بلوچستان کا کردار مشعل ِراہ
بلوچستان جو برسوں سے دہشت گردی، بدامنی اور بیرونی سازشوں کا نشانہ بنتا رہا ہے، ریاستی عزم، حکومتی سنجیدگی اور پاک فوج کی قربانیوں کے باعث ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
وہ صوبہ جسے ماضی میں کمزور ریاستی گرفت اور انتشار کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں ایک روشن مثال بنتا جا رہا ہے۔منگل کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس میں جہاں دیگر اہم قومی مسائل پر جامع گفتگو کی گئی وہیں بلوچستان بھی توجہ کا مرکز رہا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں اور نیشنل ایکشن پلان کی عملداری کو تفصیل سے بیان کیا جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود اور مؤثر انتظامی عملداری دہشت گرد عناصر کے بیانیے کے اثر کو زائل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان کے فریم ورک کے تحت صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹی، صوبائی سٹینڈنگ کمیٹی، ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی اور ضلعی سطح پر رابطہ و عملدرآمد کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ پالیسی سازی اور نگرانی کیلئے ان کمیٹیوں کے 21 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جن کا مقصد نیشنل ایکشن پلان اور صوبائی فریم ورک پر عملدرآمد میں پیش رفت کو یقینی بنانا تھا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے ذریعے بلوچستان میں مقامی سطح پر گورننس کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔سمگلنگ کے ذریعے دہشت گردی کی فنڈنگ کا خاتمہ بھی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ایرانی ایندھن کی سمگلنگ کم ہو کر اب یومیہ 0.72 ملین لیٹر رہ گئی ہے جو ان اقدامات سے پہلے روزانہ 20.5 ملین لیٹر تھی۔
منشیات کے خاتمے کے حوالے سے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ غیر قانونی معیشت دہشت گردی کی آکسیجن ہوتی ہے، جب ریاست اس کو بند کر دیتی ہے تو دہشت گرد نیٹ ورکس کمزور پڑ جاتے ہیں۔ کالعدم بی ایل اے کے بارے میں یہ حقیقت سامنے لانا کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھ کر کی جاتی ہے، ریاستی بیانیے کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان اب دنیا کے سامنے واضح انداز میں یہ مؤقف رکھ رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا ہدف ہے، محرک نہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو سراہا جانا اسی واضح اور مؤثر پالیسی کا نتیجہ ہے۔ غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف کارروائیاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں کیونکہ اسلحے کی ترسیل روکے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔آج پاکستان بالخصوص بلوچستان اس بات کی عملی مثال بن رہا ہے کہ جب حکومت سیاسی عزم کے ساتھ کھڑی ہو، ادارے ہم آہنگ ہوں اور پاک فوج پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ میدان میں موجود ہو تو دہشت گردی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ بزورِ طاقت بھی لڑی جا رہی ہے اور دانشمندی سے بھی۔ یہی وہ متوازن حکمتِ عملی ہے جو قوم کو فتح کی طرف لے جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے مختلف اجلاس اور حکومتی فیصلے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انتہاپسندی کے خلاف بیانیے کی تشکیل، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنظیمِ نو، صنعتی ترقی کے منصوبے اور شہری انفراسٹرکچر اور مالی حقوق کے معاملات ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ریاست مخالف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا بلوچستان میں محض رائے کا اختلاف نہیں بلکہ براہِ راست امن و امان، سماجی ہم آہنگی اور نوجوان نسل کے مستقبل پر حملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس نکتے پر زور دینا کہ غلط بیانیہ انتشار اور تشدد کو جنم دیتا ہے زمینی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ Balochistan Center of Excellence on Countering Violent Extremismجیسے ادارے کی فعالیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اب صرف سکیورٹی آپریشنز تک محدود نہیں بلکہ فکری، تحقیقی اور آگاہی کے محاذ پر بھی سنجیدگی سے کام کرنا چاہتی ہے۔ نوجوانوں کو درست معلومات، مثبت سوچ اور حقیقت پر مبنی بیانیہ فراہم کیے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔اسی تناظر میں لیویز فورس کا پولیس میں انضمام بھی ایک صائب اقدام ہے۔ برسوں سے بلوچستان میں دو متوازی نظامِ قانون نافذ تھے جس نے انتظامی ابہام کو جنم دیا اور عوامی سطح پر بھی کنفیوژن پیدا کی۔
یکساں قانون کے نفاذ سے ریاستی ذمہ داری واضح ہوئی ہے، اب شہریوں کے تحفظ کا دائرہ زیادہ منظم اور مؤثر ہو سکے گا۔امن و امان اور فکری استحکام کے بغیر معاشی ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے، بلوچستان حکومت اس حقیقت سے آگاہ نظر آتی ہے۔ کم بی ٹی یو گیس پر مبنی صنعتی منصوبوں سے متعلق فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبہ اب اپنے قدرتی وسائل کو خام حالت میں چھوڑنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ صنعتوں کے ذریعے معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے۔ مارگند اور سوئی گیس فیلڈز پر فرٹیلائزر، سیمنٹ، توانائی اور سرامکس جیسی صنعتوں کا قیام روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور صوبے کے لیے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو گا۔ بلوچستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار سے محروم ہے جس کا فائدہ گمراہ کن عناصر اٹھاتے ہیں۔ صنعتی ترقی سے نوجوان کو روزگار ملے تو صوبے کی ترقی کا ہراول دستہ بن سکتے ہیں۔ شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست ماحول کی یقین دہانی بھی ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ ماضی میں سرمایہ کاری کے عمل میں شفافیت کی کمی اعتماد کو نقصان پہنچاتی رہی ہے۔ترقی کا عمل اگر صرف صنعتوں تک محدود رہے اور شہری سہولیات کو نظرانداز کر دیا جائے تو اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے۔ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سوئی جو برسوں سے ملکی توانائی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے طویل عرصے تک بنیادی شہری سہولیات سے محروم رہا۔ سٹریٹ لائٹس، نکاسی آب، صاف پانی، سپورٹس گراؤنڈ اور جدید بس ٹرمینل جیسے منصوبے اس احساسِ محرومی کے ازالے کی عملی کوشش ہیں۔
مرحلہ وار عملدرآمد، شفافیت اور معیار پر زور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔تاہم ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور صنعتی سرگرمیوں کی کامیابی کا انحصار بالآخر مالی وسائل پر ہوتا ہے۔ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ سے متعلق صوبائی حکومت کی تیاری اور مشاورت اس بات کی علامت ہے کہ بلوچستان اب اپنے آئینی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے منظم انداز میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کا یہ کہنا کہ بلوچستان دیگر صوبوں کی نسبت ہر شعبے میں پسماندہ ہے ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ آبادی، رقبہ، پسماندگی اور وسائل جیسے عوامل کو بنیاد بنا کر منصفانہ حصہ مانگنا نہ صرف آئینی حق ہے بلکہ صوبے کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر بھی۔