مجید امجد کی شاعری: مرغزاروں اور سبزہ زاروں کا لینڈ سکیپ

تحریر : ڈاکٹراظہر حسین


مجید امجد کی شاعری میں یوں تو کئی موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ ان کی نظموں میں عشق و مستی کی کیفیات سے لے کر عصری اور عمرانی شعور کے تذکرے موجود ہیں لیکن ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو مقامی تہذیب و ثقافت اور اپنے جغرافیے سے جڑت اور محبت کا پہلو ہے۔

 مجید امجد کی شاعری کا یہ پہلو اپنی مقامیت سے وابستہ ہے۔ مجیدا مجد کا دورنو آبادیاتی اور جدیدیت کا دور ہے اس دور میں مجید امجد کو پورا ادراک تھا کہ اردو ادب میں نو آبادیاتی اور جدیدیت کے مطالعات میں ایک مقامی پہلو بھی ہے جس کو اجاگر کرنے سے اپنی شناخت اور پہچان کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مجیدامجد نے اپنے ہم عصروں سے ہٹ کر اپنے لیے وادی سندھ کی سرزمین کا انتخاب کیا، وادی سندھ کی قدیم تہذیب و تمدن کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی شاعری کو مقامیت کی مربوط بنیاد پر استوار کیا۔

جدید اردو نظم کی جمالیات و شعریات چارا ہم ثقافتی چشموں سے سیراب ہوئی ہے۔ حجاز ،قدیم ہندوستان اور وادی سندھ ، خصوصاً پنجاب۔اقبال کی نظم حجاز کی طرف رجوع کرتی ہے،راشد کی نظم عجم کی جانب جھکاؤ رکھتی ہے۔ میرا جی کی نظم کا بڑا حصہ قدیم ہندوستان کی اساطیری فضا سے رشتہ قائم کرتا ہے اور مجید امجد کی نظم بڑی حد تک وادی سندھ کی تہذیب سے رشتہ  استوار کرتی ہے۔ مجید امجد کی زندگی کا بیشتر حصہ جھنگ اور ساہیوال میں گزرا۔انہوں نے ان دونوں خطوں کی تہذیب، ثقافت اور لینڈ سکیپ کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔اگر چہ مجید امجد کی نظموں میں کثیر الجہات موضوعات کا تنوع موجود ہے لیکن ان کی شاعری کا ایک رُخ جو مقامی سرزمین سے والہانہ عقیدت کے ساتھ اشعار میں ڈھلتا ہے، یہی رخ دراصل ان کی شاعری کی اٹھان کا رخ ہے۔ وہ اپنے شہر کو جب اپنی پہچان کا حوالہ گردانتے ہیں اور مٹی کے رنگوں میں ڈوب کر نخل سر سبز کو اپنی دھرتی سے ابھارتے ہیں۔ اپنے لینڈ سکیپ، اپنے پیڑ پودوں میں بیٹھ کر اپنی مٹی کی تاثیر سے انہوں نے جو نظمیں تخلیق کیں وہ  شاعر کی کھوئی ہوئی پہچان کا نیا حوالہ بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔یہی ان کی اٹھان کا پہلا مقام ہے جہاں وہ ایک طرف دائمی غم سے اور دوسری طرف زمین اور مٹی سے ابد اور ابد سے بچھڑے ہوئے موجود لمحے سے پیمان وفا باندھتے ہیں۔ یہیں پر وہ جھنگ کواپنی پہچان کا پہلا حوالہ تسلیم کرتے ہیں اور مٹی کے باطن میں جھانک کر اپنے وجود کے استعارے تلاش کرتا ہے۔ 

مجید امجد کی بیشتر نظموں میں مقامی رنگ پوری حدت کے ساتھ موجود ہے۔ مجید امجد کی علاقائی یا مقامی تہذیب سے جڑت دراصل ان کی اپنی دھرتی یعنی وادی سندھ سے رغبت کا اعلان ہے۔ان کی نظموں میں پنجاب کی دیہاتی فضاؤں ، موسموں ، مقامی پودوں، درختوں فصلوں اور پرندوں کا احوال دراصل اپنی دھرتی اور اپنی مٹی سے عقیدت کا اظہار ہے۔ مجید امجد نے  اپنی شاعری کا رشتہ اپنی مقامی ثقافت اور مقامی لوگوں کی بولیوں کے تال میل سے اخذ کیا۔انہوں نے اردو میں شاعری کرنے کے باوجود فارسی اور عربی زبانوں سے رجوع کرنے کی بجائے اپنے مقامی خطے اور اپنے مقامی جغرافیے کو اہمیت دی۔ ساہیوال میں رہتے ہوئے انہیں ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی اہمیت کا اندازہ تھا اس لیے انہوں نے اپنی نظموں میں مقامیت کو  فروغ دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی تہذیب و تمدن کسی بھی خطے کی تہذیب و تمدن سے کم تر نہیں۔ انہیں اپنے قدیم جغرافیائی لینڈ سکیپ کا احساس تھا جس کی بدولت انہوں نے اپنی نظموں میں اپنے پاؤں کے نیچے بچھی ہوئی زمین کا تذکرہ کیا۔ان کی زندگی کا بیشتر حصہ جھنگ اور ساہیوال میں گزرا ، ان دونوں شہروں کا لینڈ سکیپ ان کی شاعری میں در آیا ہے، پھر دیارِ جھنگ کی عطا کردہ وارنگی کا ذکر بھی مجید امجد نے کیا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو وہ اپنی دھرتی کے ساتھ جڑے ہوئے شاعر ہیں۔ یہاں کے موسم ، یہاں کے رنگ ، یہاں کے میلے اور ان میلوں کے مناظر کو انہوں نے بڑے قریب سے محسوس کیا ہے، اس لیے مجید امجد کو مقامی تہذیب کا نمائندہ قرار دیا گیا۔

بہت سے ناقدین نے مجید امجد کو مقامی تہذیب کا نمائندہ قرار دیا ہے۔ اسی حوالے سے ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں : مجید امجد کی نظموں میں جو لینڈ سکیپ ہمارے سامنے آتا ہے وہ استاد اللہ بخش کی پینٹ کی ہوئی تصویر کی طرح دیہاتی وضع کا ہے۔ اس میں روشنیوں اور سایوں کا خوشگوار امتزاج موجودہے۔ لیکن تاریکی روشنی پر غالب نہیں آتی اور تابناک اجالا آنکھوں کو اندھا نہیں کرتا۔ ندی میں پانی مسلسل بہہ رہا ہے لیکن یہ کناروں کو نہیں کا ٹتااور اس کی روانی سماعت پر بار نہیں بنتی۔ یہ باغوں ، مرغزاروں اور سبزہ زاروں کا لینڈ سکیپ ہے جس کے درختوں کی شاخیں پھولوں سے لدی ہوئی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستان کرکٹ:کامیابیوں کاسفر

نومبر کا مہینہ پاکستان کرکٹ کیلئے غیر معمولی اور یادگار رہا

35ویں نیشنل گیمز:میلہ کراچی میں سج گیا

13 دسمبر تک جاری رہنے والی گیمزمیں مردوں کے 32اور خواتین کے 29 کھیلوں میں مقابلے ہوں گے

کنجوس کا گھڑا

کسی گاؤں میں ایک بڑی حویلی تھی جس میں شیخو نامی ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ شیخو بہت ہی کنجوس تھا۔ اس کی کنجوسی کے قصے پورے گاؤں میں مشہور تھے۔ وہ ایک ایک پائی بچا کر رکھتا تھا اور خرچ کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے تھے، کھانا وہ بہت کم اور سستا کھاتا تھا۔

خادمِ خاص (تیسری قسط )

حضرت انس رضی اللہ عنہ بہترین تیر انداز تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کا تیر راہ سے بھٹکا ہو، وہ ہمیشہ نشانے پر لگتا تھا۔ انہوں نے ستائیس جنگوں میں حصہ لیا۔ تُستَر کی جنگ میں آپ ؓ ہی نے ہر مزان کو پکڑ کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں پیش کیا تھا اور ہر مزان نے اس موقع پر اسلام قبول کر لیا تھا۔

فوقی نے اک چوزہ پالا

فوقی نے اک چوزہ پالا چوں چوں چوں چوں کرنے والا اس کی خاطر ڈربہ بنایا

’’میں نہیں جانتا‘‘

ایک صاحب نے اپنے بیٹے کا ٹیسٹ لینا چاہا۔ فارسی کی کتاب الٹ پلٹ کرتے ہوئے وہ بیٹے سے بولے ’’بتاؤ ’’نمید انم‘‘ کے معنی کیا ہوتے ہیں؟‘‘۔