بدقسمت ترین انسان

تحریر : روزنامہ دنیا


والٹر سمر فورڈکو کائنات کا بدقسمت ترین انسان کہا جاتا ہے۔ اس نے غیر معمولی بدقسمتیوں کا سامنا کیا ہے۔1919ء سے 1936ء کے درمیان چھ بار اس کا آسمانی بجلی سے ٹکرائو ہوا۔

 پہلی بار آسمانی بجلی اس پر 1918ء میں گری مگر وہ زندہ بچ نکلا۔ چھ سال کے عرصے یعنی 1924ء تک اس نے آسمانی بجلی کے مہلک ٹکرائو سے تین بار سامنا کیا اور وہ ہر بار زندہ بچ نکلا۔1930ء میں اس کا چوتھی بار بجلی سے سامناہوا۔ آخری اور مہلک وار 1932ء میں ہوا جو اس کیلئے جان لیوا ثابت ہوا۔ بات صرف زندگی تک محدود نہیں رہی۔ اس کے مرنے کے بعد چھٹی بار آسمانی بجلی1936ء میں اس کی قبر پر گری۔ 

 بار بار آسمانی بجلی سے ٹکرانے کے باوجود سمر فورڈ کی کہانی نے صرف اس کی بدقسمتی کیلئے نہیں بلکہ اس کی ناقابل یقین خوش قسمتی کیلئے بھی شہرت حاصل کی کہ وہ کیسے ہر بار بچ جاتا تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آئی سی سی مینزٹی 20 ورلڈکپ 2026ء:کھیل میں سیاست،بھارت بدترین میزبان

بھارت کی پاکستان سے نفرت اب دوسرے ملکوں کی ٹیموں میں نمائندگی کرنے والے پاکستانی کھلاڑیوں تک پہنچ گئی:ٹی 20 ورلڈکپ میں صرف19روزباقی، آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگالی ٹیم کے میچز کی میزبانی میں دلچسپی ظاہر کردی،پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیموں کے بعد امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز کیلئے بھی بھارت میں کھیلنا مشکل ہوگیا

مطیعِ اعظم (آخری قسط )

ایک مرتبہ ایک آدمی نے انہیں اس انداز میں پکارا: ’’ اے سب سے اچھے یا سب سے اچھے انسان کے بیٹے‘‘۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ نہ میں سب سے اچھا ہوں اور نہ سب سے اچھے انسان کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

بندر، خرگوش اور لومڑی

بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔

ایلیئنز کی واپسی

آج حاشر نے سکول سے گھر آکر خاموشی سے بیگ ایک طرف رکھا اور سیدھا نماز ِ ظہر کی ادائیگی کیلئے کپڑے بدل کر وضو کرنے لگا۔ اس کو یوں اچانک خاموش اور پھر نماز پڑھتا دیکھ کر دادی اور امی بہت حیران ہوئیں کہ حاشر تو بہت شرارتی ہے، اسے آج کیا ہو گیا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

سمندر کا فرش کس طرح کا ہے؟

قصور میرا نہیں اس بار

زندگی کے دن ہیں چارمانگ نہ تو کبھی اُدھار