سردی میں خشک جلد کی حفاظت کیسے کریں؟

تحریر : سارہ خان


سردی کی آمد جہاں ٹھنڈک کا احساس لاتی ہے وہیں جلد کے لیے مشکلات بھی کھڑی کرتی ہے۔ موسم سرما میں فضا میں نمی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث جلد زیادہ تیزی سے پانی کھو دیتی ہے اور اس کی بیرونی حفاظتی تہہ متاثر ہوتی ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ لوگ اس موسم میں جلد خشک ہونے کی شکایت زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر چند سادہ اصول اپنائے جائیں تو نہ صرف جلد کی خشکی کو روکا جا سکتا ہے بلکہ جلد کو صحت مند، نرم اور چمکدار بھی رکھا جا سکتا ہے۔

موئسچرائزر کا انتخاب

خشک جلد کے مسئلے کا سب سے اہم حل اچھا موئسچرائزر ہے۔ ایسی پروڈکٹس استعمال کریں جن میں ہائیالورونک ایسڈ ،گلیسرین ،شی بٹر اور کوکو بٹر ،پیٹرولیم جیلی یا ویسلین شامل ہو۔غسل یا چہرہ دھونے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگانا سب سے مؤثر ہے کیونکہ اس وقت جلد میں ہلکی نمی ہوتی ہے جو بہتر طریقے سے جذب ہوتی ہے۔

زیادہ گرم پانی سے پرہیز

سردیوں میں اکثر لوگ نہانے یا ہاتھ دھونے کے لیے بہت گرم پانی استعمال کرتے ہیں لیکن یہ جلد کی قدرتی چکنائی کو ختم کر  دیتا ہے جس سے خشکی بڑھ جاتی ہے۔ بہتر ہے کہ نیم گرم پانی استعمال کریں اور نہانے کا دورانیہ بھی پانچ سے 10 منٹ تک محدود رکھیں۔بازار میں موجود بہت سے صابن جلد کو سختی سے صاف کرتے ہیں اور اس کی نمی چھین لیتے ہیں۔ سردیوں میں ایسے صابن یا فیس واش استعمال کریں جوSoap-free ہوں،خوشبو سے پاک ہوں اورجلد کو خشک نہ کریں۔کریم بیسڈ کلینزر سردیوں میں بہترین انتخاب ہیں۔موئسچرائزر کے ساتھ ساتھ باڈی آئل اور فیشل سیرم بھی خشک جلد کے لیے فائدہ مند ہیں۔ غسل کے فوراً بعد ہلکی نمی والی جلد پر باڈی آئل لگائیں۔ یہ جلد کی بیرونی تہہ میں مضبوط تحفظ بناتا ہے۔چہرے کے لیے وٹامن E، سکوایلین یا ہائیالورونک ایسڈ والے سیرم بہترین ہیں۔

سردیوں میں ہیٹر کا استعمال کمرے کی نمی کم کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں جلد تیزی سے خشک ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہومیڈیفائر کا استعمال بہترین حل ہے۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو کمرے میں پانی سے بھرا برتن رکھیں۔کپڑے خشک کرنے کے لیے گھر کے اندر لٹکائے جائیں تو بھی ماحول میں نمی پیدا ہوتی ہے۔سردیوں میں پیاس کم لگتی ہے مگر جسم کو پانی کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی گرمیوں میں۔ کم پانی پینے سے جلد اندرونی طور پر خشک ہوتی ہے۔ دن میں کم از کم چھ سے آٹھ گلاس پانی پئیں۔ ہربل چائے،سوپ بھی پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔جلد کی نمی کے لیے صرف بیرونی دیکھ بھال کافی نہیں۔ خوراک میں صحت مند چکنائیاں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً اخروٹ، بادام، مچھلی، سیڈز، زیتون اور زیتون کا تیل یہ تمام غذائیں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہیں جو جلد کی قدرتی لچک اور نمی کو برقرار رکھتے ہیں۔یہ غلط فہمی عام ہے کہ سردیوں میں دھوپ کا اثر کم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الٹرا وائلٹ شعاعیں ہر موسم میں موجود رہتی ہیں۔

 خشک جلد اکثر حساس بھی ہوتی ہے، اس لیے باہر جانے سے 20 منٹ پہلے SPF 30 یا اس سے زیادہ والا سن سکرین لگانا ضروری ہے۔ سردیوں میں جسم کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حصے ہونٹ،ہاتھ اورایڑیاں ہیں،ان پر خصوصی توجہ دیں۔ہونٹوں پر بار بار لِپ بام لگائیں۔ہاتھ دھونے کے بعد لازمی ہینڈ کریم استعمال کریں۔ایڑیوں پر رات سونے سے پہلے ویسلین یا موئسچرائزنگ کریم لگا کر موزے پہن لیں۔سردی اگرچہ خشک جلد کے مسائل بڑھا دیتی ہے لیکن مناسب احتیاط اور روزمرہ معمول میں کچھ تبدیلیاں لا کر اس مسئلے کو مکمل طور پر قابو کیا جا سکتا ہے۔ موئسچرائزنگ، مناسب صفائی، صحت مند خوراک اور پانی کا استعمال وہ بنیادی اصول ہیں جو جلد کو سردیوں میں بھی نرم، ملائم اور تروتازہ رکھتے ہیں۔ جلد کی مستقل دیکھ بھال نہ صرف خوبصورتی کے لیے ضروری ہے بلکہ مجموعی صحت کا بھی حصہ ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق اللہ کے ذمہ:آغازِ پارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘ وہ، اُس کے قیام کی جگہ (اس سے مراد باپ کی پُشت یا ماں کا رَحم یا زمین پر جائے سکونت ہے) اور سپردگی کی جگہ (اس سے مراد مکان یا قبر ہے)، سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق منجانب اللہ:اس پارے کا آغاز سورۂ ہود سے ہوتا ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں‘ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔