اونٹنی پر سیاست،وڈیرے کی طاقت

تحریر : طلحہ ہاشمی


سندھ کی سیاست اس وقت صرف ایک چیز کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ ہے اونٹنی کی ٹانگ کاٹے جانے کا واقعہ۔ یہ واقعہ گزشتہ ہفتے سانگھڑ کے علاقے منگلی میں پیش آیا جہاں ایک وڈیرے نے اپنے کھیت میں گھسنے والی اونٹنی کو غیظ و غضب کا نشانہ بناڈالا۔ وڈیرے کو غصہ تھا کہ اونٹنی کی یہ ہمت کہ وڈیرے کے مال پر منہ مارے اور وہ بھی سرعام۔ وڈیرے نے اونٹنی کو مثالِ عبرت بنا ڈالا کہ آئندہ کوئی اس کی یا اس کے مال کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ کرے۔

پہلے تو اس نے اپنے کارندوں کی مدد سے اونٹنی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس پر بھی دل کو ٹھنڈ نہ پڑی تو اونٹنی کی ٹانگ ہی کاٹ دی۔ اونٹنی کا مالک کٹی ہوئی ٹانگ لے کر پریس کلب سانگھڑ جا پہنچا اور بتایا کہ ایک بااثر شخص نے یہ ظلم کیا ہے۔ اونٹنی کے رونے اور درد سے چلانے کی ویڈیو سوشل میڈیا اور میڈیا پر وائرل ہوئی، پولیس نے وڈیرے کے خلاف تو مقدمہ درج نہ کیا البتہ 13 جون کو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اونٹنی کے مالک نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا،  اس لیے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ اونٹنی کے مالک سومر بھن کا بعد میں کہنا تھا کہ وہ ٹانگ کاٹنے والے لوگوں کو نہیں جانتا۔ مقدمہ بھی اسی لیے درج نہیں کرایا۔ پھر یہ بات بھی سامنے آئی کہ اونٹنی کے مالک اور وڈیرے میں تصفیہ ہوگیا ہے۔ طاقتور اور مظلوم کے درمیان ایک اور تصفیہ۔ بات شاید آئی گئی ہوجاتی لیکن میڈیا نے معاملہ سرد نہ پڑنے دیا۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھی معاملہ نپٹ جانے کی تصدیق کی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ معاملہ انسانی طور پر برداشت کے قابل نہیں۔ اب تک کچھ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، دو افراد نے اعترافِ جرم بھی کرلیا لیکن وڈیرے کا کیا ہوا؟ اصل  ملزم کہاں ہے؟ شازیہ مری پیپلز پارٹی کی رہنما ہیں اور پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان بھی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اونٹنی کا کراچی میں علاج جاری ہے اور اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے مطابق اس واقعہ نے ہر انسان کا دل ہلا دیا، وڈیرے، اس کے ساتھی، جرم چھپانے والے پولیس حکام اور اپنے حامی مجرم کو بچانے والے طاقتور سیاستدان سب بھگتیں گے۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ پنجاب میں ایسا ہوا ہوتا تو مجرم جیل میں ہوتا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر عینی مری کا جواب آیا کہ پانچ ملزم پکڑے جاچکے ہیں، ضروری نہیں کہ بندہ لیڈرشپ کی چمچا گیری میں سچ ہی نہ دیکھ پائے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری بھی خاصے متحرک ہیں، انہوں نے اونٹنی کو دستیاب علاج معالجے کی سہولتوں کا جائزہ لیا اور بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا کہ اصل مجرموں کو گرفت میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظالم کو سزا نہ ملی تو پھر کسی کو کوئی ڈر خوف نہ ہوگا۔ گورنر کے مطابق وہ اونٹنی کے معاملے پر سیاست نہیں کررہے، نہ کسی اور کو کرنی چاہیے۔ کامران ٹیسوری نے انکشاف کیا کہ انہیں اونٹنی کی عیادت کرنے سے منع کیا گیا۔ گورنر کے مطابق اگر اونٹنی کی وجہ سے گورنر شپ جاتی ہے تو چلی جائے، انہیں کوئی پروا نہیں۔ 

ہر ایک کہہ رہا ہے کہ اونٹنی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے لیکن سیاست ہورہی ہے۔ اگر میڈیا معاملہ نہ اٹھاتا، ویڈیوز وائرل نہ ہوتیں تو بے چاری اونٹنی مرکھپ جاتی، تب بھی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ کہتے ہیں سیاست کا دل نہیں ہوتا، لگتا یہ ہے کہ سیاستدانوں کا دل ہوتا ہے لیکن ان کا دل ہر اس بات پر دھڑکتا ہے، سینے کے پنجر سے اچھل اچھل کر باہر آنے لگتا ہے جب اس میں سیاسی مفاد ہو۔ اونٹنی کو پتا بھی نہیں ہوگا کہ معاملہ کہاں تک چلا گیا ہے، عوام ناراض ہیں، غصے میں ہیں، منتظر ہیں کہ وڈیرے کو کب پکڑا جائے گا، وڈیرا پکڑا گیا تو ٹھیک، نہیں پکڑا گیا تو عوام کیا کرلیں گے۔ البتہ ایک بات سب جاننا چاہتے ہیں کہ وڈیرے کا تعلق کیا کسی سیاسی جماعت سے ہے؟

اب کچھ ذکرعیدالاضحی پر کراچی کی سڑکوں، گلیوں سے آلائشیں اٹھانے کا۔تو بات یہ ہے کہ صفائی کا یہ سلسلہ جاری ہے لیکن انتظامیہ کی سستی اور نااہلی واضح ہے اور کچرا کنڈیوں سے اٹھنے والا تعفن بہت تکلیف دہ ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عید کے تینوں دن شہر کا دورہ کرتے رہے، صفائی کے کاموں کی نگرانی کی، یقیناً انہیں بھی انتظامیہ کی کوتاہیاں نظر آئی ہوں گی۔ ان خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے انتظامیہ اپنی جگہ عوام نے بھی کراچی کی بدصورتی بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جس کا جہاں دل چاہا جانور کو لٹایا، قربان کیا، آلائشیں پھینکیں، گوشت اٹھا یااور چلتا بنا۔ اب یہی شہری گندگی اور بدبو کی شکایت کر رہے ہیں۔ کیا انہوں نے یہ بھی سوچا کہ ذمہ داری صرف انتظامیہ کی نہیں ہوتی، کوئی سماجی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔شہری حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسا نظام وضع کرے کہ گندگی پھیلانے، سڑکیں توڑنے اور کاٹنے والوں پر بھرپور جرمانے عائد ہوں۔ شہری املاک کو جتنا نقصان پہنچے، صفائی پر جتنا خرچ آئے، وصول کیا جائے۔ پھر دیکھتے ہیں کہ اگلے سال کون سڑک پر قربانی کرکے آلائش پھینک کر جاتا ہے۔ سیاست اپنی جگہ لیکن اگر شہر کی ذمہ داری اٹھائی ہے تو مرتضیٰ وہاب کو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ کراچی کے لیے اچھی خبریہ ہے کہ کراچی میں رواں ماہ دو ایک روز کے لیے ہلکی بوندا باندی کی توقع ہے، ساتھ آندھی بھی ہوگی  اور پھر وہی گرم موسم اور حبس و پسینہ، لیکن خاطر جمع رکھیں جولائی میں پری مون سون کی بارشیں ہوسکتی ہیں۔ شہری انتظامیہ نے شہر نہ دھویا تو کیا ہوا قدرت نے انتظام کردیا۔آخری اور معلوماتی خبر یہ ہے کہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ چارج پر لگا کر بھول نہ جائیں، اگربیٹری چارج ہونے کے بعد خودکار نظام کے تحت کرنٹ کی روانی نہ رکے تو بیٹری گرم ہوکر پھٹ بھی سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ فیصل آباد میں پیش آیا ہے جہاں چارجنگ پر لگے لیپ ٹاپ کی بیٹری پھٹنے سے گھر میں آگ لگ گئی۔ سات افراد جھلس گئے، جن میں دو بہن بھائی ہسپتال میں جاں بحق ہوگئے۔ اس لیے احتیاط کیجیے اور الرٹ رہیے!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

’’رمز قرآن از حسین آموختیم‘‘سیدنا امام حسین یوم شہادت

10 محرم الحرام کویو م عاشوربھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کی خیروبرکت روزاوّل سے ہی مسلم ہے۔61ہجری میں اس دن واقعہ کربلارونما ہوا جس کو جو شہرت دوام اورتاریخی مقام ملاوہ اس سے پہلے نہ تھا اور نہ ہی اس کے بعد ہے۔ قافلہ شہداء کربلا کے سرخیل اور راہبر و راہنما نواسہ رسول، شہزادہ علی المرتضیٰؓ اور جگر گوشہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔یہ دن آپؓ کی وجہ سے صبر، استقامت، شجاعت،حق گوئی، حوصلہ مظلوم اور ظالموں کی چیرہ دستیوں کااستعارہ بنا۔اس مختصرمضمون میں شہیدِکربلاسیدناامام حسین ؓ کی شخصیت وکردارکے چندایک پہلوبیان کیے جاتے ہیں۔

راحت جان عالم جگر گوشہ رسولﷺ

نبی کریمﷺ کو اپنے نواسوں سیدنا امام حسن ؓ اور سیدنا حضرت امام حسینؓ سے بہت محبت تھی۔ آپﷺ نے دونوں شہزادوں کی شان خود بیان فرمائی تاکہ امت کو اندازہ ہو سکے کہ یہ دونوں بھائی کس عظمت و شان، مقام و مرتبہ کے حامل ہیں۔ کئی احادیث ان کی شان میں ہیں۔

شہداء کربلا

واقعہ کربلا کے سلسلہ میں مؤرخین کے ہاں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ بعض مؤرخین نے امامؓ کی فوج کو 72 تک ہی محدود کیا ہے۔ ان لوگوں نے صرف کربلا میں صبح عاشور سے لے کر عصر عاشور تک کے شہداء کو مانا ہے۔

دس محرم الحرام

وہ حسینؓ جس کے بارے میں رسول اللہﷺ کا فرمانِ ہے کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓ سے ہوں‘‘۔ وہ حسینؓ جس کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حسنؓ اور حسینؓ میری دنیا کے پھول ہیں‘‘۔ حسینؓ وہ جس کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اے اللہ میں حسینؓ سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر‘‘۔ وہ حسینؓ کہ جس کے بارے آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حسن وحسینؓ جنت میں نوجوانوں کے سردار ہوں گے‘‘۔آیئے اسی حسینؓ پاک کی داستانِ شہادت پہ ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

یادرفتگان: حمایت علی شاعر:ہمہ جہت ادبی شخصیت

تعارف: حمایت علی شاعر کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان کے شہر اورنگ آباد میں 14 جولائی 1926ء کو ہوئی ۔ ان کا خاندانی نام حمایت تراب تھا۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد ہندوستانی افواج میں ملازم تھے لیکن انہو ںنے الگ راستہ اختیار کیااور بچپن ہی سے شعرو سخن کی طرف مائل رہے۔ ہندوستان سے ہجرت کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔

ابتدائی اینگلوسَیکسَن ادب

یورپ کے مختلف ممالک میں قومی ادب نشاۃ ثانیہ کے بعد ہی پھلے پھولے مگر ان کے بیج ہر ملک کی سرزمین پر عرصہ دراز سے موجود تھے اور ان کی جڑیں برابر پھیلتی رہیں۔ چنانچہ اینگلو سَکیسَن قوم(جو یہاں پانچویں صدی عیسوی میں آکر آباد ہوئی تھی) کے ادب پاروں میں ہمیں اس مخصوص ادب کی جھلک دکھائی دیتی ہے جو ملکہ الزبتھ کے عہد میں اپنے اوج کمال پر پہنچا اور اپنی قومی انفرادیت کی بنا پر تمام یورپ کے ادب سے ممتاز نظر آیا۔