سوئٹر بُننے کا فن: ایک گھریلو روایت جو ماضی کا قصہ بن گئی

تحریر : گل زہرا


سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کبھی گھروں میں ایک خاص رونق ہوا کرتی تھی۔ رنگ برنگے اون کے گولے ، خواتین کے ہاتھوں میں چلتی سلائیاں اور نت نئے ڈیزائن سیکھنے اور تخلیق کرنے کی لگن۔ یہ سب اُس دور کی یادیں ہیں جب سوئٹر ہاتھ سے بُنے جاتے تھے۔

یہ فن نہ صرف موسمِ سرما کی ضرورت تھا بلکہ گھریلو روایت اور ایک طرح سے اسے صنعت کا درجہ حاصل ہو چکا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ ہنر، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا زوال کا شکار ہوتے ہوتے اب تقریباً ماند پڑ چکاہے۔ہمارے معاشرے میں ہاتھوں سے سوئٹر بننا محض ایک ہنر نہیں تھا بلکہ ایک ثقافتی علامت تھا۔ مائیں خالائیں‘ پھوپھیاں‘ آنٹیاں اور دادیاں اپنے بچوں کے لیے محبت کے ساتھ سوئٹر بنتیں، جن میں صرف اون ہی نہیں بلکہ اپنائیت اور محبت بھی بُنی جاتی تھی۔ یہ سوئٹر عام بازار کی اشیا سے مختلف ہوتے تھے۔نہ صرف مضبوط بلکہ جذباتی وابستگی سے بھرپور۔کسی کے بچے کے لیے اپنے ہاتھ سے سویٹر بننا وابستگی اور پیار کے اظہار کا بھر پور ذریعہ تھا ؛چنانچہ سویٹر بنے اور تحفے کے طور پر دیے لیے جاتے تھے۔ مگر اب یہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔

اس فن کے زوال کی سب سے بڑی وجہ مشینی صنعت کا فروغ ہے کہ فیکٹریوں میں تیار ہونے والے دیدہ زیب اور فوری دستیاب سوئٹرز نے ہاتھ سے بُننے کی روایت کو ختم کر دیا ہے۔ ہاتھ سے سوئٹر بننا کئی دنوں کی محنت مانگتا ہے جبکہ مشین چند منٹوں میں درجنوں سوئٹر تیار کر دیتی ہے۔ نتیجتاً صارفین نے قیمت اور سہولت کو ترجیح دی اور ہنر پس منظر میں چلا گیا۔ دوسری اہم وجہ نئی نسل کی عدم دلچسپی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ خواتین اور لڑکیوں کی سلائی کڑھائی سیکھنے میں زیادہ دلچسپی بھی نہیں رہی اور نہ ہی شوق؛چنانچہ جو فن کبھی گھریلو تربیت کا لازمی جزو سمجھا جاتا تھا اب اسے پرانا، وقت طلب اور غیر ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔ معاشی پہلو بھی اس زوال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ افسوس ہے کہ حکومتی اور سماجی سطح پر اس روایتی ہنر کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ نہ تو تربیتی مراکز قائم کیے گئے اور نہ ہی ہاتھوں سے بنے ملبوسات کو فروغ دینے کے لیے منظم پالیسیاں بنائی گئیں۔ اگر دستکاری کو جدید مارکیٹ سے جوڑا جاتا، آن لائن پلیٹ فارمز پر متعارف کرایا جاتا یا برآمدی صنعت کا حصہ بنایا جاتا تو شاید یہ فن آج بھی زندہ ہوتا۔

 ہاتھوں سے بنے سوئٹر صرف ملبوسات نہیں بلکہ ماحول دوست مصنوعات بھی ہیں۔ ان میں نہ تو بھاری مشینری استعمال ہوتی ہے اور نہ ہی صنعتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ فن آج کے ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے اس پہلو کو بھی نظر انداز کیا گیا۔اگرچہ یہ فن تقریباً دم توڑ چکا ہے مگر اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ کچھ دیہی علاقوں اور محدود گھریلو حلقوں میں خواتین آج بھی یہ ہنر جانتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فن کو محفوظ کیا جائے، نئی نسل کو اس سے روشناس کرایا جائے اور اسے محض شوق نہیں بلکہ باعزت روزگار کا ذریعہ بنایا جائے۔

ہاتھوں سے سوئٹر بُننے کا فن ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ اگر ہم نے اسے مکمل طور پر کھو دیا تو یہ صرف ایک ہنر کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ہماری سماجی تاریخ کا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس باب کو محفوظ کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے یا اسے محض یادوں کے سپرد کر دیں گے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ

ملک میں سیاسی استحکام کے لیے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کے بعد کئی اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں مگر اس کے باوجود مذاکراتی عمل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتا ہے۔

ن لیگ اپنی مقبولیت بحال کر پائے گی؟

بلوچ طلبا سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات

سندھ میں امن وا مان کی بحالی کا ٹاسک

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے نئے آئی جی جاوید عالم اوڈھو کو کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن جاری رکھنے اور کراچی سے سٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا کہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر عملدرآمدکے لیے آئی جی سندھ اپنے پہلے دورے پر اندرون سندھ پہنچے ہیں۔

کشمکش اور بداعتمادی کی فضا

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی چھ جنوری کی پریس کانفرنس کے چار نکات خاص طور پر قابل ذکر ہیں، پہلا نکتہ یہ کہ انہوں نے 2025ء کو پالیسی کے حوالے سے شفافیت کا سال قراردیا،یعنی اس سال قوم کو شفاف پالیسی دی گئی جو کسی بھی کنفیوژن سے پاک ہے۔

بلوچستان کا کردار مشعل ِراہ

بلوچستان جو برسوں سے دہشت گردی، بدامنی اور بیرونی سازشوں کا نشانہ بنتا رہا ہے، ریاستی عزم، حکومتی سنجیدگی اور پاک فوج کی قربانیوں کے باعث ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

ایکشن کمیٹی معاہدے پر عملدرآمد،پیش رفت

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیری عوام نے پانچ جنوری کو یوم حقِ خود ارادیت اس عزم کے ساتھ منایا کہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت نہ ملنے تک وہ بھارت کے خلاف جدوجہد آزاد ی جاری رکھیں گے۔