صبح کا ستارہ مولانا ظفر علی خان: سوانح شخصیت اور فن

تحریر : اظہر عبادت


کتاب تین حصوں پرمشتمل ،پہلا حصہ ’’صبحِ بہار‘‘سوانحی خطوط روشن کرتا ہے،دوسرا حصہ ’’پارۂ سیماب‘‘ شخصیت سے متعلق ہے، تیسرا حصہ ’’اعجازِصحافت‘‘ قومی، ادبی اور صحافتی خدمات کا احاطہ کرتا ہے

وطن عزیز کی تاریخ میں مولاناظفرعلی خان کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ادب،صحافت اور سیاست کے دوائرمیں انھوں نے جو خدمات انجام دیں ان شعبوں کا کوئی مؤرخ انھیں نظر انداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکتا۔اگرچہ مولاناکے بارے میں متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن مولاناکی خدمات کا دائرہ اس قدروسیع ہے کہ اس موضوع پر کام کرنے کی ضرورت ابھی تک باقی ہے  ۔اس خیال کے تحت ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اب سے بارہ برس پہلے مولانا کے حوالے سے ایک جامع مجموعۂ مقالات مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی خیال یہ تھا کہ مولاناکے احوالِ حیات، شخصیت اور خدمات پر تین الگ الگ جلدیں مرتب کی جائیں تاکہ قاری کو جس پہلو سے معلومات درکارہوں وہ متعلقہ مجموعے سے حاصل کی جا سکیں۔ بارہ برس کی محنت کے بعدیہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ کر حال ہی میں شائع ہوگیاہے ۔

یہ کتاب تین حصوں پرمشتمل ہے ۔پہلا حصہ ’’صبحِ بہار‘‘انیس مضامین پر مشتمل ہے، جن سے مولاناکے سوانحی خطوط روشن ہوتے ہیں۔ دوسرا حصہ جسے ’’پارۂ سیماب‘‘ کانام دیاگیاہے مولانا کی شخصیت سے متعلق تیس مضامین  پر مشتمل ہے۔ تیسرا حصہ ’’اعجازِصحافت‘‘ ہے جس میں اٹھائیس مضامین شامل ہیں اور اس میں مولاناکی قومی، ادبی اور صحافتی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ تینوں کتابیں ایک ضخیم مجموعے’’ صبح کا ستارہ‘‘ کی صورت میں حال ہی میں مولانا ظفر علی خان فائونڈیشن سے چیئرمین خالد محمود صاحب نے شائع کی ہیں ۔

’’صبح کا ستارہ‘‘ بڑے سائز کے 928 صفحات پر مشتمل ہے جو کہ اب تک مولاناظفرعلی خان پر لکھی جانے والی تمام کتابوں میں ضخیم ترین کتاب ہے ۔اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف مضامین کو جمع ہی نہیں کیاگیا بلکہ ان کی اغلاط کی تصحیح بھی کی گئی ہے۔ پرانی مطبوعات، بوسیدہ کاغذ، لیتھو کی طباعت، عدم احتیاط اور کاتبوںکی چیرہ دستیوں کے باعث مضامین کا متن اور بالخصوص مولاناکے اشعار اغلاط سے محفوظ نہ تھے۔ 

ڈاکٹر زاہدمنیرعامرنے معمولی اغلاط کی تصحیح تو متن ہی میں کردی البتہ جہاں کہیں مصنف کی رائے پرتنقیدیا اس سے اختلاف ضروری تھااس کی نشان دہی مرتب کے حواشی کی صورت میں کی ہے۔یہ حواشی بہت معلومات افزاہیں اور مرتب کی شبانہ روزمحنت کے آئینہ دار ہیں۔زمانہ گزرجانے کے باعث اب یہ مضامین نوادرمیں شامل ہوچکے تھے۔ اگر اب بھی یہ مضامین محفوظ نہ کیے جاتے تو اندیشہ تھا کہ آنے والے وقت میںقوم ان سے محروم ہو جاتی۔ 

بہ قول ڈاکٹرمعین الدین عقیل’’ صبح کا ستارہ کے کیاکہنے ،اس کتاب کی صورت میں بہت وقیع کام ہوگیاہے اور یادگارمجموعہ مرتب ہو گیاہے شاید اتنا وقیع ومفیدکام ظفرعلی خان پر اب تک کوئی اورنہیں ہواہے۔اس کتاب میں ظفرعلی خان کی شخصیت وخدمات کے سارے ہی پہلو سمیٹ لیے گئے ہیں‘‘ فاضل مرتب نے تکرارسے بچنے کے لیے مضامین کے نئے عنوانات قائم کردیے ہیں ۔

ہرحصے کے آخر میں کمال محنت سے آیات و احادیث،اشخاص،اماکن،اداروں،کتب،جرائد،اشعاراورمنظومات کے نہایت جامع اشاریے شامل کیے گئے ہیں،جس سے کتاب کی افادیت میں بہت اضافہ ہو گیاہے۔مولاناظفرعلی خان کے حوالے سے ڈاکٹرزاہدمنیرعامرکی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں جن میں ’’مکاتیب ظفر علی خان‘‘، ’’مولاناظفرعلی خان: کتابیات‘‘، ’’کلیات نثر ظفر علی خان‘‘، ’’ظفر علی خان: خطوط و خیوط‘‘، ’’دوکوزہ گر‘‘، ’’قومی جدوجہدکی منظوم تاریخ :کلام ظفرعلی خان کے مجموعے اور شاریہ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

صبح کا ستارہ پرممتازمحقق ،شاعر اور دانشور ڈاکٹرخورشیدرضوی نے ذیل کا تبصرہ کیاہے: ’’صبح کا ستارہ ڈاکٹرزاہدمنیرعامرکی ایک تازہ کاوش ہے ۔تازہ ترین اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ ’’وہ قاری کے پڑھتے پڑھتے کتاب اور لکھ رکھوں‘‘کے قائل وعامل ہیں۔

یہ کتاب تثلیث کو توحید سے ہم کنارکرنے کی ایک مثال ہے ۔تین کتابیں اس میں یکجا ہیںجو علی الترتیب مولاناظفرعلی خان کے سوانح، شخصیت اور فن پر ممتاز اہل قلم کی تحریروں کا ایک عمدہ انتخاب پیش کرتی ہیں ۔ انتخاب ایک سہل ممتنع عمل ہے ۔کہنے کو آسان مگر کرنے بیٹھو تو دانتوں پسینہ آ جائے۔ ایک اچھے انتخاب کے کا حجم اس وسیع مطالعے کا عشرعشیربھی نہیں ہوتا جو نگاہ انتخاب میں جگہ نہیں پاسکا۔

مولانا ظفر علی خان، زاہد منیر عامرکی دوسری محبت کہے جا سکتے ہیں۔ انھیں مولاناکی شخصیت اور کارناموں دونوں سے گہرا شغف رہاہے جس کا ثبوت مولانا سے متعلق ان کی چھ سابقہ تصانیف ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ مولاناظفرعلی خان پر لکھی جانے والی شایدکوئی بھی قابل توجہ نگارش ایسی نہ ہوگی جو زاہدصاحب کی نظرسے اوجھل رہ گئی ہو۔اس تمام ذخیرے کو چھان پھٹک کر چیدہ نتائج قلم کی یہ قوس قزح مرتب کرنا ایک وقیع کارنامہ ہے جو مولاناکی متنوع اور متلون جہات کا بڑی خوبی سے احاطہ کرتاہے اور اپنے موضوع پرایک بیش بہااضافہ ہے‘‘۔ 

اس ضخیم کتاب کی قیمت دوہزارروپے ہے اور اسے مولاناظفرعلی خان فائونڈیشن، مسلم ٹائون لاہورسے طلب کیاجاسکتاہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

کام اور رشتوں میں توازن مضبوط تعلقات کیسے قائم رکھیں؟

آج کی خواتین زندگی کے کئی میدانوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ بیک وقت ملازمت، کاروبار، گھر، بچوں کی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔

عید الاضحیٰ کے فیشن ٹرینڈز

گرمیوں میں عید کیلئے ہلکے اور خوبصورت ملبوسات

آج کا پکوان:کلیجی مصالحہ

اجزا: بکرے کی کلیجی: آدھا کلو ، ہری پیاز، ہری مرچ :4،6 عدد، ادرک لہسن پیسٹ :1،1 چمچ، آئل :3،4 چمچ، نمک، گرم مصالحہ، کٹی لال مرچ، کالی مرچ اور لیموں کا رس۔کلیجی کی بُو ختم کرنے کے لیے اسے دھونے کے بعدلیموں کا رس اور تھوڑا سا خشک آٹا چھڑک کر کچھ دیر رکھ دیں پھر دھو کر پکائیں۔

عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا