خادمِ خاص (دوسری قسط )

تحریر : اشفاق احمد خاں


رسول اللہ ﷺ انس رضی اللہ عنہ کی ہر لحاظ سے دیکھ بھال فرماتے۔ گفتگو کے عمدہ آداب سکھائے۔ نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا۔

انس ؓ نماز اس طرح ادا کرتے کہ دوسروں کو رشک آتا۔انس ؓ کو دس سال رسول اللہﷺ کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان دس سالوں میں آپ ﷺ نے انہیں خادم سمجھ کر کبھی مارا اور نہ ہی ڈانٹا بلکہ کبھی کبھی انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مذاق بھی فرما لیتے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے انس ؓکو پکارا: ’’اے دوکانوں والے‘‘۔

انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اُم سُلیم رضی اللہ عنہا ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: ’’اے اللہ کے رسول ﷺ، یہ آپﷺ کا خادم انسؓ  حاضر ہے، اس کیلئے دعا کیجئے‘‘۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اسی وقت دعا کی: ’’ اے اللہ! انس کے جان و مال میں برکت فرما‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے دُعا قبول فرمائی اور انس ؓ کو بہت مال و دولت سے نوازا۔ اس دُعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسے باغ سے نوازا جو سال میں دو مرتبہ پھل دیا کرتا تھا۔ اس باغ کے پھولوں سے ایسی خوشبو آتی تھی جو کستوری کی مانند باغ کو مہکائے رکھتی۔ انس ؓ خود فرمایا کرتے تھے کہ انصار میں سب سے زیادہ مال دار میں ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں وسیع خاندان عطا کیا۔ایک دفعہ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے میری بیٹی نے خبر دی ہے کہ حجاج بن یوسف کے بصرہ آنے سے پہلے پہلے میری اولاد میں سے129 افراد وفات پا چکے ہیں۔

آپ ﷺ کی قربت نے انس رضی اللہ عنہ کو تقویٰ اور پرہیز گاری کا پیکر بنا دیا تھا۔ ان کے اندر عاجزی اور انکساری اور رسول اللہﷺ کی فرمانبرداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ دنیا کے افضل ترین انسان محمدﷺ نے انس ؓکو جس شفقت اور محبت سے نوازا تھا یہ خوبیاں اسی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ انسان کے اندر جو عاجزی اور انکساری، محبت اور عقیدت سے پیدا ہو، وہ ہمیشہ رہتی ہے۔ جو اطاعت زبردستی اور طاقت کے بل بوتے پر ہو وہ دیر پا نہیں ہوتی۔ طاقت کا زور ختم ہوتے ہی فنا ہو جاتی ہے۔

انس رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے تو اس قدر لمبا قیام کرتے کہ ان کے پائوں سوج جاتے۔ انہوں نے چونکہ رسول اللہ ﷺ سے نماز کا طریقہ سیکھا تھا، اس لئے ان کی نماز سب سے بہتر ہوتی۔حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے بہت زیادہ ملتی جلتی نماز پڑھتے ہوئے انسؓ ہی کو دیکھا ہے‘‘۔(یعنی انس رضی اللہ عنہ کی نماز، نماز نبوی سے زیادہ مشابہ ہے) اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے جس جس طریقے سے عبادت کی، انس رضی اللہ عنہ اس طریقے سے عبادت کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ سب ہی کا کہنا تھا کہ کون ہے جو انس رضی اللہ عنہ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ عبادت جانتا ہو، خود انس رضی اللہ عنہ فرماتے: ’’مجھ سے علم حاصل کرو، میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ علم حاصل کیا اور انہوں نے اللہ سے حاصل کیا ہے۔

انس رضی اللہ عنہ اس بات سے بہت ڈرتے تھے کہ کسی بات سے ان کے نیک اعمال برباد نہ ہو جائیں۔ انس ؓ ہمیشہ اللہ کی رضا کے طلب گار رہتے اور نافرمانی کا ڈر اپنے دل میں رکھتے۔ اسی بنا پر وہ بہت کم بولتے۔ یہ چیز بھی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سیکھی تھی۔ آپﷺ بھی بلا ضرورت گفتگو نہیں کرتے تھے بلکہ آپﷺ زبان کی حفاظت کا حکم یوں فرماتے: جو زیادہ باتیں کرتا ہے اس سے زیادہ غلطیاں ہوتی ہیں اور جس سے زیادہ غلطیاں ہوں اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہو جائیں اس کیلئے آگ بہتر ہے۔

انس ؓ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے۔ جب آپؓ بوڑھے ہو گئے، جسم میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہی تو کھانا تیار کرکے مسکینوں کو کھلا دیتے۔ ایوب ؒ فرماتے ہیں کہ انسؓ جب روزہ رکھنے سے عاجز آ گئے تو انہوں نے ایک بڑے برتن میں ثرید تیار کروایا، پھر تیس مسکینوں کو بلا کر انہیں کھلایا۔(ثرید ایک قسم کا کھانا ہے جو شوربے میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر تیار کیا جاتا ہے)۔

عبادت، تقویٰ اور پرہیز گاری میں اتنا مقام حاصل ہونے کے باوجود انس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے خوف سے لرزتے رہتے تھے اور اپنی تمام تر عبادت کے باوجود وہ جنت کے حصول کے بارے میں پر یقین نہیں تھے۔ اسی لئے ایک دن انہوں نے اللہ کے حبیب ﷺ سے شفاعت یعنی قیامت کے روز بخشش کی دعا کیلئے درخواست کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ضرور کروں گا‘‘۔

انس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’ اللہ کے رسولﷺ میں قیامت کے روز آپﷺ کو کہاں تلاش کروں‘‘؟ فرمایا ’’ سب سے پہلے پل صراط پر میرا انتظار کرنا‘‘۔انس رضی اللہ عنہ نے عرض کی ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر وہاں آپﷺ سے ملاقات نہ ہو سکی تو پھر‘‘؟ آپﷺ نے فرمایا’’ میں میزان کے پاس ہوں گا‘‘۔ انس ؓ نے پھر پوچھا ’’ اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکی تو پھر‘‘؟، فرمایا ’’ میں حوض کوثر کے پاس ہوں گا، ان تینوں مقامات میں سے کسی ایک مقام پر ضرور تم مجھے قیامت کے دن پا لو گے‘‘۔(جاری ہے)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق اللہ کے ذمہ:آغازِ پارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘ وہ، اُس کے قیام کی جگہ (اس سے مراد باپ کی پُشت یا ماں کا رَحم یا زمین پر جائے سکونت ہے) اور سپردگی کی جگہ (اس سے مراد مکان یا قبر ہے)، سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق منجانب اللہ:اس پارے کا آغاز سورۂ ہود سے ہوتا ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں‘ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔