سخاوت کا دریا

تحریر : اشفاق احمد خاں(آخری قسط )


سید نا عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہ بڑے معزز اور سخی تھے۔ اللہ کی راہ میں ایسے شخص کی طرح خرچ کرتے جسے فقر و فاقے کا قطعاً خوف نہ ہو۔ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے انہیں اس بات کی بالکل فکر نہیں ہوتی تھی کہ وہ خود تنگ دست ہو جائیں گے۔

 آپؓ ایسے کیوں نہ ہوتے آپؓ کے والد کو مسکینوں کی بہت زیادہ مدد کرنے پر ابو المساکین(مسکینوں کا باپ) کا خطاب ملا تھا۔ 

کہا جاتا ہے کہ عہد اسلام میں عربوں کے ہاں سخاوت کے لحاظ سے دس آدمی مشہور تھے۔ حجاز کے سخی لوگوں میں عبداللہ بن جعفرؓ، عبداللہ بن عباسؓ اور سعید بن عاصؓ تھے۔ ان تمام لوگوں میں عبداللہ بن جعفر ؓسے زیادہ فیاض اور سخی کوئی نہیں تھا۔ اسی سخاوت کی وجہ سے ان کا نام ’’بحرالجود‘‘( سخاوت کا دریا) پڑ گیا۔ 

ایک مرتبہ ایک دیہاتی مرو ان کے پاس گیا۔ مروان نے کہا: ’’ہمارے پاس تمہیں دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، تم عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس جائو( وہ تمہاری امداد کریں گے)‘‘۔چنانچہ اس دیہاتی نے سید نا عبداللہ ؓ کے گھر کا رخ کیا اور ان کی خدمت میں اشعار پیش کئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

’’ ابن جعفر ؓ نبوت کے اہل بیت میں سے ہیں، مسلمانوں کے اہل بیت کی دعائیں طہارت و پاکیزگی ہیں۔ اے ایسے شہید کے فرزند! آج آپ جیسا کوئی نہیں ہے جس سے میں امید کروں، سو آپ مجھے ( یوں خالی ہاتھ) نہ چھوڑ دیں کہ میں صحرا میں مارا مارا پھرتا ہوں‘‘۔

دیہاتی کے یہ اشعار سن کر سید نا عبداللہ ؓ نے فرمایا ’’ تیری پریشانی کا بوجھ ختم ہو گیا ہے۔ یہ سامان سے لدا ہوا اونٹ لے لو، یہ میں نے ایک ہزار دینار کے عوض خریدا ہے‘‘۔

ایک مرتبہ ایک آدمی ابن ابی فخر اپنا جانور بیچنے کیلئے نکلا، راستے میں عبداللہ بن جعفر ؓ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا: ’’ کیا اسے بیچو گے‘‘؟ اس نے کہا: ’’ نہیں، لیکن اللہ کی قسم! یہ تمہارے لیے ہے‘‘۔ ابن ابی فخر اتنا کہہ کر اس جانور کو وہیں چھوڑ گیا۔

 کچھ دنوں کے بعد رات کے وقت اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کچھ مزدوروں کو مال اٹھائے دیکھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا:تم کون ہو اور کس ارادے سے آئے ہو‘‘؟، انہوں نے کہا: ’’ ہم ابن جعفر ؓکے ہاں سے آئے ہیں‘‘۔

ابن ابی فخر نے کہا: ’’ تم کیا چاہتے ہو؟‘‘۔ اس نے ابھی اپنی بات مکمل نہیں کی تھی کہ مزدوروں نے اس کے سامنے گندم، زیتون، کپڑے اور کچھ دوسرا مال لا کر ڈھیر کردیا۔ یہ تھا ایک معمولی جانور کے عوض دیا جانے والا فیاضی سے بھرپور معاوضہ۔  

ایک آدمی نے آپؓ کی مدح و ستائش کی تو آپؓ نے اسے ایک اونٹ، گھوڑا، کپڑے اور درہم و دینار دیئے۔ سید نا عبداللہؓ  سے کہا گیا کہ آپ اس سیاہ فام شخص کو اتنا مال و متاع دے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:’’ اگر وہ سیاہ ہے تو اس کے بال تو سفید ہیں( یعنی عمر رسیدہ ہے)۔ دراصل وہ اپنی بات کی وجہ سے اس مال کا بلکہ اس سے کہیں زیادہ کا حقدار ہے جو اسے ملا ہے۔ ہم نے تو اسے صرف وہی چیز دی ہے جو بوسیدہ اور فنا ہو جائے گی۔ اس نے ہمیں مدح و ستائش اور تعریف دی جو بیان کی جائے گی اور ہمیشہ باقی رہے گی‘‘۔

سید نا عبداللہ بن جعفر ؓ بہترین مہمان نواز تھے۔ ان کی مہمان نوازی کے حوالے  ہی سے کہا گیا: ’’ اے ابن جعفرؓ  یقیناً آپؓ بہترین نوجوان ہیں، رات کو آنے والا جب آئے، آپؓ اس کا بہترین ٹھکانا ہیں‘‘۔

فیاضی اور مہمان نوازی کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ، سید نا عبداللہ بن جعفر ؓبہت عبادت گزار تھے۔ وہ دن کو روزہ رکھتے اور رات اللہ کی عبادت اور اس سے راز و نیاز میں گزارتے۔ 

سخاوت کا یہ دریا، جب تک زندہ رہا، زمانہ اس کی فیاضی، سخاوت، عبادت گزاری اور برد باری کے چرچے کرتا رہا۔ موت ہر ذی روح کا مقدر ہے۔ جو اس دنیا میں آیا ہے، اس نے جانا بھی ہے۔ سن اسّی ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ یہ وہی سال تھا جب وادی مکہ میں تباہ کن سیلاب آیا تھا، اس سال کا نام جحاف( تباہی مچانے والا) رکھا گیا، کیونکہ یہ تباہ کن سیلاب حاجیوں اور اونٹوں کو ان کے اوپر لدے ہوئے سامان سمیت بہا لے گیا تھا۔

جب سید نا عبداللہ بن جعفر ؓ کی وفات ہوئی تو اس وقت خلیفہ عبدالملک بن مروان کی طرف سے ابان بن عثمانؒ مدینہ منورہ کے امیر تھے۔ سو وہ ان کے غسل و کفن کے وقت حاضر ہوئے۔ ابان بن عثمان ؒ نے دو ستونوں کے درمیان سے آپؓ کی چار پائی اٹھائی اور بقیع( قبرستان کا نام) میں رکھنے تک کندھا دیے رکھا۔( غم کی وجہ سے) آنسو ان کے رخساروں سے بہہ رہے تھے اور ان کے لبوں سے یہ الفاظ نکل رہے تھے: ’’ (اے عبداللہؓ) اللہ کی قسم! آپؓ بہترین تھے، آپؓ میں کوئی برائی نہ تھی، آپؓ صاحب شرافت، نیک اور صلہ رحمی کرنے والے تھے‘‘۔ نماز جنازہ بھی امیر مدینہ نے پڑھائی۔بہت سے شاعروں نے آپ کی وفات پر مرثیے کہے۔ ان اشعار میں سے دو عمدہ اشعار جن کا ترجمہ یہ ہے:

’’ اللہ تعالیٰ کے اپنی مخلوق کو اٹھانے تک قیام کرنے والے، تمہاری ملاقات کی امید نہیں کی جاتی، اگرچہ تم قریب ہی ہو۔ آپ ہر دن رات بوسیدگی میں بھرتے جائیں گے، جیسے جیسے آپ بوسیدہ ہوتے جائیں گے( یعنی دن زیادہ گزرتے جائیں گے) اسی طرح آپ بھلا دیئے جائیں گے، جبکہ آپ محبوب ہیں‘‘۔

اسی طرح سرزمین حبشہ میں مسلمانوں کے ہاں سب سے پہلے پیدا ہونے والے عبداللہ بن جعفر ؓ فوت ہو گئے۔ دو پروں والے کے فرزند فوت ہو گئے۔ وہ شخصیت دنیا سے کوچ کر گئی جس نے سات سال کی عمر میں نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی۔ وفات کے وقت سید نا عبداللہ بن جعفر ؓکی عمر نوے سال تھی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق اللہ کے ذمہ:آغازِ پارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘ وہ، اُس کے قیام کی جگہ (اس سے مراد باپ کی پُشت یا ماں کا رَحم یا زمین پر جائے سکونت ہے) اور سپردگی کی جگہ (اس سے مراد مکان یا قبر ہے)، سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق منجانب اللہ:اس پارے کا آغاز سورۂ ہود سے ہوتا ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں‘ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔