مینیمل میک اَپ کا بڑھتا رجحان:سادگی میں حُسن

تحریر : افشاں احمد


پچھلی ایک دہائی کے دوران خوبصورتی کے عالمی تصورات میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ وہ دور تیزی سے گزر گیا ہے جب بھاری فاؤنڈیشن، گہرے شیڈز، نمایاں کانٹورنگ اور فل میک اَپ کو خوبصورتی کی واحد علامت سمجھا جاتا تھا۔

 آج دنیا بھر میں نیچرل بیوٹی موومنٹ زور پکڑ رہی ہے جس کا مرکزی خیال مینیمل میک اَپ (Minimal Makeup) ہے۔ یہ رجحان محض فیشن کا بدلتا ہوا انداز نہیں بلکہ خود اعتمادی، ذہنی سکون، صحت مند طرزِ زندگی اور سماجی شعور کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

مینیمل میک اَپ سے مراد ایسا ہلکا پھلکا میک اَپ ہے جو چہرے کی قدرتی ساخت، رنگت اور تاثرات کو برقرار رکھتے ہوئے صرف خوبصورتی کو نکھارے۔ اس میں موٹی تہوں والی فاؤنڈیشن کے بجائے بی بی کریم یا ٹنٹڈ موئسچرائزر، ہلکا سا کنسیلر،  قدرتی شیپ والی آئی بروز، مسکارا کی ایک تہہ اور نیوڈ یا سوفٹ لپ کلرز شامل ہوتے ہیں۔ مقصد چہرے کو بدلا ہوا دکھانا نہیں بلکہ اصل شخصیت کو نمایاں کرنا ہوتا ہے۔اس رجحان کے فروغ میں سوشل میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر اب فلٹرز اور ہیوی ایڈیٹنگ کے بجائے حقیقت سے قریب تصاویر اور ویڈیوز کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ عالمی اور مقامی سیلیبریٹیز، ماڈلز اور انفلوئنسرز بغیر میک اَپ یامینیمل میک اَپ کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کر کے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جلد کے داغ دھبے، فریکلز، باریک جھریاں اور قدرتی رنگت کوئی خامی نہیں بلکہ انسان ہونے کی علامت ہیں۔

نیچرل بیوٹی موومنٹ دراصل غیر حقیقی بیوٹی سٹینڈرڈز کے خلاف ایک مضبوط ردِعمل ہے۔ طویل عرصے تک میڈیا اور اشتہارات نے ایک خاص رنگت، ناک نقشے اور جسمانی ساخت کو خوبصورتی کا معیار بنا کر پیش کیا جس کے نتیجے میں خاص طور پر نوجوان لڑکیاں شدید دباؤ، احساسِ کمتری اور خود سے ناپسندیدگی کا شکار ہوئیں۔ مینیمل میک اَپ کا رجحان اس  نفسیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور یہ سوچ فروغ دیتا ہے کہ خوبصورتی کی کوئی ایک تعریف نہیں۔اس تحریک کا ایک نمایاں پہلو سکن کیئر پر بڑھتا ہوا زور ہے۔ چونکہ مینیمل میک اَپ میں جلد کو زیادہ چھپایا نہیں جاتا اس لیے صحت مند،  صاف اور قدرتی جلد کو بنیادی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ لوگ اب میک اَپ کے بجائے سکن کیئر روٹین پر توجہ دے  رہے ہیں جن میں سن سکرین، کلینزر، موئسچرائزر اور نیچرل سیرمز شامل ہیں۔ بیوٹی انڈسٹری بھی اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے اور اب سکن فرسٹ یامیک اَپ سکن کیئر فارمولیشنز متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ماحولیاتی شعور بھی مینیمل میک اَپ کے بڑھتے رجحان کا ایک اہم سبب ہے۔ کم مصنوعات کا استعمال نہ صرف جلد کے لیے بہتر ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ پلاسٹک پیکجنگ، کیمیکل ویسٹ اور غیر ضروری پروڈکشن میں کمی آتی ہے۔ اسی لیے اب کلین بیوٹی، ویگن، آرگینک اور کرولٹی فری برانڈز کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ یوں قدرتی  خوبصورتی کی یہ تحریک ماحول دوستی اور ذمہ دارانہ استعمال کا پیغام بھی دیتی ہے۔

پاکستان میں بھی یہ رجحان جڑ پکڑ رہا ہے۔ اگرچہ شادی بیاہ اور تقریبات میں اب بھی بھاری میک اَپ مقبول ہے مگر روزمرہ زندگی، دفاتر اور غیر رسمی تقریبات میں نوجوان نسل مینیمل میک اَپ کو ترجیح دے رہی ہے۔ مقامی فیشن بلاگرز اور میک اَپ آرٹسٹس بھی قدرتی لُک کو فروغ دے رہے ہیں جس سے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔مینیمل میک اَپ کا ایک فائدہ وقت اور پیسے کی بچت بھی ہے۔ روزانہ بھاری میک اَپ کرنے کے بجائے چند بنیادی مصنوعات استعمال کر کے انسان خود کو تازہ اور پرُاعتماد محسوس کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف جلد کو سانس لینے کا موقع ملتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کام کرنے والی خواتین اور مصروف طرزِِ زندگی رکھنے والے افراد اس رجحان کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔نیچرل بیوٹی موومنٹ محض ایک فیشن ٹرینڈ نہیں بلکہ ایک مثبت سماجی تبدیلی ہے۔ یہ ہمیں خود کو قبول کرنے، اپنی اصل پہچان پر فخر کرنے اور غیر ضروری ظاہری دباؤ سے آزاد ہونے کا پیغام دیتی ہے۔مینیمل میک اَپ کے ذریعے یہ  احساس  بڑھتا ہے کہ اصل خوبصورتی سادگی، صحت اور خود اعتمادی میں ہے، نہ کہ مصنوعی تہوں اور غیر حقیقی معیار میں۔ یہی سوچ آنے والے وقت میں خوبصورتی کے تصور کو مزید انسانی اور فطری بنا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ

ملک میں سیاسی استحکام کے لیے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کے بعد کئی اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں مگر اس کے باوجود مذاکراتی عمل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتا ہے۔

ن لیگ اپنی مقبولیت بحال کر پائے گی؟

بلوچ طلبا سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات

سندھ میں امن وا مان کی بحالی کا ٹاسک

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے نئے آئی جی جاوید عالم اوڈھو کو کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن جاری رکھنے اور کراچی سے سٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا کہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر عملدرآمدکے لیے آئی جی سندھ اپنے پہلے دورے پر اندرون سندھ پہنچے ہیں۔

کشمکش اور بداعتمادی کی فضا

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی چھ جنوری کی پریس کانفرنس کے چار نکات خاص طور پر قابل ذکر ہیں، پہلا نکتہ یہ کہ انہوں نے 2025ء کو پالیسی کے حوالے سے شفافیت کا سال قراردیا،یعنی اس سال قوم کو شفاف پالیسی دی گئی جو کسی بھی کنفیوژن سے پاک ہے۔

بلوچستان کا کردار مشعل ِراہ

بلوچستان جو برسوں سے دہشت گردی، بدامنی اور بیرونی سازشوں کا نشانہ بنتا رہا ہے، ریاستی عزم، حکومتی سنجیدگی اور پاک فوج کی قربانیوں کے باعث ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

ایکشن کمیٹی معاہدے پر عملدرآمد،پیش رفت

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیری عوام نے پانچ جنوری کو یوم حقِ خود ارادیت اس عزم کے ساتھ منایا کہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت نہ ملنے تک وہ بھارت کے خلاف جدوجہد آزاد ی جاری رکھیں گے۔