،بیٹے کے جواب کے بعد حکم الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے  کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے کے ہمراہ منیٰ پہنچے اور یہاں ایک جگہ پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیشانی کے بل لٹایا اور پتھر پر رگڑ کر چھری تیز کرنے لگے۔چھری تیز ہو جانے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھے اور پیشانی کے بل لیٹے ہوئے اپنے محبوب بیٹے کے گلے پر پوری قوت سے چھری چلا ئی لیکن چھری نے حضرت میں اسماعیل علیہ السلام کا گلا نہیں کاٹااورنہ ہی  ان کے گلے پر ذرا سی خراش آئی،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :کہ ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھابھیجاجوآپ کی جگہ ذبح کیا گیا۔قرآن مجیدمیں ہے:

پھر جب وہ (اسماعیل علیہ السلام) ان کے ساتھ دوڑ کر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچ گیا تو (ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ،سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر ا? نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پھر جب دونوں (رضائے الٰہی کے سامنے) جھک گئے (یعنی دونوں نے مولا کے حکم کو تسلیم کرلیا) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا (اگلا منظر بیان نہیں فرمایا)۔  ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم! واقعی تم نے اپنا خواب (کیاخوب) سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (سو تمہیں مقامِ خلّت سے نواز دیا گیا ہے)۔ بے شک یہ بہت بڑی کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اِس کا فدیہ کر دیا۔(الصافات102:37۔107)

علامہ بیضاوی لکھتے ہیں:اس ذبیحہ کی شان بہت بلندہونے کی وجہ سے اسے بڑافرمایاگیا،کیونکہ یہ اس نبی کافدیہ بنا،جن کی نسل سے سیدالمرسلین? ہیں۔(تفسیربیضاوی،ج5،ص22)

قربانی یادگارابراہیم علیہ السلام:

عید الاضحی کے موقع پر کی جانے والے قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اسی قربانی کی یادگار ہے اور آپ کی یہ سنت دین اسلام میں صاحب نصاب پروجوب کادرجہ رکھتی ہے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے پوچھا:یا رسول اللہ ?! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا :تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں، صحابہ نے عرض کیا: ہمارے لیے ان میں کیا ثواب ہے؟ ارشاد فرمایا :ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے،صحابہ نے مزیدپوچھا: اور اون میں؟ ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی ایک نیکی ہے۔(سنن ابن ماجہ:3127)

حضرت اسماعیل علیہ السلام کانکاح اورسیدہ ہاجرہ کی وفات:

آپ علیہ السلام انتہائی ذہین،ہونہار اورخوبرونوجوان  ہونے کے ساتھ تقوی وطہارت کامنبع تھے،آپ علیہ السلام کے اوصاف وخصائل دیکھ کرقبیلہ جرہم نے اپنے خاندان کی ایک عورت سے نکاح کردیانکاح کے کچھ عرصہ بعدآپ کی والدہ کاوصال ہوا۔

آب زم زم کی فضیلت:

زم زم کے چشمے کاآپ علیہ السلام کی زندگی مبارکہ کے ساتھ گہراتعلق ہے جوآج تک بحکم الٰہی جاری ہے۔اس چشمہ کے پانی کی فضیلت  اوربابرکت ہونے پربہت سی احادیث مبارکہ ملتی ہیں چندایک حسب ذیل ہیں:

1. نبی کریم ? نے فرمایا: بے شک زمزم کا پانی برکت والا ہے یہ پیٹ بھرنے والا کھانا ہے۔(صحیح مسلم:6359)یعنی جس طرح کھانا کھانے والے کا پیٹ بھر جاتا اور بھوک مٹ جاتی ہے، ایسے ہی زمزم پینے والے کا پیٹ بھر جاتا ہے اور بھوک ختم جاتی ہے۔

2. نبی کریم ? نے  فرمایا:آب زمزم جس مراد سے پیا جائے اسی کے لیے ہے۔(سنن ابن ماجہ:3062)

3. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ  رسول کریم ? نے فرمایا:آب زمزم جس مراد سے پیا جائے اسی کے لیے ہے ،اگر تم حصول شفا کے لیے اسے سے پیو گے تو اللہ تعالی تمہیں شفا عطا کرے گا، اگر تم کسی چیز سے پناہ مانگنے کے لیے اسے پیو گے تو اللہ تعالی تمہیں پناہ دے دے گا، اگر تم اس لیے زمزم پیو گے کہ تمہاری پیاس ختم ہو جائے تو اللہ تعالی اسے ختم فرما دے گا۔ امام مجاہد فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب بھی زمزم پیتے تو یہ دعا مانگا کرتے : اے اللہ !میں تجھ سے نفع دینے والے علم، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں۔(مستدرک حاکم:1739)

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات وتدفین

ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن احمد السہیلی لکھتے ہیں :

حضرت اسماعیل علیہ السلام  نے اپنی مستعارزندگی کی ایک سو تیس (130) بہاریں دیکھ  کروفات پائی اورمقام حجر(حطیم کعبہ) میں اپنی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی قبرانورکے قریب دفن ہوئے۔ (الروض الانف، ج1، ص40)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اتحاد بین المسلمین،ضرورت و اہمیت

اسلام ایک ایسا خوبصورت مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جن میں عبادات کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام امور و معاملات شامل ہیں۔ دین اسلام کی ہمہ گیری کا تقاضا یہی ہے کہ اُمت مسلمہ ایک وحدت کی حیثیت سے آپس میں مل کر اتفاق و اتحاد سے رہے۔ اس ضمن میں تمام اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکیوں کی تلقین کریں اور برائیوں سے بچیں ایک دوسرے کو بھی برائی سے روکیں۔۔۔

عاشوراکی فضیلت

محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو عاشورا کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں دسواں دن۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اور برکت کا حامل ہے۔یوم عاشورا زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ کے نزدیک بڑا محترم دن تھا۔ اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کچھ روایات اس کے بارے میں ان تک پہنچی ہوں گی۔

اہل بیت سے محبت ایمان کی معراج

حضورِ اقدس ﷺنے اپنے ’’ اہل بیت اطہارؓ ‘‘ کے ساتھ نیک اور عمدہ سلوک کرنے والے کو پسند فرمایا ہے اور ان کے ساتھ برا اور غلط سلوک کرنے والے کو ناپسند فرمایا ہے۔ حضرت جُمیع بن عمیر ؒ کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں اپنی پھوپھی کے ساتھ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟،

مسائل اور ان کا حل

نام رکھنے کا شرعی اصول وطریقہ سوال:ایک قومی اخبار میں ایک مفتی صاحب کے مؤقرکالم میں پڑھاکہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام رکھاجائے تو اس کے ساتھ عبدکی اضافت لازم ہے، نیز چند سال قبل ایک ہفت روزہ اخبار نے بھی ایساہی جواب شائع کیا تھا۔ بندہ ناچیز 12 سال تک مسلسل مختلف خلیجی ریاستوں میں بسلسلۂ روزگارمقیم رہاہے وہاں اسمائے حسنیٰ کا بے دریغ استعمال غیراللہ یامخلوق کیلئے عام ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں

بجلی کی سیاست

بجلی کے بل پاکستان کی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگے ہیں ۔ لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن بجلی کے بلوں کی بنیاد پر ہی لڑا جائے گا۔2013ء کے انتخابات پر بھی بجلی بحران کے اچھے خاصے اثرات تھے۔

بجلی بلوں کا بحران حکومت کا امتحان دو سو یونٹ والوں کیلئے ریلیف کتنا کارگر ہو گا؟

سیاسی حکومت کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دبائو کو محسوس کرتی ہے اور جہاں ضروری ہوتا ہے فیصلے بھی کر لیتی ہیں، خصوصاً جب حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں عوام کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہو اور اس کے نتیجہ میں ردعمل نظر آئے۔