پانی نعمت ہے!

تحریر : نعیم انصر ہاشمی، جھنگ صدر


اللہ تبارک تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ رب تعالیٰ کی یہ نعمتیں ہم سے چھن جائیں (خدانخواستہ) تو ہم شاید ہی اپنی زندگی بہتر انداز سے گزار سکیں۔

اللہ تعالیٰ کی ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنا ہم پر فرض ہے۔ نعمت کیا ہے؟ اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام میں دی ہوئی چیزیں جنہیں ہمیں زندہ رہنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ہوا، پانی، درخت، اناج، سورج، چاند، یہ سب اللہ تعالیٰ کا انعام ہیں۔ زندگی میں پل پل ہمیں اللہ پاک کی دی ہوئی ہر نعمت کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔

ساتھیو! ہم پانی کی مثال لیں تو پانی انسانی، حیوانی زندگی ہی کیلئے نہیں بلکہ نباتاتی حیات کیلئے بھی اشد ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہم انسان تو کیا چرند پرند، درند حتیٰ کہ کوئی بھی جاندار جو سانس لیتے ہیں پانی کے بغیر ان کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔پانی اللہ پاک کی ایک نایاب ترین نعمت ہے اس تحفہ کی قدر کرنا ہم پر واجب ہے۔ 

بچو! آپ سنتے ہی ہوں گے کہ آنے والے چند سال میں پانی دنیا سے انتہائی کم ہونے جا رہا ہے۔ ہم پانی کے ذخائر کم ہونے کی خبریں اخبار، ٹی وی پر سنتے اور دیکھتے ہیں۔ ہمیں پانی کے ضیاع کو بچانا ہے۔ پانی کا استعمال احتیاط سے کرنا ہے۔ 

پوری دنیا خصوصاً پاکستان میں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ اس قلت اور کم ہوتے پانی کو پورا کرنے کیلئے ڈیم بنانا اشد ضروری ہے۔ تقریباً دنیا کا ہر ملک ڈیم بنانے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے۔ تاکہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں مزید ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ وطن عزیز میں ڈیموں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے لہٰذا حکومت وقت کو اس طرف توجہ دینی ہو گی تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے پانی وافر ذخیرہ کیا جا سکے۔ 

بچو! آپ اپنے سکول میں پانی کی اہمیت اور اس کے بہتر استعمال کرنے کے موضوع پر ساتھیوں سے بات چیت کریں اور پانی کی اہمیت اور کمی کے بارے میں ایک دوسرے سے اظہار خیال کریں۔ اس سلسلے میں آپ اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی حاصل کرکے اقدامات اور مشورے تجویز کریں اور ان تجاویز اور مشوروں کو سوشل میڈیا شیئر کریں۔ شاید آپ کے پانی کے متعلق خیالات اور اظہار رائے سے حکومتِ وقت اس طرف توجہ دے کر ملک میں مزید ڈیم بنائے تاکہ بارشوں کے پانی کومحفوظ کیا جا سکے۔ بچوں! آپ کا یہ پہلا قدم شاید حکومتِ وقت کو اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دے۔ 

پانی کی اہمیت اور قدر کتنی ہے اس بات کا اعتراف تو ہم کرتے ہیں، لیکن پانی کو ضائع کرنے میں ہم بڑے بچے سب برابر ہیں۔ جتنا پانی غسل کیلئے درکار ہے اس سے بڑھ کر استعمال کرنا، نل کھلا چھوڑنا اس کو اچھی طرح بند نہ کرنا ہماری پختہ عادت بنتی جا رہی ہے۔

 ہمیں پینے کیلئے جتنا پانی چاہئے اس سے زیادہ گلاس میں پانی نہ ڈالیں۔ اگر نہانے کیلئے ایک بالٹی پوری ہو سکتی ہے تو زیادہ پانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ہاتھ دھونے کیلئے کم سے کم پانی استعمال کریں۔ اس پر عمل کریں اور ساتھیوں، بہن بھائیوں اور پڑوسیوں حتیٰ کہ اپنے بڑوں کو بھی پانی کے بے دریغ استعمال سے اجتناب کرنے پر آمادہ کریں۔ خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی ترغیب دیں۔ 

پانی کا استعمال محتاط اور حد میں رہ کر کریں۔ پانی بچائیں،زندگی پائیں،راحت پائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستان کرکٹ:کامیابیوں کاسفر

نومبر کا مہینہ پاکستان کرکٹ کیلئے غیر معمولی اور یادگار رہا

35ویں نیشنل گیمز:میلہ کراچی میں سج گیا

13 دسمبر تک جاری رہنے والی گیمزمیں مردوں کے 32اور خواتین کے 29 کھیلوں میں مقابلے ہوں گے

کنجوس کا گھڑا

کسی گاؤں میں ایک بڑی حویلی تھی جس میں شیخو نامی ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ شیخو بہت ہی کنجوس تھا۔ اس کی کنجوسی کے قصے پورے گاؤں میں مشہور تھے۔ وہ ایک ایک پائی بچا کر رکھتا تھا اور خرچ کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے تھے، کھانا وہ بہت کم اور سستا کھاتا تھا۔

خادمِ خاص (تیسری قسط )

حضرت انس رضی اللہ عنہ بہترین تیر انداز تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کا تیر راہ سے بھٹکا ہو، وہ ہمیشہ نشانے پر لگتا تھا۔ انہوں نے ستائیس جنگوں میں حصہ لیا۔ تُستَر کی جنگ میں آپ ؓ ہی نے ہر مزان کو پکڑ کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں پیش کیا تھا اور ہر مزان نے اس موقع پر اسلام قبول کر لیا تھا۔

فوقی نے اک چوزہ پالا

فوقی نے اک چوزہ پالا چوں چوں چوں چوں کرنے والا اس کی خاطر ڈربہ بنایا

’’میں نہیں جانتا‘‘

ایک صاحب نے اپنے بیٹے کا ٹیسٹ لینا چاہا۔ فارسی کی کتاب الٹ پلٹ کرتے ہوئے وہ بیٹے سے بولے ’’بتاؤ ’’نمید انم‘‘ کے معنی کیا ہوتے ہیں؟‘‘۔