رسا چغتائی:حیرت و محبت کے بے کراں شاعر
انہوں نے اپنی شاعری میں کسی قسم کا دعویٰ کیا اور نہ ہی کسی کی اندھی تقلید کی:ان سے ملنے والوں کے بقول ایسا لگتا تھا کہ جیسے آپ کسی درویش سے مل رہے ہیں‘ ایسے درویش سے جسے اپنے عہد کے وجدان نے بھی عجیب تر بنا دیا ہے،ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کہتے ہیں کہ رسا کے خیالات میں ایک اجتماعی شعور ہے‘ اپنے دور کے مسائل اور معاملات ان کے سامنے ہیں اور ان سب کے بارے میں ان کا ایک اپنا ردعمل ہے
زندگی نامہ، رسا چغتائی
اصل نام: مرزا محتشم علی بیگ
قلمی نام :رسا چغتائی
والد کا نام: مرزا محمود علی بیگ
تاریخ پیدائش: 11مارچ 1928ء
ابتدائی تعلیم: اپنے تایا مرزا محمد علی بیگ سے حاصل کی۔
پرائمری: سرکاری سکول بمقام سوائی مادھو پور، ریاست جے پور
میٹرک: اینگلو مڈل سکول سوائی مادھوپور اور یہی سکول بعد میں میٹرک تک ہو گیا۔
ملازمت : پہلی ملازمت بطور استاد، مادھو پور، دوسری ڈی سی آفس میںجنوری 1956 تیسری ملازمت بطور پیش کار سٹی کورٹ کراچی۔کراچی کے ایک بڑے اخبار سے بھی منسلک رہے اور یہ ان کی آخری ملازمت تھی۔
ہجرت: 1950ء
شاعری:شاعری کی ابتدا 1942ء میں کی ( اپنے رشتے کے بھائی بینش سلیمی سے اصلاح لی)۔پہلا مشاعرہ 1957ء میں پڑھا۔
تاریخ وفات : 5جنوری2018ء
اعزازات: صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی 2001ء
شعری مجموعے
1۔ریختہ ،1975ء
2۔ زنجیر ِہمسائیگی،1983-84ء
3۔تصنیف، 1986ء
4۔چشمہ ٹھنڈے پانی کا، 1999ء
5تیرے آنے کا انتظار رہا، 2000ء
٭٭٭
رساچغتائی ایک فرد نہیں ایک رچی بسی تہذیب اور ایک زندہ تاریخ کی علامت تھے۔ بقول ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی وہ مجموعہ کمالات تھے۔ان کی شاعری حسن بے مثال اور خوبصورت و دلکشی سے لبریز دریا کی مثال ہے جس میں حیرت و رمزیت کی لہریں سیال آئینوں کی طرح دمکتی ہیں۔ شاعرانہ احساسات اور جمالیات پراسراریت و حیرت کی اس عمیق اور بسیط فکر کو مکمل داخلی کیفیت اور وفور کے ساتھ شاعری میں ڈھالنا ناممکن ہے مگر رسا چغتائی نے ایسا کر دکھایا اور شاعری کو ساحری بنا دیا۔ بقول فراق ،یہ سعادت داخلی ریاضت سے پیدا ہوتی ہے۔ معلوم سے موہوم، موہوم سے نامعلوم کی سمت ، امکاں در امکاں، زمان و مکاں سے مکالمہ کرتی اسرار ورموز، جہات و کائنات کو دامن میں سمیٹتی شاعری داخلی و خارجی رشتوں کو مربوط کرتی، جذبوں کی تطہیر کرتی شاعری، ایسی خیال آفرینی اور ایسی تازہ کاری جو خیال و فکر کے ایوان جگمگا دے۔ رسا کی شاعری روایتی غزل سے تعلق رکھتے ہوئے اپنے اسرار و رموز ، فصاحت و بلاغت، جدت و ندرت، پختگی اور رچائو سے طلوع ہوتی شاعری ہے جس کی اثر انگیزی مثال ہے۔ مصرعے دمکتے چمکتے ہی نہیں لہو میں گھٹکتے ہیں، دل و روح پر اثر کرتے ہیں۔ گہرے عرفان و شعور، روحانی اور وجدانی کیفیت کے ساتھ سوال در سوال ، پرت در پرت، پر اسراریت کی فضا بناتی، دھندلی راہوں کو اجالتی، زندگی کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ رسا کی شاعری، شاعری نہیں ساحری ہے جو حواس پر چھا جاتی ہے، دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں ’’ریختہ‘‘، ’’زنجیر‘‘ ،’’ہمسائیگی‘‘، ’’تصنیف‘‘، ’’ چشمہ ٹھنڈے پانی کا‘‘ اور ’’تیرے آنے کا انتظار رہا‘‘ شامل ہیں ۔جبکہ کلیات بھی شائع ہو چکا جس میں کچھ غیر مدون کلام بھی شامل ہے۔
رسا چغتائی سے ملنے والوں کے بقول ان سے ملتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی درویش سے مل رہے ہیں جسے فقر کے سوا اپنے عہد کے وجدان نے بھی عجیب تر بنا دیا ہے ،وہ اب بھی روایتوں سے لپٹا ہوا ہے۔ اس سے باتیں کیجئے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ ایک مجذوب ہے، تھکا ہارا اور منفرد مگر اس مجذوب پر خدا نے جدیدیت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
مولانا ابو الکلام آزاد لکھتے ہیں کہ تقدیر کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں یعنی کسی چیز کیلئے ایک خاص طرح کی حالت ٹھہرا دینے کے، خواہ یہ ٹھہرائو کمیت کا ہو یا کیفیت کا یعنی فطرت نے ہر وجود کی جسمانی ساخت اور معنوی حیثیت کیلئے ایک خاص طرح کا اندازہ ٹھہرا دیا ہے جس سے وہ باہر نہیں جا سکتا۔ یہ اندازہ ایسا ہے جو اس سے مکمل مناسبت رکھتا ہے۔تقدیر کا احساس رسا چغتائی کے ایسے سارے اشعار کو جنم دیتا ہے، زندہ رکھتا ہے اور ہم تک پہنچاتا ہے۔ تقدیر کا یہ احساس دوسروں کے یہاں المناک ہے لیکن رسا کے یہاں ٹریجک نہیں حیرت ناک ہے، اس کے ہاں تقدیر ایک عالم امکان بھی ہے۔ رسا چغتائی کی شاعری کا نمایاں جوہر جو ہمارے سامنے آیا ہے وہ انسان اور اس کی کائنات کی تقدیر کا انکشاف ہے، مگر یہ انکشاف شاعری کی زبان میں ہوا ہے۔ یہی تقدیر کا انکشاف رسا کی شاعری کا اصل حسن بھی ہے۔
ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کہتے ہیں کہ میں رسا کو اُردو کے اکابر شعرا کے مقابلے میں لا کر نہ اُن سے ان کی انفرادیت اور شخصیت چھین لینا چاہتا ہوں اور نہ زبردستی ان کو وہاں بٹھانا چاہتا ہوں جہاں پہنچنے کیلئے انہیں ابھی مشق و محنت اور ریاض کی ضرورت ہے۔ ہاں میں ان کو ان کا حق دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے سوچ سمجھ کر کہا ہے، محسوس کرکے کہا ہے اور وہی بات کہی ہے جو کہنے کے لائق ہے۔ا نہوں نے کسی قسم کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ اندھی تقلید کی ہے۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ ان پر فلاں شاعر اعظم کا بڑا اور گہرا اثر ہے، یا انہوں نے فلاں شاعر کی پیروی کی ہے اس لئے برا یا بھلا جو بھی ان کا رنگ ہے وہ ان کا اپنا رنگ ہے۔ ان کے خیالات میں ایک اجتماعی شعور ہے۔ اپنے معاشرے کے دکھ کا احساس ہے۔ اپنے دور کے مسائل اور معاملات ان کے سامنے ہیں اور ان سب کے بارے میں ان کا ایک اپنا ردعمل ہے۔ اس ردعمل میں مجھے مستقبل میں یقین کے ساتھ حال میں افسردگی کا جذبہ زیادہ نظر آتا ہے۔ یہ معاملہ ادب میں بالکل شخصی اور انفرادی ہوتا ہے۔ افسردگی کا یہ جذبہ 1947ء کے بعد کی اکثر اردو شاعری میں ملتا ہے۔ اس جذبے کی بنا صرف یہ احساس ہے کہ آزادی سے عوام کی جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں، لیکن اس افسردگی میں جو دبی آوازیں مستقبل کے انقلاب کی ہیں، وہی زندگی اور شاعری دونوں کو توانائی قوت اور حرارت بخشتی ہیں۔
اپنی ہیئت، اسلوب، رس اور رچائو کے اعتبار سے رسا کی غزلیں اعلیٰ درجے کی ہیں۔ آج کل جو غزلوں میں فیشن کے طور پربڑے شعرا کی کورانہ تقلید میں فلسفے اور حکمت کی اصطلاحوں کی کثرت ملتی ہے وہ غزل کے حسین و جمیل رنگ کو ایک جلال تو بخشتی ہے لیکن غزل ایسے جلال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس میں غزالوں کا خرام اور غنچوں کی مسکراہٹ ہونی چاہیے۔ یہ بات غزل کے موضوع اور اس کے بیان دونوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے اور رسا کی غزلوں میں یہی چیزیں ملتی ہیں۔
غزلیات
ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں
میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں
جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو
میں اُن آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں
خدا جانے مری گٹھڑی میں کیا ہے
نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں
یہ کوئی اور ہے، اے عکسِ دریا!
میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں
نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی
کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں
مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا
کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں
جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے
میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں
نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں
میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں
……………
رات آنکھوں میں ہو بسر کیوں کر
دن گزاریں اِدھر اُدھر کیوں کر
شام ہوتے ہی لوٹ آتے ہیں
طائرانِ شجر شجر کیوں کر
سانس لیتی ہے زندگی کیسے
راہ چلتی ہے رہ گزر کیوں کر
حرف آواز بن گئے کیسے
حرف لکھنا ہوا ہنر کیوں کر
جنگ کیسی ہوا سے ہے اب کے
بے سپر ہو گئے شجر کیوں کر
چل رہا ہے سفینۂ ہستی
بادبانِ خیال پر کیوں کر
میرے دل کو سمجھ لیا تو نے
خانہ آباد اپنا گھر کیوں کر
خواب اپنی زمین کے لکھئے
دامنِ ابر و باد پر کیوں کر
…………
سامنے جی سنبھال کر رکھنا
پھر وہی اپنا حال کر رکھنا
آ گئے ہو تو اس خرابے میں
اب قدم دیکھ بھال کر رکھنا
شام ہی سے برس رہی ہے رات
رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا
عشق کارِ پیمبرانہ ہے
جس کو چھونا مثال کر رکھنا
کشت کرنا محبتیں اور پھر
خود اسے پائمال کر رکھنا
روز جانا اداس گلیوں میں
روز خود کو نڈھال کر رکھنا
اس کو آتا ہے موج مے کی طرح
ساغرِ لب اچھال کر رکھنا
سخت مشکل ہے آئینوں سے رساؔ
واہموں کو نکال کر رکھنا
……………
منتخب اشعار
دل پہ روشن اِک دریچہ کیا ہوا
بند ہم پر گھر کا دروازہ ہوا
اس طرح دیکھا تجھے کل خواب میں
خواب یہ تعبیر کا دھوکا ہوا
……………
کوئی طوفان اس نظر میں تھا
زور اتنا کہاں بھنور میں تھا
……………
بلاتے ہیں کسے پلکوں کے سائے
یہ جھونکا نیند کا کس کے لئے ہے
درختوں کے نہیں دامن تلے کیا
پرندوں کے ہیں جانے مسئلے کیا
……………
اس کو تشویش داستاں میں تھی
اور لکنت مری زباں میں تھی
ایک لپکا سا دھڑکنوں میں تھا
ایک وحشت سی جسم و جاں میں تھی
……………
ہے لیکن اجنبی ایسا نہیں ہے
وہ چہرہ جو ابھی دیکھا نہیں ہے
……………
خو بصورت کلام
تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسم بہار رہا
پا بہ زنجیر زلف یار رہی
دل اسیر خیال یار رہا
ساتھ اپنے غموں کی دھوپ رہی
ساتھ اک سرو سایہ دار رہا
میں پریشان حال آشفتہ
صورت رنگ روزگار رہا
آئنہ آئنہ رہا پھر بھی
لاکھ در پردۂ غبار رہا
کب ہوائیں تہ کمند آئیں
کب نگاہوں پہ اختیار رہا
تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل
تجھ سے مل کر بھی بے قرار رہا