استخارہ: خیروبھلائی طلب کرنا

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو اور وہی چیز تمہارے حق میں بہتر ہو ، اور ایک چیز کو تم اچھا سمجھو اور وہی تمہارے حق میں بری ہو‘‘ (البقرہ:216) ’’جس نے استخارہ کیا ناکام نہیں ہوا اور جس نے (کسی سے) مشورہ طلب کیا وہ پشیمان نہیں ہوا‘‘ (مجمع الزوائد: 280/2)

’’استخارہ‘‘ لغت میں کسی سے کوئی خیر و بھلائی طلب کرنے کو کہتے ہیں ۔ اور اصطلاحِ شرع میں اُس نماز اور دُعا کو کہتے ہیں جو کسی معاملہ کے مفید یا مضر ہونے میں شک و تردّد پیدا ہوجانے کی صورت میں حق تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خاص کیفیت کے ساتھ ادا کی جائے ، تاکہ مطلوبہ معاملہ میں شک و تردّد زائل ہوکر اُس کا مفید اور مثبت پہلو سامنے آجائے ۔

استخارہ در حقیقت مشورہ ہی کی ایک خاص نوع ہے ، کیوں کہ جس طرح مشورہ اپنے ابنائے جنس اور اقران و امثال (یعنی اپنے ہم عصر و ہم خیال لوگوں (رفیعؔ) سے اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ کسی معاملے میں شک و تردّد زائل ہوکر ایک مخصوص جانب متعین ہوجائے ، بالکل اسی طرح استخارہ بھی گویا اللہ تعالیٰ (جوکہ علیم و خبیر ہیں ) سے ایک قسم کا مشورہ ہی ہے تاکہ مطلوبہ معاملہ میں دو پہلوؤں میں سے ایک پہلو جو اللہ تعالیٰ کے علم میں آدمی کے حق میں بہتر اور خیر والا ہو وہ متعین ہوکر سامنے آ جائے‘‘ (استخارہ کی شرعی حیثیت:ص5)

 انسان خواہ کتناہی عاقل و زیرک اور تجربہ کار کیوں نہ ہو جائے بہر حال اپنی رائے اور فکر میں غلطی کا احتمال رکھتا ہے ، فائدہ مند چیز کو ضرر رساں اور ضرر رساں چیز کو فائدہ مند سمجھ بیٹھتا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو اور وہی چیز تمہارے حق میں بہتر ہو ، اور ایک چیز کو تم اچھا سمجھو اور وہی تمہارے حق میں بری ہو۔‘‘ (البقرہ: 216)

اسلامی تعلیمات کے جو روشن اور گراں مایہ اُصول انسان کی دُنیا و آخرت اور معاش و معاد کی درُستی کے کفیل ہیں، استخارہ بھی انہیں میں سے ایک مسنون زرّیں اُصول ہے ۔   حدیث مبارکہ ہے، حضرت جابر ؓ  فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ  ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنے کی تعلیم اس طرح ارشاد فرماتے تھے جس طرح قرآنِ مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔(صحیح بخاری: 81/8، جامع ترمذی: 345/2)  ایک دوسری حدیث میں آتا ہے: حضرت سعد ؓکہتے ہیں کہ نبی پاک ا نے ارشاد فرمایا : ’’بندہ کا اپنے رب سے استخارہ کرنا اور اُس کے فیصلہ پر راضی رہنا اُس کی نیک بختی میں سے ہے۔ اور بندہ کا اپنے رب سے استخارہ نہ کرنا اور اُس کے فیصلہ پر راضی نہ رہنا یا فیصلہ کے بعد راضی نہ رہنا اُس کی بدبختی میں سے ہے۔(مسند بزار: 3/305)۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے:  حضرت ابن مسعو ؓد فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سوائے استخارہ اور تشہد کی احادیث کے اور کوئی حدیث نہیں لکھتے تھے (مصنف ابن ابی شیبہ: 262/1)۔ اندازہ لگایئے کہ عہد نبوی ﷺ میں ’’استخارہ‘‘ کی کس قدر اہمیت و افادیت تصور کی جاتی تھی؟۔ایک حدیث میں آتا ہے : ’’حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے استخارہ کیا ناکام نہیں ہوا اور جس نے (کسی سے) مشورہ طلب کیا وہ پشیمان نہیں ہوا۔یعنی جو آدمی اپنے معاملات میںاستخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو وہ کبھی پشیمان نہیں ہوگا ۔اس لئے کہ جو کام کیا وہ مشورہ کے بعد کیا اور اگر نہیں کیا تو مشورہ کے بعد نہیں کیا ، اس وجہ سے وہ نادم نہیں ہوگا (مجمع الزوائد: 280/2)۔ اس حدیث میں یہ جو فرمایا کہ : ’’استخارہ کرنے والا ناکام نہیں ہو گا‘‘ مطلب اس کا یہی ہے کہ انجام کار استخارہ کرنے والے کو ضرور کامیابی ملے گی ، چاہے کسی موقع پر اُس کے دل میں یہ خیال بھی آجائے کہ جو کام ہوا وہ اچھا نہیں ہوا ، لیکن اس خیال کے آنے کے باوجود کامیابی اسی شخص کو ہوگی جو اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتا ہے ۔ اور جو شخص مشورہ کرکے کام کرے گا وہ پچھتائے گا نہیں ، اس لئے کہ بالفرض اگر وہ کام خراب بھی ہوگیا تو اس کے دل میں اس بات کی تسلی موجود ہوگی کہ میں نے یہ کام اپنی خود رائی سے اور اپنے بل بوتے پر نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دوستوں اور بڑوں سے مشورہ کرنے کے بعد کیا تھا ، اب آگے اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے کہ وہ جیسا چاہیں فیصلہ فرما دیں۔ اس حدیث میں دو باتوں کا مشورہ دیا گیاہے ۔ ایک جب بھی کسی کام میں کشمکش ہو تو دوکام کرلیا کرو! ایک استخارہ (یعنی اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی کا مطالبہ) کر لیا کرو! اور دوسرے استشارہ (یعنی بندوں سے) مشورہ کر لیا کرو(استخارہ کا مسنون طریقہ: ص 15، 16)

استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہو کر دن رات میں سوائے مکروہ اوقات (طلوعِ شمس، نصف النہار اور غروبِ آفتاب) کے علاوہ کسی بھی وقت استخارہ کی نیت سے دو رکعت نمازپڑھے ، اور اس کے بعد خوب دل لگا کر یہ دُعا مانگے: ’’اے اللہ! میں تیرے علم کے وسیلہ سے تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں ا ور تیری قدرت کے واسطہ سے (نیک عمل کرنے کی ) تجھ سے قدرت مانگتا ہوں ۔ اور میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں ، کیوں کہ تو ہی (ہر چیز پر) قادر ہے ۔ میں (تیری مرضی کے بغیر کسی چیز پر ) قادر نہیں ہوں ، تو (سب چیزوں کو ) جانتا ہے ، میں کچھ نہیں جانتا ، اور تو پوشیدہ باتوں کو بھی جاننے والا ہے ۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یعنی مقصد) میرے لئے میرے دین میں ، میری دُنیا میں ، میری زندگی اور میری آخرت میں یا (راوی کو اس میں شک ہے ) اِس جہان (یعنی دُنیا) میںاور اُس جہان (یعنی آخرت)  میںبہتر ہے تو اسے میرے لئے مہیا فرمادے ، اور اسے میرے لئے آسان فرمادے ، پھر اس میں میرے واسطے برکت دے ۔ اور اگر تو اِس امر (یعنی میرے مقصد اور میری مراد) کو میرے دین ، میری زندگی اور میری آخرت میں ، یا فرمایا اِس جہان اور اُس جہان میں برا جانتا ہے تو مجھے اُس سے اور اُسے مجھ سے پھیر دے ، اور میرے جہاں بھلائی ہو وہ مہیا فرما! ، پھر اس کے ساتھ مجھے راضی کر‘‘ (صحیح بخاری:18/8)

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ استخارہ کرنے کے بعد خود استخارہ کرنے والے کے دل کا رجحان ایک طرف ہوتا ہے ، سو! جس طرف رجحان ہوجائے آدمی وہ کام کرلے ، اور بکثرت ایسا رجحان ہوجایا کرتا ہے ، لیکن اگر بالفرض استخارہ کرنے کے بعد آدمی کا رجحان کسی ایک طرف نہ ہو سکے اور دل میں کشمکش اور تذبذب موجود ہو تو تب بھی استخارہ کرنے کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ استخارہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ بندہ کیلئے وہی کام کرتے ہیں جو اُس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، اور اس کے بعد قدرتی طور پر حالات ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ پھر وہی ہوکر رہتا ہے جس میں بندے کیلئے بھلائی اور بہتری ہوتی ہے، 

حضرت مکحول ازدیؒ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ بعض اوقات انسان اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتا ہے کہ جس کام میں میرے لئے خیر ہو وہ کام ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے وہ کام اختیار فرمادیتے ہیں جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، لیکن ظاہری اعتبار سے وہ کام اس بندہ کی سمجھ میں نہیں آتا تو بندہ اپنے پروردگار سے ناراض ہوتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تو یہ کہا تھا میرے لئے اچھا کام تلاش کیجئے لیکن جو کام ملا وہ تو مجھے اچھا نظر نہیں آرہا ہے ، اس میں میرے لئے تکلیف اور پریشانی ہے ، لیکن کچھ عرصہ بعد جب انجام سامنے آتا ہے تب اس کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے میرے لئے جو فیصلہ کیا وہی میرے حق میں بہتر تھا۔ اس وقت اسے پتہ نہیں تھا اور یہ سمجھ رہا تھا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا صحیح ہونا بعض اوقات دُنیا میں ظاہر ہوجاتا ہے اور بعض اوقات دُنیا میں تو ظاہر نہیں ہوتا لیکن آخرت میں ضرور ظاہر ہوگا۔

اب جب وہ کام ہوگیا تو ظاہری اعتبار سے بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ جو کام ہوا وہ اچھا نظر نہیں آرہا ہے ، دل کے مطابق نہیں ہے ، تو بندہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتا ہے کہ یا اللہ! میں نے آپ سے استخارہ کیا تھا ، مگر کام وہ ہوگیا جو میری مرضی اور طبیعت کے خلاف ہے اور بظاہر یہ کام اچھا معلوم نہیں ہورہا ۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرما رہے ہیں کہ : ’’ارے نادان! تو اپنی محدود عقل سے سوچ رہا ہے کہ یہ کام تیرے حق میں بہتر نہیں ہوا ، لیکن جس کے علم میں ساری کائنات کا نظام ہے وہ جانتا ہے کہ تیرے حق میں کیا بہتر تھا اور کیا بہتر نہیں تھا ، اُس نے جو کیا وہی تیرے حق میں بہتر تھا ۔ بعض اوقات پوری زندگی میںکبھی پتہ نہیں چلے گا ، جب آخرت میں پہنچے گا تب وہاں جاکر پتہ چلے گا کہ واقعی یہی میرے لئے بہتر تھا ‘‘۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

’’رمز قرآن از حسین آموختیم‘‘سیدنا امام حسین یوم شہادت

10 محرم الحرام کویو م عاشوربھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کی خیروبرکت روزاوّل سے ہی مسلم ہے۔61ہجری میں اس دن واقعہ کربلارونما ہوا جس کو جو شہرت دوام اورتاریخی مقام ملاوہ اس سے پہلے نہ تھا اور نہ ہی اس کے بعد ہے۔ قافلہ شہداء کربلا کے سرخیل اور راہبر و راہنما نواسہ رسول، شہزادہ علی المرتضیٰؓ اور جگر گوشہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔یہ دن آپؓ کی وجہ سے صبر، استقامت، شجاعت،حق گوئی، حوصلہ مظلوم اور ظالموں کی چیرہ دستیوں کااستعارہ بنا۔اس مختصرمضمون میں شہیدِکربلاسیدناامام حسین ؓ کی شخصیت وکردارکے چندایک پہلوبیان کیے جاتے ہیں۔

راحت جان عالم جگر گوشہ رسولﷺ

نبی کریمﷺ کو اپنے نواسوں سیدنا امام حسن ؓ اور سیدنا حضرت امام حسینؓ سے بہت محبت تھی۔ آپﷺ نے دونوں شہزادوں کی شان خود بیان فرمائی تاکہ امت کو اندازہ ہو سکے کہ یہ دونوں بھائی کس عظمت و شان، مقام و مرتبہ کے حامل ہیں۔ کئی احادیث ان کی شان میں ہیں۔

شہداء کربلا

واقعہ کربلا کے سلسلہ میں مؤرخین کے ہاں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ بعض مؤرخین نے امامؓ کی فوج کو 72 تک ہی محدود کیا ہے۔ ان لوگوں نے صرف کربلا میں صبح عاشور سے لے کر عصر عاشور تک کے شہداء کو مانا ہے۔

دس محرم الحرام

وہ حسینؓ جس کے بارے میں رسول اللہﷺ کا فرمانِ ہے کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓ سے ہوں‘‘۔ وہ حسینؓ جس کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حسنؓ اور حسینؓ میری دنیا کے پھول ہیں‘‘۔ حسینؓ وہ جس کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اے اللہ میں حسینؓ سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر‘‘۔ وہ حسینؓ کہ جس کے بارے آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حسن وحسینؓ جنت میں نوجوانوں کے سردار ہوں گے‘‘۔آیئے اسی حسینؓ پاک کی داستانِ شہادت پہ ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

یادرفتگان: حمایت علی شاعر:ہمہ جہت ادبی شخصیت

تعارف: حمایت علی شاعر کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان کے شہر اورنگ آباد میں 14 جولائی 1926ء کو ہوئی ۔ ان کا خاندانی نام حمایت تراب تھا۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد ہندوستانی افواج میں ملازم تھے لیکن انہو ںنے الگ راستہ اختیار کیااور بچپن ہی سے شعرو سخن کی طرف مائل رہے۔ ہندوستان سے ہجرت کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔

ابتدائی اینگلوسَیکسَن ادب

یورپ کے مختلف ممالک میں قومی ادب نشاۃ ثانیہ کے بعد ہی پھلے پھولے مگر ان کے بیج ہر ملک کی سرزمین پر عرصہ دراز سے موجود تھے اور ان کی جڑیں برابر پھیلتی رہیں۔ چنانچہ اینگلو سَکیسَن قوم(جو یہاں پانچویں صدی عیسوی میں آکر آباد ہوئی تھی) کے ادب پاروں میں ہمیں اس مخصوص ادب کی جھلک دکھائی دیتی ہے جو ملکہ الزبتھ کے عہد میں اپنے اوج کمال پر پہنچا اور اپنی قومی انفرادیت کی بنا پر تمام یورپ کے ادب سے ممتاز نظر آیا۔