حرام خوری: ایمان اور اخلاق کیلئے زہرِ قاتل

تحریر : مفتی محمدوقاص رفیع


’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاو‘‘ (النساء) ’’اللہ کی قسم! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اُس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘(معجم طبرانی)منہ میں خاک ڈال لینا اِس سے بہتر ہے کہ کوئی شخص حرام مال اپنے منہ میں ڈالے‘‘ (شعب الایمان)

قرآنِ مجید ا ور ا حادیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺ نے ایمان والوں کو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز اور ناحق طور پر کھانے سے بڑی سختی سے منع کیا ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ! مگر یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو(تو وہ جائز ہے)‘‘(سورۃ النساء:29)۔ علماء نے ناحق طریقے سے مال کھانے کے ضمن میں بے شمار چیزیں ذکر کی ہیں، جن میں سے ڈکیتی،چوری، رشوت، سود، جوا،غصب، خیانت ، ناپ تول میں کمی بیشی،دھوکہ دہی،ذخیرہ اندوزی ، مالِ یتیم میں خرد برد اور جھوٹی قسم سے حاصل کیا گیا مال سر فہرست ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’لوگ لمبی لمبی دُعائیں مانگتے ہیں، حالانکہ اُن کی حالت یہ ہے کہ اُن کا کھانا حرام کا ہوتا ہے، اور اُن کا کپڑا حرام کا ہوتا ہے، پھر ایسے لوگوں کی دُعا کیوں کر قبول ہوسکتی ہے؟‘‘ (مسلم، ترمذی)۔ 

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے عرض کیا کہ ’’یارسول اللہ ﷺ میرے لئے دُعاء کیجئے کہ میں ’’مستجاب الدعوات‘‘ ہو جاؤں‘‘ آپﷺنے فرمایا کہ ’’اپنے کھانے کو پاک کرو، اللہ کی قسم! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اُس کا عمل قبول نہیں کرتا۔ جس شخص کا بدن حرام مال بڑھا تو اُس کا بدلہ سوائے جہنم کے اورکچھ بھی نہیں ہے‘‘ (معجم طبرانی)۔ 

حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے دس درہم کا لباس خریدا، لیکن اُس میں ایک درہم حرام کا تھا، تو جب تک یہ لباس اُس کے بدن پر رہے گا، اُس کی نماز قبول نہیں ہو گی‘‘ (مسند احمد)۔

 حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی روایت میں ہے کہ ’’جس نے حرام مال سے کرتا (قمیص) پہنی تو اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔(مسند بزاز)، حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’منہ میں خاک ڈال لینا اِس سے بہتر ہے کہ کوئی شخص حرام مال اپنے منہ میں ڈالے‘‘ (مسند احمد)۔

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اگر کسی نے حرام مال جمع کیا، پھر اُس میں سے زکوٰۃ ادا کی یا صدقہ دیا، تو اُس کا اِس کا کچھ اجر نہیں ملے گا، بلکہ اُلٹا اُس کو اِس کا وبال ہوگا‘‘(بخاری، مسلم)۔ حضرت قاسم بن مخیرہؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے حرام ذریعہ سے مال جمع کیا ، پھر اُس میں سے صدقہ کیا، یا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صرف کیا، یا قرابت داروں پر خرچ کیا یا اُس سے غلام آزاد کیا، تو بجائے اجر کے اِس پر اُس کو وبال ہو گا اور وہ شخص جہنم میں داخل کیا جائے گا۔

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ:حضورِ اقدس ﷺنے ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والوں کو فرمایا کہ تم ایسا کام کر رہے ہوجس سے پہلی اُمتیں ہلاک ہوچکی ہیں (جامع ترمذی)۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ناپ تول میں کمی بیشی سے ’’قحط‘‘ پڑ جاتا ہے، جس طرح بدکاری کی کثرت سے ’’طاعون‘‘ مسلط ہوجاتا ہے (ابن ماجہ، بزاز، بیہقی)۔

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے(صحیح مسلم)۔ حضرت ابن مسعودؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دھوکہ اور فریب میں (لے جانے والے) ہیں‘‘ (معجم طبرانی)۔ حضرت ابن مسعوؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سوکھے گیہوں اوپر رکھ چھوڑے تھے اور گیلے اندر کردیئے تھے، تو آپ نے ہاتھ سے اُٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘ (صحیح مسلم ،ابن ماجہ)۔

حافظ ابن حجر مکیؒ نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے تجارت میں اپنے ایک شریک کے پاس کپڑا بھیجا اور بتایا کہ کپڑے میں عیب ہے، خریدار کو عیب سے آگاہ کردینا، اُس نے وہ کپڑا فروخت کیا، لیکن خریدار کو عیب بتلانا بھول گیا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو جب معلوم ہوا اُس سے حاصل ہونے والی ساری قیمت صدقہ کردی، جس کی قیمت تین ہزار درہم تھی۔ (الخیرات الحسان)

حضرت معمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایاکہ غلہ گرانی کیلئے وہی شخص روکتا ہے جو گناہ گار اور خطا کار ہوتا ہے‘‘ (جامع ترمذی)۔ حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے چالیس دن سے زیادہ ’’غلہ‘‘ کو روکا تو اللہ تعالیٰ کا اُس سے کوئی واسطہ نہیں‘‘ (بزاز، ابویعلیٰ)۔ حضرت عمر فاروقؓ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’غلہ کو روکنے والا ملعون ہے‘‘ (ابن ماجہ)۔ 

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص غلہ کی گرانی میں کوشش کرتا ہے اور نرخ میں دخل اندازی کرکے غلہ کا بھاؤ مہنگا کردیتا ہے تو ایسا شخص اِس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تہہ میں ڈالے‘‘ (ابو داؤد)۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جو شخص شدید ضرورت کے وقت غلہ کو روکے گا ، تو اللہ تعالیٰ اُس کو ’’جذام‘‘ اور ’’افلاس‘‘ میں مبتلا کردے گا‘‘ (ابن حبان)۔

حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: ’’بائع اور مشتری جب سچ بولتے ہیں تو برکت ہوتی ہے۔ جب کچھ چھپاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں تو برکت ختم ہو جاتی ہے۔ جھوٹی قسم سے مال تو بک جاتا ہے مگر برکت ختم ہوجاتی ہے‘‘(صحیح بخاری ومسلم)۔

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشا د فرمایا کہ: ’’جو شخص جھوٹی قسم کھاکر مال فروخت کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کی طرف نظر بھر کر بھی نہ دیکھے گا‘‘ (صحیح  بخاری)۔ حضرت سلمانِ فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشا د فرمایا : ’’بوڑھا زناکار، جھوٹی قسم کھاکر مال فروخت کرنے والا اور فقیر متکبر اِس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھے‘‘(معجم طبرانی)۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ کوفہ میں ’’مستجاب الدعوات‘‘ لوگوں کی ایک جماعت تھی، جب کوئی حاکم اُن پر مسلط ہوتا ، اُس کیلئے بد دُعا کرتے وہ ہلاک ہوجاتا۔ حجاج ظالم کا جب وہاں تسلط ہوا تو اُس نے ایک دعوت کی، جس میں اُن حضرات کو خاص طور سے شریک کیا اور جب کھانے سے فارغ ہوچکے تو اس نے کہا کہ میں اِن لوگوں کی بد دُعا سے محفوظ ہوگیا کہ حرام کی روزی اُن کے پیٹ میں داخل ہوگئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق اللہ کے ذمہ:آغازِ پارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘ وہ، اُس کے قیام کی جگہ (اس سے مراد باپ کی پُشت یا ماں کا رَحم یا زمین پر جائے سکونت ہے) اور سپردگی کی جگہ (اس سے مراد مکان یا قبر ہے)، سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق منجانب اللہ:اس پارے کا آغاز سورۂ ہود سے ہوتا ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں‘ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔