یادرفتگان:احمد ندیم قاسمی پہاڑوں سے اُترا شاعر

تحریر : محمد ارشد لئیق


والدہ ان کی اوّلین استاد تھیں جنہوں نے جرأت اور غیرت مندی کے ساتھ زندہ رہنا سکھایا

کئی عشروں تک اپنی ادبی صلاحیتوں سے ایک زمانے کو اپنا گرویدہ بنانے والے معروف شاعر، افسانہ اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی کل 18 ویںبرسی منائی جا ئے گی۔ ادبی افق پر ان کی تحریں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

احمد ندیم قاسمی کے آ باء و اجداد عرب سے ایران اور ایران سے برصغیر آئے اور ملتان میں قیام کیا۔ احمد ندیم قاسمی انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس (1920-21ء) تک لیتے  رہے ۔پرائمری کی جماعتیں انگہ کے پرائمری سکول سے پاس کیں (1921-25ء)۔گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول کیمبل پور گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج، کیمپبل پور اس زمانے میں ہائی کلاسز بھی کالج سے منسلک ہوتی تھیں (1929-30ء)۔ بعدزاں گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ (1930-31ء) سے میٹرک کیا۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں زیر تعلیم رہے۔ (1931-35ء) اور وہاں سے سے بی اے کیا۔

 معنوی اساتذہ میں اوّلیت ان کی والدہ کو حاصل ہے جنہوں نے جرات اور غیرت مندی کے ساتھ زندہ رہنا سکھایا۔ والدہ کے بعد ان کے سرپرست چچا پیر حیدر شاہ مرحوم تھے، جنہوں نے قرآن مجید کی تفسیر پڑھائی اور ان کے علم و ادب کے ذوق کو نکھارا۔ بعد میں اختر شیرانی کی قربت و محبت اور مولانا عبدالمجید سالک کی رہنمائی اور شفقت سے فیضیاب ہوئے۔

اردو اور عربی کے طالب علم ہونے کی وجہ سے ابتداً احمد ندیم قاسمی نے عربی کے اکابر شعراء و ادبا کا مطالعہ کیا۔ فارسی کا مطالعہ بعد میں شروع ہوا اور مرزا غالب تک کے تمام شعراء کو نہایت لگن اور ذوق و شوق سے پڑھا۔ علامہ شبلی اور مولانا ابوالکلام آزاد کے علمی کارناموں کے علاوہ اردو میں غالب اور اقبالؒ، فارسی میں غالب اور عرفی نے بطور خاص انہیں متاثر کیا۔ انگریزی کے توسط سے یا بعض اردو تراجم کے ذریعے ہومر اور افلاطون سے لے کر ایلیٹ اور پائونڈ تک کو پڑھ ڈالا۔ نیز روس، فرانس، جرمنی اور انگلستان کی فکشن کا سلسلہ وار مطالعہ کیا۔ شاعری میں گوئٹے اور شیکسپیئر اور فکشن میں ٹالسٹائے اور فلابیر نے موہ لیا۔ فلسفہ کا باقاعدہ مطالعہ نہیں کیا ہے، پھر بھی اس سے بے پناہ شغف تھا۔ برٹرینڈرسل تضادات کے باوجود انہیں بہت پسند تھے۔ ان کا خیال تھا کہ تضادات سے کوئی فلسفی نہیں بچا ہے۔ فلسفہ تاریخ میں ابن خلدون اور ٹوائن بی کا نہایت شوق سے مطالعہ کرتے ۔ علم نفسیات کے زعماء میں وہ کسی سے مطمئن نہیں تھے۔ البتہ فرائڈ اور ژنگ کو ضرور پڑھا اور ان کے کمالات کے قائل تھے۔

سائنس کی ایک ہی شخصیت ان کا آئیڈیل رہی۔ اور وہ تھی آئن اسٹائن۔ شاید اس لئے کہ وہ سائنس اور فلسفے کے مشاغل کے ساتھ ساتھ وائلن بھی بجا لیتا تھا۔احمد ندیم قاسمی1956ء میں صرف ایک بار پاکستانی اخبارات کے مدیروں کے وفد میں شامل ہو کر چین گئے اور وہاں ایک ماہ قیام کیا۔ دوران قیام جنوب میں کینٹین، شمال میں منچوریا اور مغرب میں سنگیانگ تک سیر کی۔سفر کے دوران میں ہانگ کانگ اور بنکاک میں بھی مختصر قیام کیا۔ وہ زندگی بھر حق اور سچ کے علمبردار رہے۔ مئی1951ء سے نومبر 1951ء تک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رہے۔ دوسری بار بھی اسی ایکٹ کے تحت اکتوبر 1958ء سے فروری 1959ء تک نظر بند رہنا پڑا۔ 

صحافت میں مزاحیہ کالم نگاری کی مشق مولانا عبدالمجید سالک کے معروف کالم ’’افکار و حوادث‘‘ سے شروع کی پھر 1952ء میں جب مولانا چراغ حسن حسرت (سند باد جہازی) روزنامہ ’’امروز‘‘ سے علیحدہ ہو گئے تو احمد ندیم قاسمی نے ان کا کالم ’’حرف و حکایت‘‘ لکھنا شروع کیا۔1953ء میں جب ’’ امروز‘‘ کے مدیر ہو گئے تو ’’ حرف و حکایت‘‘ کے کالم کیلئے فرضی نام پنج دریا‘‘ منتخب کیا۔ یہ سلسلہ 1959ء تک جاری رہا۔

1959ء میں اس روزنامے کی ادارت سے الگ ہو گئے اور اسی سال روزنامہ ’’ ہلال پاکستان‘‘ لاہور میں ’’ موج در موج‘‘ کے عنوان اور ’’پنج دریا‘‘ کے نام سے فکاہی کالم لکھنے لگے۔ جب ’’ہلال پاکستان‘‘ پر حکومت کا عتاب نازل ہوا تو ’’روزنامہ احسان‘‘ سے وابستہ ہو گئے اور ’’مطائبات‘‘ کے عنوان اور ’’ پنج دریا‘‘ کے نام سے کالم نگاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ کچھ عرصے بعد جب روزنامہ امروز‘‘ کی ملکیت سرکاری سے نیم سرکاری ہو گئی تو ایک بار پھر اسی میں ’’حرف و حکایت‘‘ لکھنے لگے، لیکن اس بار اپنا نام ’’ پنج دریا‘‘ کے بجائے ’’عنقا‘‘ رکھ لیا۔

اسی دوران احمد ندیم قاسمی نے روزنامہ کراچی کے ایک قومی اخبار میں ’’لاہور لاہور ہے‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم شروع کیا۔ اس کی نوعیت تہذیبی اور سیاسی سرگرمیوں کے جائزے کی تھی۔ 1970ء میں جب ’’ امروز‘‘ کے مدیر ظہیر بابر اس روزنامے کی ادارات سے مستعفی ہو گئے تو نتیجتاً احمد ندیم قاسمی بھی ’’امروز‘‘ سے الگ ہو گئے اور روزنامہ ’’حریت‘‘ سے منسلک ہو گئے اور ’’ موج در موج‘‘ کے عنوان سے روزانہ فکاہی کالم اور ’’ لاہوریات‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھنے لگے۔ بعد میں یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ۔ عوامی حکومت کے قیام پر ظہیر بابر نے ایک بار پھر روزنامہ ’’ امروز‘‘ کی ادارت سنبھالی تو اپریل 1973ء میں دوبارہ ’’ امروز‘‘ میں ’’ حرف و حکایت لکھنے لگے۔

احمد ندیم قاسمی ممکن ہے سب سے زیادہ کتب کے دیباچے لکھنے والے ادیب ہوں۔اتنے بہت سے دیباچے لکھے کہ نام اور تعداد تک کسی کویاد نہیں، جہاں دیباچہ نہیں لکھ سکے وہاں ’’فلیپ‘‘ لکھ دیا ۔اس کے پیچھے صرف ایک ہی جذبہ کار فرما رہا کہ مصنف کی حوصلہ افزائی ہواور اعلیٰ ادب کی تخلیق کا تسلسل برقرار ہے۔ 

 وہ فلمی دنیا میں بھی تشریف لے گئے۔ 1940ء میں منٹو کی دعوت پر ایک فلم ’’دھرم پتنی‘‘ کے مکالمے اور گیت لکھے مگر یہ فلم نہ بن سکی۔ 1941ء میں منٹو اور کرشن چندر کی کہانی ’’بنجارا‘‘ کے گیت لکھے یہ کہانی بھی سیلولائڈ پر منتقل نہ ہو سکی۔پھر1948ء میں منٹو کی کہانی ’’آغوش‘‘ کے مکالمے لکھے۔

ریڈیو پاکستان سے بھی بہت عرصہ وابستہ رہے۔ ابتدا میں 1946ء سے 1948ء تک پشاور ریڈیو اسٹیشن سے وابستہ رہے اور بحیثیت اسکرپٹ رائٹر خدمات انجام دیں۔پشاور ریڈیو کے پروگرام کا آغاز آپ ہی کے نغموں اور ترانوں سے ہوا تھا۔ٹیلی ویژن کی بات کی جائے توٹی وی میں ان کی تقریباً تمام مشہور مقبول کہانیاں، ڈراموں کی صورت میں ٹیلی ویژن اسکرین پر پیش کی جا چکی ہیں۔ 

احمد ندیم قاسمی نے 1963میں جب’’ فنون‘‘ شروع کیا تو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو فکشن اپنی بلندیوں پر تھا اور مزید اوپر جانے کے اشارے دے رہا تھا لیکن پھر یہ سلسلہ فکشن میں صرف ناول تک سمٹ کر رہ گیا اور گزشتہ سالوں کے دوران اردو لکھنے والوں میں ایک بھی افسانہ یا کہانی نگار ایسا نہیں ہے جو اپنی تخلیقی شناخت اور اسلوب میں الگ بھی ہو اور پڑھنے والوں سے وسیع تر رشتہ بھی رکھتا ہو۔اس بارے میں اگر مگر تو کی جا سکتی لیکن شاید اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس لیے احمد ندیم قاسمی کو جو آسانی میسر تھی وہ اب نہیں ہے۔ شاید اسی نے اردو کے ادبی پرچوں کی زندگیوں، آزادیوں اور رسائی کو متاثر کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ احمد ندیم قاسمی کے فن اور شخصیت پر بہت لکھا گیا بلکہ ان کے کارناموں پہ خصوصی نمبر بھی شائع ہوئے۔

فنی خدمات کے صلے میں احمد ندیم قاسمی کو ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور’’ ستارہ امتیاز‘‘ سمیت متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔پہاڑوں سے اتر کردنیائے صحافت اور فن و ادب میں نام کمانے والی یہ عظیم ادبی شخصیت 18 سال قبل 10جولائی 2006ء کو پنے مداحوں کو ہمیشہ کیلئے سوگوار چھوڑ گئی۔

خاندان

خاندانی نام احمد شاہ

ادبی نام احمد ندیم قاسمی

والد کا نام پیر نبی عرف نبی چن

قبیلہ اعوان

تخلص ندیم

تاریخ پیدائش 20نومبر1916ء

مقام پیدائش انگہ،ضلع خوشاب ( پنجاب)

 

پہلی مطبوعہ نظم

1931ء میں مولانا محمد علی کے سانحۂ ارتحال پر پہلی نظم کہی جو روزنامہ’’سیاست‘‘ لاہور میں مولانا محمد علی جوہر کے عنوان سے شائع ہوئی۔

 

افسانے

1- چوپال    مطبوعہ 1940ء

2-بگولے    مطبوعہ 1941ء

3-طلوع و غروب   مطبوعہ 1943ء

4- گرداب    مطبوعہ 1943ء

5- سیلاب    مطبوعہ 1944ء

 

پہلا شعری مجموعہ

’’دھڑکنیں‘‘(قطعات)، مطبوعہ جو کئی اضافوں کے ساتھ ’’ رم جھم‘‘ کے نام سے 1944ء میں شائع ہوا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پیرس اولمپکس:پاکستانی دستہ فائنل

کھیلوں کا مقبول ترین میگا ایونٹ سجنے کو تیار، پاکستان نے بھی اپنے دستے کو حتمی شکل دے دی۔ اولمپک کھیلوں کو دنیا کا اہم ترین مقابلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اولمپک کھیلوں میں موسم سرما اور موسم گرما کے مقابلے ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں، یعنی دو اولمپک مقابلوں کے درمیان دو سال کا وقفہ ہوتا ہے۔ان مقابلوں میں دنیا بھر سے ہزاروں کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔

یورو کپ:فائنل معرکہ آج

15جون سے جاری فٹ بال کا دوسرا بڑا ایونٹ ’’یورو کپ‘‘ آج اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں سپین اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ فائنل آج پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے جرمنی کے شہر برلن میں کھیلا جائے گا۔

مالینگ اور جادو کا برش

یہ ایک چینی کہانی ہے ۔ مالینگ ایک غریب لڑکا تھا۔ اس کے ماں باپ بھی اب دنیا میں نہیں تھے۔ مالینگ کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ ٹھیک سے کھانا کھا سکتا یا سکول میں تعلیم حاصل کر سکتا۔

سورج کی شعاعیں

سورج جو کہ نظامِ شمسی کا مرکز ہے اتنا روشن ہے کہ ہم اس کی جانب چند لمحوں کیلئے بھی دیکھ نہیں سکتے۔اس کا قطر زمین کے قطر سے سو گنا زیادہ ہے اور اس کی سطح اُبلتے ہوئے پانی سے بھی ساٹھ گنا زیادہ گرم ہے۔

چھوٹا پھول

ایک باغ میں بہت سے پودے اور درخت تھے، جن پر ہر طرح کے پھول اور پھل لگے ہوئے تھے۔ درختوں پر پرندوں کی چہچہاٹ اور پھولوں کی خوشبو باغ کو خوبصورت بنائے ہوئے تھی۔ ایک دفعہ گلاب کے بہت سے پھول کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ایک چھوٹا سا پھول آیا اور کہنے لگا ’’کیا میں آپ کے ساتھ کرکٹ کھیل سکتا ہوں‘‘۔

پہیلیاں

(1)ہے اک ایسا بھی گھڑیال جس کی سوئیاں بے مثال وقت بتائے نہ دن بتائےسب کچھ بس دکھلاتا جائے٭٭٭